صحت کا کروڑوں کا فنڈ بغیر استعمال محکمہ خزانہ کو واپس

صحت کا کروڑوں کا فنڈ بغیر استعمال محکمہ خزانہ کو واپس
صحت کا کروڑوں کا فنڈ بغیر استعمال محکمہ خزانہ کو واپس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ویب ڈیسک)محکمہ صحت کی عد م دلچسپی کے با عث لاہور سمیت پنجاب بھر کے 14 میگا پراجیکٹ فائلوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ، ان منصوبوں کے فنڈز محکمہ خزانہ کو واپس کردئیے گئے۔ اخبار روزنامہ نئی بات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال محکمہ صحت کے کثیر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 22 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا تھا ،محکمہ صحت نے لاہوراور صوبہ بھر کے چودہ اہم منصوبوں پر فنڈز استعمال کیے بغیر ہی واپس کر د ئیے ہیں، محکمہ صحت کی جانب سے شہر میں کینسر ہسپتال، کڈنی اینڈ لیورانسٹیٹیوٹ، ویسٹ مینجمنٹ ہسپتال اور لیڈی ویلنگڈن ہسپتال کی تعمیر نو کی مد میں کروڑوں روپے بجٹ مختص کرایا گیا تھا جبکہ ڈی مونٹ مورینسی کالج آف ڈینٹیسٹری کی تعمیر نو کے منصوبے پر تخمینہ لاگت5 کروڑ تھی۔ محکمہ صحت کی جانب سے ان منصوبوں کے پی سی ون تیار کرلئے گئے تھے لیکن فنڈز مکمل طور پر خرچ نہیں کئے جاسکے۔ محکمہ صحت کے مطابق ان منصوبوں میں کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ پر کام جاری ہے جس پر 50 کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں لیکن مالی سال ختم ہونے کے باعث مختص بجٹ ضائع ہو جانے کا خدشہ تھا، بجٹ کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے محکمہ خزانہ کو واپس کردیا گیا ہے تاکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ فنڈز میسر ہوسکیں۔ کینسر ہسپتال کیلئے 3 کروڑ، لیڈی ولنگڈن کیلئے 8 کروڑ، کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کیلئے 75کروڑ 26 لاکھ روپے، ڈی مونٹ مورینسی کالج آف ڈینٹیسٹری کی تعمیر نو کیلئے 5 کروڑ اور ویسٹ مینجمنٹ ہسپتال کی تعمیر کیلئے مختص 10 کروڑ روپے خرچ کئے بغیر واپس کردئیے گئے۔

مزید : لاہور