ہماری فوج کا اِرتقاء

ہماری فوج کا اِرتقاء
ہماری فوج کا اِرتقاء

  


برِصغیر میں منظّم اور مستقل پیشہ ور فوج کا رواج سامراجی قوتوں کی آمد سے شروع ہوا۔ مغلوں سے پہلے اور اُن کی حکمرانی کے دوران Standing Army کا تصوّر نہیں تھا۔ بادشاہ کی اپنی ذاتی فوج ضرو ر ہوتی تھی جو شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے ہوتی تھی۔ ذاتی فوج کے اہل کار کو بادشاہ بذاتِ خود منتخب کرتا تھا۔ یہ اہلکار عموماً بادشاہ کے وفادار قبائل سے بھرتی کئے جاتے تھے۔اِن شاہی فوجیوں کا کِردار حملہ آور فوج (Attack Army) کا نہیں ہوتا تھا، بلکہ حفاظتی فورس کا ہوتا تھا۔ اس قسم کی فوج سعودی عرب اور دوسرے GCC ممالک میں ابھی تک موجود ہے۔ سعودی عرب میں یہ فوج حارث الوطنی کہلاتی ہے۔ اس فوج کے اَفراد قریباً ایک ہی قبیلے سے لئے جاتے ہیں۔ قبیلہ الرشیدیہ۔ یہ قبیلہ مرحوم شاہ عبداللہ کی والدہ کا تھا۔ یہ جنگجو قبیلہ شاہ عبدالعزیز السعود کے کنٹرول میں ہی نہ آتا تھا۔ اس قبیلے کی وفاداری قبیلے کی خاتون سے شادی کر کے حاصل کی گئی۔ شاہ عبداللہ کی ننھیال کا یہ بدّو قبیلہ آلِ سعود کا طاقتور حلیف بن گیا اور اب تک حارث الوطنی کا سربراہ شاہ عبد اللہ بذاتِ خودتھا اور اُس کی وفات کے بعد اُس کے بیٹے ہیں۔ اسی قسم کی فوج مغلوں نے اپنی ذاتی حفاظت کے لئے تشکیل دے رکھی تھی۔ مغلوں کی لڑاکافوج کے لئے پیدل اور گھڑ سوار فوجی مہیا کرنے کا فرض منصب داروں کے ذمّے ہوتا تھا۔ ان منصب داروں کے مختلف عہدے ہوتے تھے۔ سہ ہزاری، پنج ہزاری اور 10 ہزاری۔ یعنی سہ ہزاری رُتبے کا منصب دار 3000 کی فوجی نفری اپنے ذرائع سے بھرتی کرے گا۔

یہ نفری پیدل اور گھڑ سواروں، ہاتھی سواروں اور توپ خانے پر مشتمل ہوتی تھی۔ گھڑ سواروں کے گھوڑے اپنے ہوتے تھے۔ ہتھیار مثلاً تلوار، نیزہ، کلہاڑی(تیشہ)ڈھال اور ٹوپک(توڑے دار بندوق)سپاہی کی اپنی ہوتی تھی۔ منصب دار کو بادشاہ جاگیر عطا کرتا تھا اور اُس جاگیر میں سے اُسکے سپاہیوں کو بھی حصہ ملتا تھا۔ یہ فوجی بوقت ضرورت زراعت پیشہ افراد سے لئے جاتے تھے۔ کمزور ڈسپلن کے یہ زراعت پیشہ فوجی کُل وقتی نہیں ہوتے تھے۔

برٹش ایسٹ اِنڈیا کمپنی ہندوستان میں جب تجارتی مقاصد کے لئے آئی تو اُس نے اپنی حفاظت کے لئے اپنی پرائیویٹ انگریزی فوج بنائی جس میں دیسی آبادی کے افراد کو بطور سپاہی (Sepoy)بھرتی کیا گیا ۔ چونکہ مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اِدھر ہندو مرھٹے طاقت پکڑ رہتے تھے اس لئے کمپنی بہادر (ہندوستانی ایسٹ اِنڈیا کمپنی کو احترام سے بُلانے کے لئے کمپنی بہادر کے لقب سے پکارتے تھے)نے اپنے زیر اثر علاقوں میں فوجی ٹریننگ کے اڈے بنائے اور یہاں ہندوستانی سپاہیوں کو یونیفارم اور ڈسپلن سے متعارف کروایا جاتا تھا۔ البتہ اِن فوجی یونٹوں کی کمان گورے کے پاس ہی تھی۔ سب سے پہلے کمپنی بہادر نے مدراس Madras Sappers بنائی۔ اس یونٹ کا ہر جنگ میں بہت اہم رول ہوتا تھا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے میدانِ جنگ پہنچ کر Logistics کی دیکھ بھال کرتی تھی تاکہ فوج کی نقل و حرکت آسانی سے ہو سکے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انجینئرنگ کور والے میدانِ جنگ سے آخر میں واپس آتے تھے۔ یہ ہی یونٹ جو 18 ویں صدی میں قائم ہوئی ، ہماری Pakistan Engineering Corps کی بنیاد بنی۔

