وہ گاﺅں جہاں جنات ہر روز ایک انسان کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں

وہ گاﺅں جہاں جنات ہر روز ایک انسان کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں

نئی دلی (نیوز ڈیسک) کہیں ایک انسان کی بھی موت ہو جائے تو مدتوں اس کے دردناک اثرات قائم رہتے ہیں، لیکن ایک ایسے گاﺅں کے درد کا کیا عالم ہوگا کہ جہاں ہر روز ایک انسان کی موت ہورہی ہے۔ یہ انہونی بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے گاﺅں بادی میں وقوع پذیر ہورہی ہے، اور سب کی آنکھوں کے سامنے روپذیر ہونے والے اس سانحے کو کوئی بھی روک نہیں پارہا۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق بادی گاﺅں میں اب تک کل 350 خودکشیاں ہوچکی ہیں جبکہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں ہی 80 افراد نے خود کشی کر لی ہے۔ اس گاﺅں کی کل آبادی تقریباً اڑھائی ہزار ہے اور گاﺅں کے سرپنچ راجندرا سسوڈیا کا کہنا ہے کہ اب تو یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ کچھ عرصے میں یہ سارا گاﺅں ہی خالی ہوجائے گا۔

وہ جگہ جہاں عورتیں ہرنوں کو بھی اپنا دودھ پلاتی ہیں، وجہ ایسی کہ جان کر کوئی بھی چکرا جائے

راجندرا کو دو ماہ قبل ہی سرپنچ بنایا گیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے جیون نامی سرپنچ نے اپنے گھر کے سامنے درخت کے ساتھ پھندا لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ جیون سے پہلے اس کا بھائی اور والدہ بھی خود کشی کرچکی تھیں۔ اب اس گاﺅں میں کوئی ایسا گھر نہیں بچا کہ جس کا کم از کم ایک فرد خود کشی نہ کرچکا ہو۔ گاﺅں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں آسیب نے جکڑلیا ہے اور یہ جنات ہی ہیں کہ جو ہر روز گاﺅں کے ایک شخص کو مار دیتے ہیں۔

ریاستی حکام اس حیرتناک معاملے کی تحقیقات میں لگے ہیں مگر تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ کچھ ماہرین نے اس معاملے کو ذہنی بیماریوں کے ساتھ بھی منسلک کیا ہے ۔ ماہر ذہنی امراض ڈاکٹر سری کانت ریڈی کا کہنا تھا کہ گاﺅں میں بکثرت استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات ڈپریشن اور شیزوفرینیا جیسی بیماریوں کا سبب ہو سکتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کیڑے مار زہر سے پیدا ہونے والی ڈپریشن اور شیزوفرینیا کی بیماری گاﺅں والوں کو خود کشی پر مجبور کررہی ہے۔

ڈاکٹر سری کانت نے چند سال قبل چین کے ایک گاﺅں میں پیش آنے والے اسی طرح کے واقعے کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی گاﺅں میں بھی کسان پے درپے خودکشیاں کررہے تھے، اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کی وجہ ذہنی بیماری تھی، جو کہ فصلوں میں استعمال ہونے والے ایک زہر اور گینو فاسفیٹ کی وجہ سے پیدا ہورہی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...