سعودی نائب ولی عہد کی جانب سے پیش کئے جانے والے ’ویژن2030ء‘ کی دستاویز کہاں سے آئی؟ ایسا انکشاف کہ آپ کو یقین نہ آئے گا

سعودی نائب ولی عہد کی جانب سے پیش کئے جانے والے ’ویژن2030ء‘ کی دستاویز کہاں سے ...
سعودی نائب ولی عہد کی جانب سے پیش کئے جانے والے ’ویژن2030ء‘ کی دستاویز کہاں سے آئی؟ ایسا انکشاف کہ آپ کو یقین نہ آئے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد سعودی عرب انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے کیونکہ اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل کی برآمدات پر ہی تھا، جو اب روبہ زوال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی بڑی کمپنیاں بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ ملک کی بڑی کنسٹرکشن کمپنی بن لادن گروپ بھی انہی کمپنیوں میں شامل ہے۔ بن لادن گروپ نے حال ہی میں اپنے 50ہزار غیرملکی ورکرز کو فارغ کرکے ان کے ہاتھوں میں ملک چھوڑنے کے ویزے تھما دیئے ہیں۔ان ورکرز کو ان کی گزشتہ کئی ماہ کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں، یہی وجہ ہے کہ ان ورکرز نے یہ ویزے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی تنخواہیں لیے بغیر سعودی عرب سے نہیں جائیں گے۔ ان ملازمین نے احتجاج کے دوران بن لادن گروپ کی 7بسیں بھی نذرآتش کر دی تھیں۔

صاحبزادے کی شاندار کارکردگی ، سعودی فرمانرواشاہ سلمان آبدیدہ ہوگئے

ویب سائٹ آلٹرنیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس دگرگوں معاشی حالت کے پیش نظر سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل سے دیگر ذرائع آمدن پر منتقل کرنے کے لیے پیش بندی کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت نے بین الاقوامی مشاورتی فرم مک کنسے(McKinsey) کی خدمات حاصل کیں، جس نے اپنے ماہرین کی ٹیم سعودی عرب بھیجی۔ اس ٹیم نے سعودی عرب کے تیل کے بغیر زندہ رہنے کے لیے جو رپورٹ پیش کی اس میں کہا گیا کہ معیشت کو حکومتی سرپرستی سے نکال کر مارکیٹ کے تحت کر دیا جائے۔ مختلف چیزوں پر دی جانے والی سبسڈیزختم کی جائیںاور ادائیگیاں منتقل کر دی جائیں۔ حکومت اخراجات برداشت کرنے کے لیے اپنے اثاثے فروخت کرے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں پبلک سیکٹرمیں نوکریوں کی تعداد کم کرنے اور غیر ملکیوں کی کم تنخواہ والی 30لاکھ نوکریاں ختم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں مصنوعی پہاڑ بنانے کا فیصلہ، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ انتہائی دلچسپ تفصیلات جانئے

رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے بعدازاں اسی ٹیم کی رپورٹ کو ”سعودی ویژن 2030ء“ کے نام سے متعارف کروا دیا۔ اب حکومت نے بجلی و پانی سمیت کئی چیزوں پر دی جانے والی سبسڈی بھی ختم کر دی ہے جسے سعودی شہریوں نے مسترد کر دیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 86فیصد سعودی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سبسڈیز ان کا بنیادی حق ہے۔ دوسری طرف سعودی فرماں روا شاہ سلمان وزیرپانی و بجلی عبداللہ الحسین کو معطل کر چکے ہیں۔ ان پر پانی و بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث تنقید کی جا رہی تھی مگر بجلی کی قیمت میں اضافہ تیل کے نئے کنویں کھودنے اور سبسڈی ختم کرنے کے باعث ہوا تھا۔ ویژن 2030ءکے مطابق وزارت پانی و بجلی کو 30ارب ڈالر(تقریباً30کھرب روپے) کی بچت کرنا تھی۔رپورٹ کے مطابق اسی ویژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے سعودی حکومت اپنی تیل کمپنی آرمکو کے کچھ شیئرز بھی فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ حکومت آرامکو کے حصص اور دیگر حکومتی اثاثوں کو فروخت کرکے 2ٹریلین ڈالرز کا ریونیو حاصل کرنا چاہتی ہے۔

مزید : عرب دنیا