تجربہ

تجربہ
 تجربہ

  


بعض لوگوں کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوئی، کب اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا اور کب وہ پرسو اور پرس سے پرس رام ہو گئے۔اپنے ایک ایسے ہی حادثاتی افسر سے میری پہلی ملاقات تھی۔ مجھے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے حوالے سے کچھ دیرینہ مسائل اور مطالبات پر بات کرنا تھی۔ اتفاقاً ان سے ان کے کمرے کے باہر ہی ملاقات ہو گئی۔ہم باہر کھڑے تھے اور ابھی ان کے آفس میں جانے کی سوچ رہے تھے کہ دو صحافی حضرات تشریف لے آئے ۔کوئی معروف نام نہیں تھے، مگر صحافی تھے ۔ میری طرح صحافی نما نہیں تھے اور پھر میری پہچان مجھے ایک استاد کے طور پر ہمیشہ زیادہ عزیز اور بہت زیادہ پسند ہے چاہے اسے دوسرے کیا تیسرے درجے پر رکھا جائے۔ حکم ہوا کہ چند منٹ انتظار کروں ،دونوں صحافی باری باری ملے ۔ میرے افسر کو اپنے عالمانہ اور محققانہ مشوروں سے نوازا اور حسب عادت درخواستوں کی واردات ڈالی۔ افسر صاحب نے انہیں رخصت کرنے کے بعد مجھے بھی بلاہی لیا۔

سرسری بات سنی اور پوچھا آپ کی عمر کیا ہے۔ میرے جواب میں فرمانے لگے ، مجھے بزرگ لوگ پسند نہیں اِس لئے کہ یہاں سارے بزرگ کام چور ہیں صرف سیاست کرتے ہیں۔ زیادہ جواب بے ادبی کے دائرے میں آ جاتے ہیں اس لئے اتنے بڑے افسر کی اتنی زبردست علمی بات کا جواب میرے پاس ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے سوا کچھ نہیں تھا، مگر مجھے ایک لوک کہانی یاد آ گئی، جس کا مرکزی کردار جنگل کا بادشاہ ایک جوان شیر تھا جسے بھی بزرگ لوگ پسند نہیں تھے۔

جنگل کا بادشاہ شیر بوڑھا ہو گیا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے جوان بیٹے کو بلایا اور کہا کہ بیٹا اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ روز شکار کے لئے نکلنا اور شکار کے پیچھے بھاگ کر اسے پکڑناکچھ مشکل ہوتا جارہا ہے۔جنگل کے جانوروں پر انتظامی گرفت بھی کچھ ڈھیلی ہو گئی ہے۔ اس لئے میں یہ بادشاہت تمہارے سپرد کرتا ہوں۔آج سے تم جنگل کے بادشاہ ہو۔ صرف اتنا کرنا کہ شکار کا کوئی چھوٹا موٹا حصہ مجھے بھی لا دیا کرناکہ زندگی کے باقی ایام سکون سے گزار لوں۔ اندھا کیا چاہے دوآنکھیں۔ جوان شیر نے باپ کی پیشکش فوراً قبول کر لی۔ تخت نشینی کا اعلان ہوتے ہی جنگل میں بھرپورجشن منایا گیااور نئے بادشاہ نے جنگل میں اصلاحات کی ابتدا کر دی۔ نوجوان بادشاہ نے پہلے تو حسبِ وعدہ اپنے بزرگ باپ کا خیال رکھا ، اپنے شکار کا کچھ نہ کچھ حصہ اسے لا کر دیتا رہا،مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی توجہ میں کمی آتی گئی اور جلد ہی وہ وقت آگیا کہ بوڑھا شیر بھوک اور نقاہت کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

باپ کے فوت ہونے کے بعد نوجوان بادشاہ کا رویہ جنگل کے تمام بوڑھوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی روکھا پھیکا ہو گیا۔نوجوان شیر بادشاہ نے ،جو اتفاقاً ماہر معیشت بھی تھا،ایک دن جنگل کے جانوروں کو اکٹھا کیا اور خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دوستو ! مَیں جب سے بادشاہ بنا ہوں میں ہر دم اپنے عوام کی بھلائی ہی کا سوچتا رہتا ہوں۔اِس لئے بہت غور کرنے کے بعد یہ محسوس کیا ہے کہ جنگل کے بوڑھے جانور جنگل کی معیشت پر بھاری بوجھ ہیں اور ہمیں اپنی فلاح کے لئے ان بوڑھوں سے نجات حاصل کرنا ہوگئی۔ واہ، واہ کے نعروں اور تالیوں کی گونج میں ہجوم نے اس شاندار فیصلے، کہ حکمرانوں کے تمام فیصلے ہی شاندار ہوتے ہیں،کی توثیق کردی۔ اس کے بعد شکاری دستے تشکیل دئیے گئے اور وہ سب بوڑھوں سے نجات اور جنگل کی معیشت کی بہتری کے مشن پر روانہ ہو گئے۔

