افغانستان کی پاکستانی علاقے پر بلا اشتعال گولہ باری

افغانستان کی پاکستانی علاقے پر بلا اشتعال گولہ باری

سرحد پار سے افغان فورسز نے فائرنگ کر کے چمن کے علاقوں کلی لقمان ور کلی جہانگیر میں پانچ بچوں اور تین خواتین سمیت12افراد کو شہید کر دیا جن میں پاک آرمی اور ایف سی کے دو اہلکار بھی شامل ہیں، افغان فورسز نے دس گھنٹے تک بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی اور مردم شماری ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہلکاروں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے بعد مردم شماری روک دی گئی، پاک فورسز کی جوابی کارروائی میں تین افغان چوکیاں تباہ ہو گئیں۔ اطلاع کے مطابق اس جوابی حملے میں افغان بارڈر پولیس کے 37 اہلکار مارے گئے۔ بابِ دوستی سے آمدو رفت بند ہو گئی، افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے اس فائرنگ پر احتجاج کیا گیا اور متنبہ کیاگیا کہ پاکستان جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر جمشید مرزا نے افغانستان میں اپنے ہم منصب سے ہاٹ لائن پر بات کرتے ہوئے یاد دلایا کہ بارڈر لائن دیہات میں سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دیہات دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور سویلین اپنے پاکستانی علاقے کے اندر تھے، افغان فوج نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ رُک گیا۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ افغان فورسز نے شہری آبادی پر اس طرح کا بزدلانہ حملہ کیا ہو، اس واقعہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی کچھ اور بڑھ گئی ہے جسے پاکستان کے ایک پارلیمانی وفد اور ڈی جی آئی ایس آئی کے حالیہ دورے کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔مردم شماری کی جو ٹیم اپنے کام میں مصروف تھی وہ عین پاکستانی علاقے کے اندر تھی، اِس لئے اس پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا، لیکن بلا اشتعال گولہ باری کے ذریعے 12پاکستانیوں کی شہادت لمحہ فکریہ ہے، افغان فورسز کی جانب سے ایسے واقعات کا اعادہ روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

بظاہر یہ واقعہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثرو رسوخ کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، بھارت نے افغان سرزمین پر سازشوں کا جو جال پھیلا رکھا ہے یہ واقعہ بھی اُسی کی توسیع معلوم ہوتا ہے، بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت اور ہتھیار دے کر پاکستانی علاقے میں دہشت گردی کے لئے بھیجتا ہے۔ یہ دہشت گرد غیر روایتی راستوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور سرحدی علاقے میں اُنہیں سہولت کار بھی میسر ہیں،بھارت اور افغانستان کے خفیہ اداروں کا باہمی تعاون بھی اب ڈھکا چھپا نہیں رہا۔اِسی لئے پاکستان افغانستان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور خاص طور پر بھارت کا آلۂ کار نہ بنے،لیکن ایسے لگتا ہے کہ افغان انتظامیہ کے اندر بھارتی اثرو رسوخ اِس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بظاہر بھارت اُسے اپنا آلۂ کار بنانے میں کامیاب نظر آتا ہے۔صدر اشرف غنی جب سے برسر اقتدار آئے ہیں تمام تر کوششوں کے باوجود وہ پاکستان کے متعلق اپنا دِل اور دماغ صاف نہیں کر سکے، جہاں تک چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا تعلق ہے وہ شمالی اتحاد کے قائدین میں شمار ہوتے ہیں اور اس کی پوری قیادت کے پاکستان کے بارے میں منفی خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔یہ سارے عوامل مل کر دونوں ممالک کے تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے رہتے ہیں اور پاکستانی علاقے پر گولہ باری اس کا نکتہ عروج ہے، جس کا دائرہ پھیل کر تباہی کا باعث بن سکتا ہے، بھارت افغانستان کے مسائل کے حل میں تو کوئی مدد گار نہیں،لیکن اپنی سازشوں کے ذریعے وہ اُلٹا اِن مسائل کو افغانستان کے لئے گھمبیر بنا رہا ہے، اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر کے دونوں ممالک کے تعلقات کی خرابی کا باعث بن رہا ہے۔

افغان فورسز نے بارڈر سے ملحقہ پاکستانی دیہات میں یہ کارروائی کیوں کی؟ اس پر حیرت کا اظہار اِس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ30اپریل کو مردم شماری شروع کرنے سے پہلے افغانستان کو اس امر کی اطلاع دی گئی تھی کہ اِن علاقوں میں مردم شماری ہوگی،پاکستانی حکام اپنی ملکی حدود کے اندر کام میں مصروف تھے کہ ان پر اچانک فائرنگ کر دی گئی، پاکستان نے افغان حکاّم پر زور دیا ہے کہ بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ روکنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ افغانستان کی کارروائی کا مقصد افغان امور سے توجہ ہٹانا ہے اور یہ بھارت افغان گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔

