مصر میں ہزاروں سال پرانی لاش دریافت، جسم پر ایسے الفاظ لکھے تھے کہ آپ بھی ’استغفار‘ کا ورد کریں گے

مصر میں ہزاروں سال پرانی لاش دریافت، جسم پر ایسے الفاظ لکھے تھے کہ آپ بھی ...
مصر میں ہزاروں سال پرانی لاش دریافت، جسم پر ایسے الفاظ لکھے تھے کہ آپ بھی ’استغفار‘ کا ورد کریں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قاہرہ (نیوز ڈیسک) جسم پر نقش و نگار بنانے کو دور جدید کا فیشن سمجھا جاتا ہے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ جدید مغربی تہذیب کی آمد سے ہزاروں سال پہلے کے مصر میں بھی یہ کام عروج کو پہنچ چکا تھا۔ ویب سائٹ Nature.com کے مطابق مصر میں تین ہزار سال پرانی ایک ممی دریافت ہوئی ہے جس کے جسم پر بنے ٹیٹو کے ڈیزائن کو دیکھ کر آج کے جدید دور کے لوگ بھی حیران ہیں۔

یہ دریافت سٹینفرڈ یونیورسٹی کی بائیو آرکیالوجسٹ این آسٹن نے کی ہے۔این آسٹن فرانسیسی انسٹیٹیوٹ آف اورئینٹل آرکیالوجی کے لئے کام کررہی تھیں، جو کہ مصر میں قدیم فرعونوں کے مقبروں کے قریب واقع گاﺅں دیر المدینہ میں تحقیقاتی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ این آسٹن کا کہنا ہے کہ وہ کچھ ممیاں دیکھ رہی تھیں کہ ایک ممی کے جسم پر کچھ نشانات نظر آئے۔ جب انہوں نے اس کا باریک بینی سے مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے جسم پر بے شمار نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔

اگر آپ کے پاس بھی ان میں سے کوئی پرانا موبائل موجود ہے تو یہ آپ کو مالا مال کرسکتا ہے

اس ممی کے ہونٹوں پر پھول بنے ہوئے تھے، بازوﺅں پر جانوروں کی تصاویر تھیں اور گردن اور کمر پر انسانی چہروں کی شبیہیں بنائی گئی تھیں۔ این آسٹن کا کہنا ہے کہ اس ممی کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اسے جس طرف سے بھی دیکھیں دو آنکھیں آپ کو اپنی طرف گھورتی نظر آئیں گی۔ یہ آنکھیں بھی ٹیٹو کی صورت میں اس کے جسم پر بنائی گئی ہیں۔ این آسٹن نے ممی کے جسم پر 30 سے زائد مختلف قسم کے ٹیٹو دریافت کئے۔

واضح رہے کہ قدیم مصر کے دور کی دریافت ہونے والی ممیوں کے جسموں پر اس سے پہلے بھی نقش و نگار پائے گئے ہیں لیکن یہ عموماً لکیروں اور نکات کی صورت میں ہوتے تھے۔ پہلی دفعہ ایک ایسی ممی دریافت ہوئی ہے کہ جس کے جسم پر پھولوں، جانوروں اور انسانی آنکھوں جیسی حقیقی اشیاءکے نقش و نگار ملے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس