اب جے آئی ٹی کو کام کرنے دیں!

اب جے آئی ٹی کو کام کرنے دیں!
 اب جے آئی ٹی کو کام کرنے دیں!

  


پاناما کیس میں جے آئی ٹی بن گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پوری عرق ریزی سے جے آئی ٹی کے ارکان کا انتخاب کیا ہے۔ منتخب ہونے والے افسران کی اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق وہ سب پروفیشنل ہیں، اپنے شعبے میں تجربہ رکھتے ہیں اور ماضی میں ایسے بڑے کیسوں پر کام کرچکے ہیں، جو بااثر طبقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ بہتر یہی ہے کہ اب اس باب کو بند کرکے جے آئی ٹی کو پوری توجہ، محنت اور لگن سے کام کرنے دیا جائے۔ ایسی مضحکہ خیز تجاویز کی کوئی گنجائش نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف یا ان کے بیٹے جب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں تو اس موقع پر براہ راست کوریج کا انتظام کیا جائے۔ بھلا ایسا کہاں ہوتا ہے اور کس قانون یاضابطے کے تحت ایسا کیاجاسکتا ہے؟ اگر جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی مرضی اور نگرانی میں بن گئی ہے، تو اب اسے کسی بھی قسم کی تنقید کا نشانہ بنانے سے مکمل طور پر گریز کیا جائے۔ملک کی سب سے بڑی عدالت جے آئی ٹی کو مانیٹر کرے گی، اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ ایک طرح سے یہ کیس سپریم کورٹ ہی میں چل رہا ہے، بس سپریم کورٹ نے تحقیق و تفتیش کی ذمہ داری جے آئی ٹی کو سونپ دی ہے۔۔۔کئی ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ گزشتہ ستر برسوں میں سپریم کورٹ نے ایسی کوئی جے آئی ٹی نہیں بنائی، حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف متنازعہ قتل کیس میں بھی یہ آپشن استعمال نہیں کیا گیا۔۔۔ عرفان قادر جیسے وکلاء کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ نے جو کچھ کیا ہے، اس کی آئین میں گنجائش ہی نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے باوجود سپریم کورٹ کا بنچ اس کی بنیاد پر نواز شریف کے حق یا خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ عملدرآمد کے لئے کسی ادارے کو بھیج سکتا ہے، جیسے الیکشن کمیشن یا نیب۔۔۔ ایسی باتوں کا میرے نزدیک اب کوئی فائدہ نہیں۔ اگر پچھلے ستر برس میں سپریم کورٹ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اب بھی تویہ کام سپریم کورٹ نے ہی کیا ہے اور سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہونے کے ناطے کوئی بھی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ ابھی مرحلہ تو صرف یہ درپیش ہے کہ سپریم کورٹ نے جو 12سوالات دیئے ہیں، جے آئی ٹی ان کے جوابات کیسے تلاش کرتی ہے؟ ابھی تک یہ ابہام دور نہیں ہوسکا کہ ان سوالات کے حوالے سے ثبوت شریف فیملی نے ازخود دینے ہیں یا یہ جے آئی ٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرے؟

اگر موخرالذکر کو درست مان لیا جائے تو یہ کام شیطان کی آنت ثابت ہوسکتا ہے ۔ پھر ساٹھ دن تو کیا ساٹھ ماہ بھی لگ سکتے ہیں، کیونکہ شریف فیملی کی منی ٹریل کوئی ایک جگہ موجود نہیں، بلکہ کئی ممالک میں اس کے تانے بانے موجود ہیں۔ وہاں سے ثبوت اکٹھے کرنا ایک ایسا راستہ ہے جو کسی منزل کی طرف نہیں جاتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سفر کیسے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔ سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے جے آئی ٹی کو ہر پندرہ روز بعد سپریم کورٹ میں اپنی پراگریس رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔ اس رپورٹ سے ہی اندازہ ہو جائے گا کہ تفتیش کس سمت میں جاری ہے اور کیا دی گئی مدت کے مطابق مکمل ہو جائے گی؟۔۔۔سپریم کورٹ کے بنچ نے جس روز جے آئی ٹی کی منظوری دی،اسی روز واشگاف الفاظ میں یہ پیغام بھی دیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو متنازعہ بنانے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔ اب یہ باتیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ ججوں کی طرف سے یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جے آئی ٹی کو خود سپریم کورٹ مانیٹر کرے گی، اس لئے کسی دوسرے کو خواہ مخواہ اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ سمجھ داروں کے لئے تو اتنا ہی کافی ہونا چاہئے کہ سپریم کورٹ کے بنچ نے مختلف محکموں کی طرف سے جے آئی ٹی کے لئے نام دینے کے ضمن میں ڈنڈی مارنے کی کسی ممکنہ کوشش کو ناکام بنادیا ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو لوگ اس جے آئی ٹی کو پہلے قائم کی گئی ایسی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے مماثل قرار دے رہے ہیں، وہ اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ اس سے پیشتر کون سی ایسی جے آئی ٹی بنی ہے، جس کی نگرانی سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بنچ نے کی ہو؟ تمام جے آئی ٹیز صرف اپنے افسروں کو جوابدہ رہی ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں یہ ایک ایسا ’’کمیشن‘‘ ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی شامل ہیں اور ان کے ساتھ ملک کے تمام اہم محکموں کے انتہائی ذہین اور غیر جانبدار افسران کی ٹیم بھی موجود ہے۔ اس سے زیادہ بااختیار نہ تو کوئی کمیشن بن سکتا ہے اور نہ جے آئی ٹی تشکیل پاسکتی ہے۔۔۔ایک اور مغالطہ جو اس وقت عوام کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، وہ ڈان لیکس اور پاناما لیکس کے حوالے سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشنوں کا موازنہ ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح وزیر اعظم نواز شریف نے ڈان لیکس پر رپورٹ کو نافذ نہیں ہونے دیا اور اس کے مخصوص حصے سامنے لاکر حقیقی کرداروں کو بچانے کی کوشش کی، جن پر فوج کی طرف سے سخت رد عمل بھی آیا، اسی طرح وہ پاناما لیکس کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی سامنے نہیں آنے دیں گے اور صرف انہی نکات کو سامنے لائیں گے جو ان کی بے گناہی کو ثابت کرتے ہوں، اس لئے ضروری ہے کہ نواز شریف جے آئی ٹی کی تحقیقات اور اس کی رپورٹ سامنے آنے تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

