ہمارا بیرون ملک کو ئی کاروبار نہیں ،آف شور کمپنیاں غیر قانونی کام نہیں ،ترین شوگر اور علیم قبضہ مافیا ہیں ،عمران اربوں کے گھر میں رہتے اور ٹیکس ایک لاکھ دیتے ہیں :سلمان شہباز

ہمارا بیرون ملک کو ئی کاروبار نہیں ،آف شور کمپنیاں غیر قانونی کام نہیں ،ترین ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے سلمان شہباز کا کہناہے کہ ہمارا کوئی کاروبار اور جائیداد بیرون ملک میں نہیں ہے سوائے ایک فلیٹ کہ جو کہ ظاہر کیا گیا ہے ،آف شور کمپنیاں کوئی غیر قانونی کام نہیں ،شریف خاندان کے آپس میں تعلقات بہت اچھے ہیں ،ہمارے خاندان کیلئے سب سے اہم چیز روایات ہیں،اگر وزیر اعظم کے بچے بیرون ملک کاروبار کر رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ،وہ قانونی طریقے سے کام کر رہے ہیں،عمران خان کو چیلنج کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانکیں ،ان کے دائیں جانب قبضہ مافیا اور دائیں جانب شوگر مافیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سلمان شہبازشریف نے کہاہے کہ ان کی کوئی بھی جائیداد بیرون ملک میں نہیں سوائے ایک فلیٹ جو کہ لندن میں واقع ہے جسے 2008ء میں خریدا گیا تھا جس کی مالیت اس وقت 7کروڑ روپے تھی ، ان کے تمام اثاثے اور کاروبار پاکستان میں ہیں اور سارے کے سارے سب کے سامنے ہیں کچھ بھی نہیں چھپایا گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ آ ف شور کمپنیاں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ،مجھے اور حمزہ کو کبھی جلاوطن نہیں کیا گیا ،ہم پاکستان میں ہی رہے ہیں ،حسن اور حسین نواز کو جلا وطن کیا گیا تھا اور وہ 20سال سے بیرون ملک ہیں اور وہیں جائز طریقے سے کاروبار کر رہے ہیں۔

سلمان شہباز کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین نواز اگر بیرون ملک کاروبار کر رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ؟وہ قانونی طریقے سے کام کر رہے ہیں ،وہ سرکاری بینکوں سے قرضے نہیں لیتے ،ہمارے کاروبار کے پیچھے بہت محنت ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے آج تک بینک آف پنجاب سے ایک پیسہ بھی قرضہ نہیں لیا ،آج تک کبھی کوئی فیور نہیں لی ،سعودی عرب عمرہ کیلئے اور چین گیا تھا وہ بھی اپنے خرچے پر،تمام کاروبار کسی رعاعت کے بغیر کرتا ہوں ہوں اس کے باوجود بھی مجھ پر بھی تنقید ہوتی اور جواب دینا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان 1937 ء سے کاروبار کر رہاہے ،اس سے پہلے بیرون ملک کام کر چکے ہیں،70میں دبئی اور بعد میں سعودی عرب میں بھی سٹیل کا پراجیکٹ کر چکے ہیں ،وزیراعظم نوازشریف کا آج بھی پاکستان میں کاروبار ہے اور وہ چل رہاہے ،جوانہیں وراثت میں ملاہے۔

سلمان شہباز کا کہنا تھا کہ 2007 ء میں شریف خاندان کے کاروبار جدا ہو گئے تھے ،ہمیں وراثت میں ایک شوگر مل ملی تھی جو کہ چنیوٹ میں ہے،وہ ہمارے دادا نے 1991ء میں بنائی تھی،آج بھی ایک ہی مل ہے اس میں ٹیکنالوجی اپ گریڈ کی ہے ،ہمارا پولٹری میں 0.1فیصد شیئر ہے جس کی مالیت تقریباً 15کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہو گی ،دودھ میں توہم پاکستان کے ٹاپ ٹین میں بھی نہیں آتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہمارا جو کاروبار ہے وہ سب کے سامنے ہے اور سارا کاروبار پاکستان میں ہے ،کچھ اثاثے میرے اور میرے بھائی کے نام پر ہیں اور وراثت میں ملنے والی جائیداد میں ہمارے والد کا بھی حصہ ہے۔ہم نے پچھلے پانچ سالوں میں کروڑوں روپے انکم ٹیکس دیاہے،ہر سال ٹیکس میں 15سے 20فیصد اضافہ ہوتاہے جیسا کہ ہمارے کاروبار میں اضافہ ہوتاہے اسی طرح ہمارے ٹیکس میں بھی اضافہ ہوتاہے۔