افغانستان کے اندر تازہ سیاسی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ حزبِ اسلامی کے مجاہد کمانڈر گلبدین حکمت یار بیس سالہ جلا وطنی کے بعد واپس آئے ہیں۔ایوانِ صدر میں اُن کا استقبال کرنے والوں میں صدر اشرف غنی کے علاوہ سابق صدر حامد کرزئی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی شامل تھے، افغان حکومت نے حکمت یار کو واپس آنے کی اجازت کسی ڈیل کے نتیجے میں دی ہے یا اُن کو وطن کی یاد نے ستایا اِس بحث میں پڑے بغیر کہا جا رہا ہے کہ وہ طالبان سے ہتھیار رکھوانے میں معاونت کریں گے،لیکن ابھی سے یہ کہنا مشکل ہے کہ طالبان پر اُن کا اثرو رسوخ کتنا ہے۔اگرچہ انہوں نے طالبان کو ہتھیار رکھنے کا مشورہ تو دیا ہے،لیکن اُن کا مشورہ کس حد تک مانا جاتا ہے یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے تاہم ایک اور مشورہ انہوں نے افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کو بھی دے ڈالا ہے جسے سُن کر وہ حیران تو ہوئے ہوں گے،لیکن بہرحال انہوں نے کابل میں تازہ آمد کے بعد گلبدین کا یہ مشورہ سُن ضرور لیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قومی اتحاد کی جو حکومت بنائی گئی تھی وہ ڈلیور نہیں کر رہی اِس لئے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ میں سے کسی ایک کو ضرور مستعفی ہو جانا چاہئے۔یہ مشورہ سُن کر دونوں ایک دوسرے کا مُنہ تو دیکھ رہے ہوں گے،لیکن انہوں نے ابھی کوئی فیصلہ اِس لئے نہیں کیا کہ دونوں کا اتحاد امریکہ نے اُس وقت کرایا تھا جب شمالی اتحاد نے جس سے عبداللہ عبداللہ کا تعلق ہے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔عبداللہ عبداللہ خود صدارتی امیدوار تھے اور اشرف غنی کے مقابلے میں ہار گئے تھے،لیکن عبداللہ عبداللہ نے نتائج نہیں مانے اور کھل کر سامنے آ گئے تو امریکہ نے مداخلت کر کے اس کا حل یہ نکالا کہ دونوں کو اقتدار میں حصہ دار بنا دیا۔

دونوں حکومت میں تو شامل ہیں،لیکن ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ادھر دارالحکومت کی حالت یہ ہے کہ ہائی سیکیورٹی زون میں بھی دھماکے ہو جاتے ہیں۔ ایوانِ صدر کے گردا گرد ہزاروں ایکڑ کا علاقہ ہائی سیکیورٹی زون ہے اور ایوانِ صدر کی بیرونی دیوار کے باہر سینکڑوں عمارتیں سیکیورٹی مقاصد کے لئے خالی رکھی گئی ہیں، جہاں ایوانِ صدر کے محافظین رہتے ہیں اس کے باوجود قرب و جوار میں دھماکے ہوتے رہتے ہیں، ایسے دھماکوں سے خوفزدہ افغان حکومت کبھی طالبان سے صلح کی کوششیں کرتی ہے اور اکثر و بیشتر پاکستان پر غم و غصے کا اظہار کر دیتی ہے، پاکستانی پارلیمانی وفد کے قائد سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کابل کے دورے کے بعد پاکستان آ کر بتایا تھا کہ صدر اشرف غنی پاکستان کا دورہ کریں گے،لیکن اگلے ہی روز انہوں نے دورے کی دعوت مسترد کر دی اور پاکستان پر پرانے الزامات کا اعادہ کر دیا۔ اِس پس منظر میں چمن کے علاقے میں افغان گولہ باری اندرونی مسائل اور تضادات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ خواجہ آصف نے کہا ہے اور بھارت کی سازش بھی،تاہم سرحدوں پر امن کے لئے پاکستان اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحرجمشید مرزا نے ہاٹ لائن پر گفتگو کی اور بعدازاں فلیگ سٹاف میٹنگ میں افغان حکام نے اپنی غلطی بھی تسلیم کی، لیکن ایسے واقعات کو روکنا ضروری ہے جن میں جانی نقصان ہوتا ہے اور غلط فہمیوں کا خمیازہ بے گناہ لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مزید : اداریہ


loading...