1857ء سے1947ء تک برٹش انڈین آرمی تاجِ برطانیہ کے زیرِ اثر کام کرتی رہی۔ 1920ء تک اس آرمی میں اَفسران تو انگریز ہی ہوتے تھے لیکن سپاہیوں کی کچھ تعداد ہندوستانیوں سے لی جاتی تھی۔1920ء کے بعد ہندوستانیوں کو بھی کمیشنڈ اَفسر بنایا جانے لگا لیکن اُن کا چناؤ اشرافیہ، ریاستی نواب زادگان یا مہارا جاؤں کی اولاد سے ہوتا تھا۔ البتہ ہندوستانیوں کو ہلکی پھلکی کمانڈ دینے کے لئے وائسرائے کمشنڈ آفیسر (V Co's) کی سکیم بنائی گئی۔ اِن لوگوں کے رینک اُردو میں ہوتے تھے، رسالدار، صوبیدار، نائب صوبیدا ر وغیرہ۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے اور دوران ہندوستانیوں کو کِنگ (King) کمیشن ملنا شروع ہو گیا۔ اَب وہ انگریز اَفسر کے برابر کمان کرنے کا استحقاق رکھتے تھے۔ ڈیرہ دون ملٹری اکیڈمی ہندوستانی اَفسروں کے لئے بنائی گئی۔ اُنہی دِنوں انگریزوں نے ایک نفسیاتیMyth گھڑی یعنی ہندوستان میں رہنے والوں کو مارشل قوم اور غیر مارشل قوم میں تقسیم کیا گیا۔دوسری جنگِ عظیم کا ایند ھن بنانے کے لئے ہندوستانی مارشل اقوام پر کتابیں اور مضامین انگریز مصنفوں نے تحریر کئے تاکہ اِن قوموں کے اَفراد اس غیر حقیقی تعریف سے متاثر ہو کر فوج میں شوق سے بھرتی ہوں۔ مارشل قوم کو برہمن سے بھی اونچا درجہ دے دیا گیا۔برٹش آرمی میں ایک کرنل Flemming ہوتے تھے ۔ اُن کے نام سے لاہور میں ابھی تک فلیمنگ روڈ ہے ، یہ سڑک لاہورہوٹل کے قُرب و جوار میں ہے۔اس کرنل صاحب نے پنجابی مسلمانوں کو فوجی ملازمت کا شوق دِلانے کے لئے پنجاب کی مارشل قوم پر کتاب لکھی اور مسلمان جاٹوں، آرائیوں، اعوانوں، گکھڑوں، گجروں اور پٹھانوں کو مارشل اقوام کا درجہ دے کر فوجی ملازمت کے لئے خوب اُکسایا۔ انگریز تو 1947 میں چلا گیا اور ہماری پاکستانی فوج 1970ء تک مارشل قوم کے غیر حقیقی مفروضے پر کام کرتی رہی۔ آپ یہ دیکھ لیں کہ پاکستان کی فوج میں 70 کی دھائی تک فوج کی نفری 75 % پنجابی تھی،20فی صد پختون تھی، 2.5 فی صدسندھ سے تھی اور صرف 0.06 فی صد بلوچوں پر مشتمل تھی اور بقیہ آزاد کشمیر یا شمالی علاقوں سے تھی۔1947ء سے 1970ء تک بنگالیوں کی تعداد پاکستانی فوج میں 6.6 فی صد تھی۔انگریز نے مارشل قوم کا ڈھونگ اتنی کامیابی سے چلایا تھا کہ برٹش اِنڈین آرمی میں پنجابی فوجیوں کا 60 فی صد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ بقیہ غیر مسلم فی صد40 تھے جن میں سکھ، ڈوگرے، جاٹ اور رانگھڑ شامل ہوتے تھے۔

پاکستان کی فوج کو ٹریننگ اور ڈسپلن کا معیار برٹش آرمی سے ورثہ میں ملا ہے۔ برٹش سامراج جہاں بھی گیا اُس نے مقامی فوج کو اپنی ٹریننگ سے سخت جان بنا دیا۔ آج کے ہندوستان کی فوج بھی انگریزی روائت پر اپنے جوانوں کی تربیت کرتی ہے۔ عرب دنیا میں Arab Legion انگریز کی بنائی ہوئی سخت جان اور جنگجو فوج تھی جو اُردن کی آرمی کہلاتی تھی۔اس کا کمانڈرمشہور کرنل Glubb Bagehot تھا۔ جسے عرب پیار سے گلب پاشا کہتے تھے۔ پاکستانی فوج کے اِبتدائی سینئر اَفسران برطانیہ کے بہترین اِداروں سے تربیت یافتہ تھے۔ اُنہوں نے ہماری افواج کا ٹریننگ کا معیار کسی صورت Sandhurst سے کم نہیں ہونے دیا حالانکہ پاکستان بطور ریاست اپنے فوجیوں کو برطانیہ جتنی سہولتیں اور مراعات نہیں دے سکتا تھا۔ پاکستان کی فوج کو دنیا کی تمام فوجوں پر جذبے کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے(یہ میَں نہیں کہہ رہا بلکہStephen-p-Cohen جو ایک مؤقر مصنف ہے ، اُس نے اپنی کتاب The Pakistan Army میں یہ کہا ہے)دنیا کے غیر جانبدار عسکری ماہرین پاکستانی فوج کی تربیت ، اہلیت اور کارکردگی کا دنیا کی اعلیٰ ترین افواج سے موازنہ کرتے ہیں۔

ہماری فوج کی کارکردگی کی شہرت کی وجہ سے ہی اقوامِ متحدہ کی اَمن فوج کے دستوں میں پاکستانی فوج بہت نمایاں ہے۔ 1960ء سے اَب تک نیلی ٹوپی والی پاکستانی امن فوج 13 ممالک میں خدمات انجام دے چکی ہے۔ پاکستانی اَمن کے فوجی دستے متاثرہ ممالک کے عوام کے لئے وہ خدمات بھی سر انجام دیتے ہیں جو UNO کے چارٹر میں درج بھی نہیں ہوتیں۔ جو چیز ہمارے سپاہی اور اَفسر کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے وہ ہے جذبہِ شہادت۔بطور مسلمان ہم بعداز موت زندگی پر ایمان رکھتے ہیں اور روزِ قیامت سزا اور جزاء پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس لئے ہمارا سپاہی شہادت کا درجہ پانے کے لئے قدم بڑھاکر جنگ میں حصہ لیتا ہے۔ دراصل اِسلام کے قرآنی نقطۂ نظر سے اصل شہادت وہی ہوتی ہے جو دین یا مسلم ریاست کی حفاظت کے لئے ہو۔ہم پاکستانیوں نے شہادت کے عظیم درجے کو نہایت ارزاں کر دیا ہے۔ ٹریفک کے حادثے میں ہلاک ہونے والے کو بھی شہید بنا دیتے ہیں۔ جُرم کی پاداش میں پھانسی پر لٹک جانے والے کو بھی شہادت کا درجہ دے کر اُسے ولی بنا دیتے ہیں۔ دنیا کی غیر مُسلم فوجیوں کو محاذ پر بہادری کے جوہر دِکھانے کے لئے شراب کی محدود مقدار بطور نشہ دی جاتی ہے جبکہ ہمارا سپاہی شہادت کے نشے میں اپنی جان کی حفاظت کو پسِ پردہ رکھتے ہوئے خطروں کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ غازی اور شہید کا تصوّر اسلامی ہے اور اس جذبے کو پاکستانی فوج نے مکمل طور پر اپنایا ہے۔ جنرل ضیاالحق نے تو ہماری فوج کا MOTO بھی بدل دیا تھا۔ ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ جنرل پرویز مشرف نے اس موٹو کو تبدیل کر دیا تھا۔

پاکستان کی فوج کو ہم ڈیزائنر فوج سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔جس طرح کسی ڈیزائنر پراڈکٹ کی شکل و صورت، رنگ و روپ، افادیت اور پیکنگ ہمیشہ یکساں رہتی ہے یا اُس میں تھوڑی بہت Improvment ہی ہوتی رہتی ہے، اس طرح پاکستان آرمی کا معیار ہے No compromise in quality . پاکستانی فوج کا ایک ہی اِدارہ رہ گیا ہے جو سپاہی کی بھرتی سے لے کر بڑی محکمانہ ترقیوں تک ہر قسم کی مداخلت سے محفوظ ہے۔ فوج کے سربراہ کی تقرری میں تھوڑی بہت سیاسی ترجیحات ضرور آڑے آتی ہیں۔ لیکن یہ ہمارے قانون کی خرابی ہے اور یہ ہی خرابی پچھلے مارشلاؤں کا باعث بنتی رہی ہے۔ سیاسی قیادت نے جن جرنیلوں کو اُصولوں سے ہٹ کر فوج کا سربراہ بنایا وہی جرنیل سیاسی قیادت کی ہر قسم کی توقعات پوری نہ کر سکا جسکے بدلے سیاسی بڑوں کو پھانسی پر لٹکنا پڑا یا جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ فوجی اِدارہ ایک ایٹمی ذرّے کی طرح منظم ہوتا ہے۔ اس ذرّے کی تھوڑی بہت ہیئت بدلنے کی کوشش کی جائے گی تو تباہ کُن Energy برآمد ہو گی۔ ہمارے دانشور مرد و زن حضرات پاکستانی فوج کی تراش خراش کی تجاویز دیتے رہتے ہیں لیکن اُن کی تجاویز میں خلوض نہیں ہوتا بلکہ اپنی دانشوری اور لبرل اِزم (فراخ دلی) کی تشہیر ہوتی ہے۔

مزید : کالم


loading...