’جن لڑکیوں کی دادی یہ کام کرتی ہوں، اُن کا پیدائشی طور پر ذہنی معذور ہونے کا خطرہ بے حد زیادہ ہوتا ہے‘

’جن لڑکیوں کی دادی یہ کام کرتی ہوں، اُن کا پیدائشی طور پر ذہنی معذور ہونے کا ...
’جن لڑکیوں کی دادی یہ کام کرتی ہوں، اُن کا پیدائشی طور پر ذہنی معذور ہونے کا خطرہ بے حد زیادہ ہوتا ہے‘

  


لندن(نیوزڈیسک) ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون سگریٹ نوشی کرتی ہوتواس کا اثر اس کے بچوں کے بچوں تک بھی جاتا ہے اور حاملہ ماں پر ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو کہ بچوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کا اثر پیدا ہونے والی لڑکیوں پرلڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے ۔

تحقیق میں 14500افراد کی سگریٹ نوشی کی عادات کا مطالعہ کیا گیا۔کئی سال پر محیط تحقیق میں ان افراد سے ان کی معلومات لی گئیں اورپھر اس پر سائنسی تجزیہ کیا گیا۔تحقیق کار پروفیسر جین گولڈنگ کا کہناہے کہ ماں اپنے بچوں کو جو سب سے اچھا تحفہ دے سکتی ہے ان میں سے ایک بہترین تمباکو نوشی سے اجتناب ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ماں کے ذریعے بچوں پر اثرات زیادہ منتقل ہوتے ہیں اور ماﺅں کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایسی اشیاءسے اجتناب کریں جو نہ صرف ان کے لئے اچھی نہیں ہیں بلکہ ان کے ہونے واے بچوں کے لئے بھی زہر قاتل ثابت ہوتی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ ماضی میں صرف یہی سمجھا جاتا تھا کہ سگریٹ نوشی کے صرف جسمانی نقصانات ہوتے ہیں لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی وجہ سے بچوں کے ہیجانی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ان ہیجانی مسائل کی وجہ سے بچے معاشرتی طور پر دیگرافراد کے ساتھ صحیح طرح سے تعلق پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کا کہنا تھا کہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ماﺅں اور دادیوں اور نانیوںکے اثرات زیادہ تر پیدا ہونے والی لڑکیوں پر ہی کیوں مرتب ہوتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...