فساد کا سدباب بھی، حوصلہ افزائی بھی۔ چہ معنی دارد؟

فساد کا سدباب بھی، حوصلہ افزائی بھی۔ چہ معنی دارد؟
 فساد کا سدباب بھی، حوصلہ افزائی بھی۔ چہ معنی دارد؟

  


ہمارا وطنِ عزیز ایک مدت سے فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ بے شمار جانیں اس آگ کی نذر ہو گئی ہیں۔ خوف اور دہشت کا مستقل عذاب اس پر مستزاد! جب یہ چنگاری ابھی شعلہ نہ بنی تھی تو اہل نظر نے ارباب اختیار کو خبردار کیا تھا، لیکن ان کی آواز صد ابصحرا ثابت ہوئی۔ شاید اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ چنگاری کا شعلہ بنناخود ارباب اقتدار کے اپنے مفاد میں تھا۔ وقت نے تو یہ بھی ثابت کر دیا کہ خود انہی ہاتھوں نے خس کے ڈھیر کو تیلی دکھائی تھی۔ اب جبکہ اس شعلہ بداماں آگ نے بہت کچھ خاکستر کر دیا ہے تو امن اور اتحاد کی باتیں گلی گلی ہونے لگی ہیں۔ اتحاد کا درس دینے کے لئے تنظیمیں اتنی وجود میں آ گئی ہیں کہ جیسے برسات میں ہر طرف کھنبیاں اُگ آتی ہیں۔ بڑی بڑی کانفرنسیں بھی آئے روز منعقد ہوتی ہیں جن میں مختلف مسالک کے علمائے کرام ایک دوسرے کے بازو تھامیں کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ایسی تصاویر اخبارات میں اکثر اہتمام کے ساتھ لگوائی جاتی ہیں۔

چلئے مان لیا، اتحاد اور یکجہتی کے سارے پروگرام خلوص اور محبت کے ساتھ انجام پا رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انتشار اور تعصبات کی آگ بھڑکانے کے لئے جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تدارک کون کرے گا؟ ہم وقتاً فوقتاً ایسا مذہبی لٹریچر دیکھتے رہتے ہیں جس میں سوائے نفرتوں کی فصل بڑھانے کے اور کچھ درس نہیں دیا جاتا۔ معلوم نہیں ایسے لٹریچر کی اشاعت کرنے والا بیرونی عنصر ہے یا ہمارے اپنوں ہی کا کیا دھرا ہے؟آخر یہ خواہش کس کی ہو سکتی ہے کہ امن کے خرمن پر بے دریغ بجلیاں گرتی اور قیامت کا سماں پیدا کرتی رہیں۔ گزشتہ ہفتے ہمیں 160 صفحات کی ایک مجلد کتاب ہاتھ لگی، جس کا عنوان ہے ’’آلِ دیوبند کے 300 جھوٹ‘‘ ٹائٹل پر مصنف کا نام حافظ زبیر علی زئی مرقوم ہے۔ ناشر مکتبہ الہُدیٰ ا بتایا گیا ہے اور اشاعتی ادارے کا پتہ صرف ’’ملتان روڈ لاہور‘‘ ظاہر کیا گیا ہے عام طور پر ناشر اپنا پورا پتہ درج کرتے ہیں مگر جب ایڈریس میں سڑک، سٹریٹ یا بازار کا نام نہیں لیا گیا تو اس سے سارا کام ہی مشکوک ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ کتاب چھاپنے والوں نے اندر ہی اندر تقسیم کر دی ہے اور بعید نہیں مفت تقسیم کی ہو کیونکہ پرنٹ لائن والے صفحہ پر قیمت درج نہیں۔ دوسری اشاعت کی تاریخ مارچ 2012ء ظاہر کی گئی ہے، وہ بھی غلط لگتی ہے کیونکہ ایسے لٹریچر پر اس حوالے سے بھی قاری اور حکومت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ سمجھیں گے اس کتاب کی اشاعت پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، اس کی کھوج کرید کا رِ عبث ہوگا۔ ہمیں ایک دفعہ ایسی ہی فرقہ واریت کی آگ بڑھکانے والی ایک ایسی کتاب دیکھنے کا موقع ملا جس پر مصنف کا نام ایسی صاحب علم شخصیت کا تھا جسے وفات پائے بہت عرصہ بیت چکا تھا۔

