مشاق رئیسانی کے گھر سے کروڑوں روپے ملنے پر بلوچستان اسمبلی کا گرما گرم اجلاس ،اپوزیشن نے عبد المالک کے استعفے کا مطالبہ کردیا

مشاق رئیسانی کے گھر سے کروڑوں روپے ملنے پر بلوچستان اسمبلی کا گرما گرم اجلاس ...
مشاق رئیسانی کے گھر سے کروڑوں روپے ملنے پر بلوچستان اسمبلی کا گرما گرم اجلاس ،اپوزیشن نے عبد المالک کے استعفے کا مطالبہ کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) بلوچستان اسمبلی میں گزشتہ روز گرفتار ہونے والے صوبائی سیکریٹری خزانہ کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی جس میں اپوزیشن نے سابق وزیر اعلی بلوچستان عبد المالک بلوچ کے استعفے تک اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے ۔جے یو آئی کے مولانا واسع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبد المالک اپنی ٹیم کے ساتھ مستعفی ہو جائیں ۔دوسری جانب ڈاکٹر عبد المالک نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ۔

سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر نیب کے چھاپے کے دوران کروڑوں روپے ملنے پر بلوچستان اسمبلی میں ہنگامہ برپا ہو گیا ۔اس موقع پر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا ان کی ناک کے نیچے کرپشن ہوتی رہی اور وہ لاعلم رہے۔ انہوں نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر مولانا واسع نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عبدالمالک اور ان کی ٹیم کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ لیاقت آغا نے الزام لگایا سابق حکومت کے ہر وزیر کے لندن میں فلیٹ ہیں۔ مشیر خزانہ میر خالد لانگو نے اعتراف کیا کہ بطور مشیر خزانہ ان سے کمزوریاں ہوئیں۔انہوں نے کہا تحقیقات ختم ہونے تک عہدے سے علیحدہ رہوں گا۔

مزید : کوئٹہ