ایک نوجوان خرگوش کو اپنے بوڑھے باپ سے بے پناہ محبت تھی۔ میٹنگ ختم ہوتے ہی وہ بھاگم بھاگ اپنے باپ کے پاس پہنچا، اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا، اسے کھانے کی فراہمی کا یقین دلایااور چھپ جانے کا کہا۔دونوں اپنی کھوہ میں گھسے ۔ ایک کونے میں ایک اور خفیہ کھوہ بنائی اور بوڑھیا خرگوش کو اس میں چھپ کر بیٹھ گیا۔چند دِنوں میں پورا جنگل بوڑھے جانوروں سے پاک ہو گیا اور نوجوان اپنے اس کارنامے پر بے حد خوش۔

ایک دن نوجوان شیر اپنی خوابگاہ میں سو رہا تھااس کا منہ کھلا تھا۔ ایک گستاخ سانپ اس کے منہ میں گھس گیا اور زبان کے گرد کنڈلی مار کر بیٹھ گیا۔ سانپ کی وجہ سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ خوف سے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا کہ سانپ ڈس نہ لے۔ دوسرے جانور بھی کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے مگر سانپ کے سامنے بے بس تھے۔ بادشاہ کے بار بار کہنے کے باوجود انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس طرح اپنے بادشاہ کی مدد کریں۔ مسئلے کا حل کس سے پوچھا جائے۔ آخر میں سب نے متفقہ رائے دی کہ اس مسئلے کے حل کے لئے کسی بزرگ سے مشورہ کیا جائے،مگر بزرگ کہاں سے ملے،وہ تو جنگل کی معیشت پر بوجھ سمجھ کر سب مار دئیے گئے تھے۔ آخرسب کی پریشانی دیکھ کر خرگوش نے کہا کہ اگر جان بخشی کا یقین دلا دیا جائے تو وہ ایک بوڑھے کو ڈھونڈھ کر لا سکتا ہے۔ سب نے فوری طور پر ہر طرح کی یقین دہانی کرائی تو خرگوش اپنے بوڑھے باپ کو وہاں لے آیا۔ بوڑھے خرگوش نے دیکھا جنگل کا بادشاہ شیر بدحواسی کے عالم میں منہ کھولے کسی نجات دہندہ کا منتظر ہے۔ وہ فوراً پلٹا۔ بھاگ کر کہیں سے ایک چوہا پکڑ لایا اور اسے شیر کے منہ کے آگے سانپ کے سامنے لہرایا۔چوہا سانپ کی مرغوب غذا ہے۔ سانپ نے چوہے کو دیکھا تو لپکا،خرگوش نے چوہے کوچھوڑ دیا۔ سانپ نے شیر کے منہ سے باہر چھلانگ لگائی اور چوہے کے پیچھے۔

بادشاہ کی جان بچ جانے کی خوشی میں جنگل میں ایک بار پھر جشن کا اہتمام تھا اور اس جشن کا مہمان خصوصی بزرگ خرگوش تھا۔ اس دن کے بعد جنگل کے جانور وں نے اپنے بزرگوں کا احترام کرنا سیکھ لیا ۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اصل چیز جسے دنیا میں ہر جگہ فوقیت حاصل ہے اور ہونی بھی چاہئے وہ تجربہ ہے۔ریسرچ پیپروں کے ڈھیر میں مسائل تو ہوتے ہیں، مسائل کے مکمل حل نہیں ہوتے۔الجھی گتھیاں تو ہوتی ہیں سلجھانے کے وصف نہیں۔ مسائل کو حل کرنے اور اُلجھی گتھیوں کوسلجھانے کے لئے سفید بالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس لئے بزرگوں کا احترام بڑا ضروری ہے ۔بزرگ ناکارہ نہیں مفید شہری ہوتے ہیں۔دو دن پہلے ایک دوست نے پوچھا کہ ادارے کے نئے سربراہ کیسے لگے۔مَیں نے ہنس کر کہا پہلی ملاقات میں وہ مجھے ٹریفک پولیس کے چلتے پھرتے اشتہارکہ تیز چلو گے جلد مرو گے، مگر اب سنا ہے کافی سنبھل گئے ہیں۔ تجربہ آتا جا رہا ہے۔

مزید : کالم


loading...