300 جھوٹ والی کتاب میں مصنف نے دو صفحہ کے دیباچے میں اپنی اس کاوش کو آئینہ دکھانے سے تعبیر کیا ہے۔ پھر دعائیہ کلمہ رقم کیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری اس کتاب کو لوگوں کی ہدایت اور میرے لئے دائمی اجر و ثواب کا ذخیرہ بنائے۔‘‘ صفحہ 6) کتاب کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بھی خلافِ واقعہ ہوگا۔ پردے کے پیچھے ممکن ہے کوئی اور ہو۔ ممکن ہے وہی لوگ ہوں جنہیں ملتِ اسلامیہ نے بالا جماع چالیس برس قبل غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔

رہے کتاب کے مندرجات، تو ان کی جرح و تعدیل کرنا ہمارے نزدیک سعی لا حاصل ہے کیونکہ کتاب کی پیشکش کا انداز بول بول کر مصنف کی بدنیتی کی گواہی دے رہا ہے۔ کتاب کا جو عنوان ہے اور اکابر دیوبند کے بارے میں جو سوقیانہلہجہ برتا گیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد دو مسالک کو باہم لڑانا ہے۔ ہر ذی شعور پاکستانی جانتا ہے کہ خطا سے پاک صرف خالق باری کی ذات ہے ہر انسان اپنی ذات میں علم کا کتنا بڑا پہاڑ ہو، اس سے لکھنے اور بولنے میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے مختلف مسالک کے بزرگوں نے قلم کے ذریعے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ اگر کسی جگہ کسی روایت یا راوی کے اندراج میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس سے اختلاف کا بھی ایک سلیقہ اور قرینہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جس سے حقیقت کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے اور کسی آئینہ دل کو ٹھیس بھی نہیں پہنچتی۔

ہم ان سطور کے ذریعے حکومت کے اعضا و جوارح کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ یہ کیا تماشا ہے کہ ایک طرف اتحاد بین المسلمین کی کوششیں ہو رہی ہیں،ایسی کوششوں کو سراہا بھی جاتا ہے تو دوسری طرف ایسے فسادی لٹریچر کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے لئے یہ باور کرنا ہی مشکل ہے کہ یہ اور ایسی دیگر کئی کتابیں جو سراسر دلآزاری کرنے والی اور امت محمدؐیہ میں نفاق کے بیج بونے والی ہیں وہ حکومت کے اطلاعاتی ذرائع کی نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ ہماری حکومت ایسے عناصر کو عام طور پر نظر انداز کرتی ہے جس سے انہیں مزید تخریبی کارروائیاں کرنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔ حالانکہ فساد کی آگ بھڑکانے والوں پر سخت گرفت رکھنے ہی سے ہمارا ماحول پر امن بن سکتا ہے۔ مذہب کے نام پر شائع ہونے والے ایسے لٹریچر پر پابندی بھی لگنی چاہئے اور ایسے پبلشروں کو عدالت کے کٹہرے میں بھی لانا چاہیے۔

علمائے کرام کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی شاید بے جا نہ ہو کہ ان فرقہ وارانہ جھگڑوں کی وجہ ہی سے ہمارا سیکولر ذہن رکھنے والا طبقہ اب کھلم کھلا پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنوانے کا نہ صرف مطالبہ کرتا ہے بلکہ اس مقصد کے لئے طرح طرح کی سازشوں میں بھی مصروف رہتا ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے نصف صدی پیشتر مقتدر طبقات نے اپنے مخصوص مفادات کے تحت اسلام اور سوشلزم کی لڑائی کرائی تھی، آنے والے وقت میں اسلام اور سیکولر ازم کے درمیان محاذ آرائی کروائیں گے۔یہ حقیقت ہے کہملتِ پاک کو یک جہتی اور امن کیجتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی، کاش ہمارے علماء اس طرف توجہ دے سکیں!

مزید : کالم


loading...