’میں مرچکا ہوں‘ خوبرو لڑکی کو اپنے ہمسفر کا میسج، جب حقیقت کھلی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بھیانک تھی

’میں مرچکا ہوں‘ خوبرو لڑکی کو اپنے ہمسفر کا میسج، جب حقیقت کھلی تو وہ پہلے ...
’میں مرچکا ہوں‘ خوبرو لڑکی کو اپنے ہمسفر کا میسج، جب حقیقت کھلی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بھیانک تھی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی معاشرے میں مردوخواتین کے باہم شادی کرنے کا رواج لگ بھگ ناپید ہو چکا ہے اورگرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا کلچر جڑیں پکڑ چکا ہے، اور بے راہروی ایسی کہ جب بوائے فرینڈ کا من چاہا ایک گرل فرینڈ کو چھوڑا اور دوسری کے ساتھ ہو لیا۔ گرل فرینڈ کو چھوڑنے کے لیے مرد کئی بہانے بھی تراشتے ہیں مگر گزشتہ دنوں ایک ایسے ہی شخص نے اپنی گرل فرینڈ کو چھوڑنے کے لیے اپنی ہی موت کا ڈرامہ رچا دیا۔ یہ شخص پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھا۔ اس نے اپنی گرل فرینڈ کو اپنے موبائل فون سے اپنا ہی رشتہ دار بن کر پیغام بھیج دیا کہ ”تمہارے بوائے فرینڈ کا انتقال ہو گیا ہے۔“ پیغام پڑھ کر لڑکی کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔لڑکی نے اس ”رشتہ دار“ سے آخری رسومات کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ولٹ شائر کے قصبے سوینڈن میں ہوں گی۔

50 سال قبل وفات پانے والے اس بچے کو آج تک دفنایا کیوں نہیں جاسکا؟ جواب جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کی ماں کو جب صورتحال معلوم ہوئی تو اس نے لڑکے کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جانے کا فیصلہ کیا اور 70کلومیٹر کا سفر کرکے ولٹ شائر پہنچی تو وہاں نہ کوئی میت تھی اور نہ جنازہ۔ اس خاتون نے لاءفرم میں فون کیا جہاں وہ کام کرتا تھا۔ وہاں سے اسے بتایا گیا کہ ”وہ بالکل زندہ ہے اور اپنی میز پر بیٹھا کام کر رہا ہے۔“اس پر خاتون کی والدہ نے پولیس کو اس دھوکے کی اطلاع دی مگر رپورٹ کے مطابق اس ڈرامے باز کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس