پلڈاٹ کا مطالبہ۔۔۔قوم کی آواز

پلڈاٹ کا مطالبہ۔۔۔قوم کی آواز

پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، جمہوری اداروں کی تقویت اور حکومت کاری میں شفافیت کے لیے سرگرم عمل ممتاز غیر سرکاری تنظیم ’’پلڈاٹ‘‘ کے سول، ملٹری تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کام کرنے والے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی ٹویٹ کہ ’’نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے‘‘ دستور کی طے کردہ حدود کے حوالے سے نامناسب تھی۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ (فوری طور پر) ’’قومی سلامتی کمیٹی‘‘ کا اجلاس بلایا جائے تاکہ(ٹویٹ سے) سول ملٹری تعلقات پاکستان کی منتخب حکومت اور بہادر مسلح افواج کے امیج کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔

گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ کو فوری طور پر شائع کر دیا جائے تاکہ مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کے لائق مواخذہ ہونے کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں۔

اس قرارداد پر دستخط کرنے والوں میں سابق گورنر سندھ اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر، انتہائی ممتاز قانون دان ڈاکٹر پرویز حسن،بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر شاہد ملک، سابق وزیر دفاع اور گورنر پنجاب شاہد حامد اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب بھی شامل ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن کے سابق سربراہ تسنیم نورانی، سابق وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما خورشید محمود قصوری، لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) طلعت مسعود اور گروپ کے بعض دوسرے ارکان نے جو اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے، اس قرارداد کی توثیق کر دی ہے اور یوں اس کی ذمہ داری میں برابر کے شریک ہو گئے ہیں۔ گروپ میں شامل ممتاز اخبار نویس بھی دوسرے ارکان کے ہم آواز ہیں۔

پلڈاٹ کی یہ قرارداد اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس پر دو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرلز کے دستخط موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور انتہائی ممتاز سیاست دان خورشید محمود قصوری نے بھی جماعتی تعصبات سے اوپر اُٹھ کر ایک اصولی موقف اختیار کیا ہے۔بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والی ممتاز غیر سیاسی شخصیات نے بھی واضح طور پر آواز بلند کی ہے، اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کو پاکستانی معاشرے نے بحیثیت مجموعی مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کسی بھی جماعت یا شخص(اور اشخاص) کی ہو، بنیادی بات یہ ہے کہ ہر ادارے کو دستور کی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔کسی سرکاری افسر (یا ادارے) کو اِس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے یا اس طرح کی کوئی خواہش(دِل یا دماغ میں) پالے۔

یہ خبریں خوش آئند ہیں کہ وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی ملاقات میں اس صورت حال کا نوٹس لیا گیا ہے،اور اپنے اپنے طور پر نقصان کے ازالے کے لیے تدبیر سازی پر اتفاق ہوا ہے۔ہمیں امید ہے کہ سوچ بچار اور غور و خوص میں مزید وقت ضائع نہیں کیا جائے گا، اور پوری جرأت کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے دستور کے تحت قائم اداروں کا تشخص اور تحکم برقرار رہے کہ ان کی مضبوطی ہی سے پاکستان مضبوط ہوتا (اور رہ سکتا) ہے۔

مزید : اداریہ


loading...