سلمان شہباز نے کہا کہ عمران خان کو چیلنج کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانکیں ،ان کے دائیں جانب قبضہ مافیا اور دائیں جانب شوگر مافیا ہے۔ سلمان شہبازشریف کا کہناتھا کہ عمران خان ڈھائی ارب روپے کے گھر میں رہتے ہیں وہ کہاں سے پیسہ کماتے ہیں ؟ہماری تو چلیں وہ اربوں روپے کی فیکٹریوں بنا رہے ہیں ،عمران خان کی کمائی کا ذریعہ کیاہے ؟کمنٹری کرنے سے دو ارب روپے کا گھر کے اخراجات کس طرح پورے ہوتے ہیں؟ کیونکہ اس میں بہت بڑا جنگل ہے، اس کی حفاظت اور جہاز کے اخراجات کہاں سے آتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی کا فنڈ کہاں سے آتاہے؟ وہ نہیں بتاتے ،فلڈ کمپین کا پیسہ استعمال ہو اکہ نہیں؟ علیم خان قبضہ اور جہانگیر ترین شوگر مافیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس وجیہہ الدین جن کی عمران خان خود بہت عزت کرتے تھے انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین ،علیم خان اور پرویز خٹک نے الیکشن میں پیسہ چلایا ہے ان کیخلاف کاروائی کریں ،عمران خان نے کاروائی کرنے کے بجائے جسٹس وجیہہ الدین کو ہی فارغ کر دیا اور الیکشن ملتوی کر دیئے ،عمران خان کے اردگرد سارے کرپشن مافیا بیٹھے ہیں ،عمران خان اربوں روپے کے گھر میں رہتے  اور صرف ایک لاکھ روپے ٹیکس دیتے ہیں ،کے پی کے بینک معاملے پر عمران خان نے صرف ایک رکنی کمیشن بنایا۔

ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی میچور جماعت ہے ،وہ جمہوری پروجیکٹ کو ڈی ریل نہیں کرے گی ،عمران خان اس وقت اقتدار میں آنے کیلئے چور دروازہ ڈھونڈ رہے ہیں اور ایمپائر ڈھونڈ رہے ہیں جو انگلی کھڑی کرے۔ان کا کہناتھا کہ جہانگیر ترین جنہیں میں مسٹر کلین ترین کہتاہوں ، ہمارے اوپر اٹیک کر رہے ہیں ،انہوں نے اپنے رشتہ دار مخدو م احمد مخدو م کے ساتھ فراڈ کیا ،ان کے شیئر کھا گئے ،عدالت میں کیس چلتا رہاہے اور ثابت ہوا کہ انہوں نے فراڈ کیاہے۔

سلیمان شہباز نے پروگرام کے میزبان سلیم صافی کو کہا کہ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ آپ بڑے بڑے اینکرز اور تجزیہ کاروں کو بلائیں اور سیاستدانوں کو بھی  بلائیں جو کہ کاروبار بھی کرتے ہیں، میں یہ ثابت کروں گا کہ کن لوگوں نے سرکاری بینکوں سے قرضے معاف کروائے اور کس نے بینکوں سے سود معاف کروا کر عوامی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ساری شریف فیملی کی ذمہ داری لے کر کہتے ہیں کہ شریف فیملی نے کبھی کوئی سود معاف نہیں کروایاہے۔

سلیمان شہباز کا کہناتھا کہ شریف فیملی میں سب کے درمیان اتفاق ہے ،چھوٹے بڑے معاملات چلتے رہتے ہیں لیکن سب کے آپس میں تعلقات بہت اچھے ہیں ،شریف فیملی کیلئے سب سے اہم چیز ان کی روایات ہیں ، جس میں بڑو ں کا ادب کرنا شامل ہے ،ہمارے درمیان کسی کو طاقت کی ہوس نہیں ہے ،ہمارے لیے روایات سب سے پہلے ہیں، حمزہ شہبازشریف سیاست میں جبکہ مریم نواز شریف انتہائی مثبت انداز میں اپنے والد کی معاونت کر رہی ہیں ،میں سمجھتاہوں کہ وہ بھی سیاست میں ہیں۔

صحافی نے سوال کیا کہ اگلا جانشین کون ہوگا؟ جس پر سلیمان شہباز کا کہناتھا کہ یہ فیصلہ بڑوں کا ہو گا اور وہ اس حوالے سے کوئی رائے نہیں دے سکتے اور ہمارے ذہنوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہے،جن کو سیاست کرنی چاہیے وہ سیاست کر رہے ہیں ،میری ذمہ داری کاروبار کی ہے جو میں ادا کر رہاہوں ،اگر اللہ نے موقع دیا تو میں ضرور سیاست میں آؤں گا اور پوری طرح سے آؤں گا۔

ان کا کہناتھا کہ سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ ہم نے پہلے کاروبار کیا اور بعد میں سیاست میں آئے، جبکہ دیگر لوگوں نے پہلے سیاست کی اور پھر کاروبار بنائے۔

مزید : قومی /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...