’حمل کے دوران میں اس شرمناک عادت میں مبتلا تھی جس وجہ سے اب میرا بچہ پوری عمر کیلئے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوا ہے‘

’حمل کے دوران میں اس شرمناک عادت میں مبتلا تھی جس وجہ سے اب میرا بچہ پوری عمر ...
’حمل کے دوران میں اس شرمناک عادت میں مبتلا تھی جس وجہ سے اب میرا بچہ پوری عمر کیلئے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوا ہے‘

  


مونٹریال(نیوزڈیسک) ہمارے مذہب نے شراب بلاوجہ منع نہیں کی، اس کی وجہ سے جہاں انسان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہیں مائیں بھی اس سے محفوظ نہیں رہتیں اور ان کی پیدا ہونے والی اولاد کو بھی خطرناک بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔

ایسا ہی کچھ کینیڈا کے علاقے ایلبرٹامیں رہنے والی لڑکی کے ساتھ ہوا۔2001ءمیں جب 18سالہ نیٹیراٹیسکا کو معلوم ہوا کہ اس حاملہ ہوئے دوماہ ہوچکے ہیں تو وہ اور اس کا شوہر کافی پریشان ہوئے لیکن ساتھ ہی انہیں بچے کی خوشی بھی تھی۔نیٹیرانے کھانے پینے میں احتیاط شروع کردی او ر ساتھ ہی الکوحل چھوڑ دی۔جب ان کے ہاں نیکو پیدا ہواتو پیدائش کے بعد ہی سے اس میں عجیب و غریب مسائل پیدا ہوگئے۔ وہ ابتداءہی سے بہت زیادہ حساس ہوگیا، اگر کوئی اسے ہلکا سا ہاتھ بھی لگاتا تو وہ چیخ چیخ کر رونے لگتا۔ وہ اس قدر عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو خودکشی کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔

گذشتہ سال ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے الکوحل سینڈورم ہے جو کہ ماﺅں کی کثرت شراب نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں میں پیدا ہوتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والے بچوں میں یہ بیماری کافی عام ہے کیونکہ ان کے والدین شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں جس کے اثرات ان کے بچوں کو منتقل ہونے لگتے ہیں۔ کچھ بچوں میں یہ بیماری صرف دماغی سط تک محدود رہتی ہے اور کچھ میں یہ جسمانی مسائل کی صورت میں بھی پیدا ظاہر ہوتی ہے۔ایسے بچے اونچی آوازوں پر اچھل کود کرنے کے ساتھ چیخیں بھی مارنے لگتے ہیں اور کچھ بچے فرنیچر اور دیگر سامان بھی توڑنے لگتے ہیں۔ ان بچوں کو سیکھنے میں مسائل رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی یاداشت کمزور ہونے کے ساتھ یہ بات کرنے، سننے اور اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے میں مشکل کا شکار رہتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے صحت مند ہوں تو ایام حمل میں اور اس سے پہلے کے دنوں میں بھی خواتین کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...