ایسا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی محض ایک تحقیقاتی ٹیم ہے، جسے لامحدود اختیارات نہیں دیئے گئے، بلکہ سپریم کورٹ نے اس کی تحقیقات کا دائرہ محدود کردیا ہے۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ اس کی رپورٹ حکومت کوپیش نہیں ہونی، بلکہ سیدھی سپریم کورٹ کے پاس جانی ہے۔ وہی اس کی رپورٹ پر پاناما کیس کا حتمی فیصلہ کرے گی۔ مجھے تو یہ بات خلاف قیاس لگتی ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان اس حقیقت کے باوجود کہ ان کی نگرانی براہ راست سپریم کورٹ کررہی ہے، کسی بھی طرح حکومت سے مرعوب ہو جائیں گے۔ یہ بات بھی منطق کے خلاف لگتی ہے کہ جے آئی ٹی کے افسران اپنے طور پر حقائق کو توڑ مروڑ سکتے ہیں، جبکہ اس وقت سپریم کورٹ کاجو تین رکنی بنچ ہے، وہ انہی ججوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے پاناما کیس کو نہ صرف سنا ہے، بلکہ اس کے ایک ایک ثبوت کو ٹھوک بجاکے دیکھا بھی ہے اور بال کی کھال تک اتاردی ہے،اس لئے اب اس طرح کا چانس ہرگز نہیں کہ کوئیجے آئی ٹی کی زیر کو زبر کرسکے، تاوقتیکہ اس کے پاس ناقابلِ تردید ثبوت نہ آجائیں ۔۔۔ اگر ہم نے منجدھار سے نکلنا ہے، آگے بڑھنا ہے، تو پھر ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ کوئی ایسا تاثر پیدا نہ ہونے دے، جس سے لگے وہ آزادانہ تحقیقات میں مداخلت کررہی ہے۔پوری قوم کی نظریں جے آئی ٹی پر جمی ہیں، اس لئے کوئی بھی ایسا تاثر پیدا ہواتو یہ حکومت کے لئے نقصان دہ ہوگا، کیونکہ پہلے ہی یہ کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں آزادانہ تحقیقات ممکن نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو طول دینے کا عمل بھی کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑے گا۔ خاص طور پر ان حالات میں جب اپوزیشن سڑکوں پر ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں وزیر اعظم نوازشریف کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ شریف فیملی کو سنجیدگی کے ساتھ ان نکات کے جوابات دینے پر توجہ دینی چاہئے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دیئے گئے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات مع ثبوت اگر نہ دیئے گئے تو پھر اس گرداب سے نکلنا مشکل ہے، جس میں وہ گھر چکی ہے۔ مریم نواز شریف چاہے جتنا بھی کہیں کہ پانامالیکس ایک کچرا ہے، جس کی کوئی اہمیت نہیں، مگر اب پاناما لیکس بہت پیچھے رہ چکی ہے اور پاناما کیس سامنے کھڑا ہے۔ اب یہ سب کچھ ایک کیس کی شکل میں سپریم کورٹ کے پاس زیر التوا ہے اور اس کا کوئی نہ کوئی فیصلہ تو ہونا ہے۔ ساٹھ دن میں جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کا فائدہ شریف فیملی کو بھی ہے کہ وہ اگر منی ٹریل ثابت کرکے اس کیس کو جھوٹا ثابت کردیتی ہے تو آنے والے انتخابات میں ایک فاتح کے طور پر حصہ لے سکتی ہے، لیکن اگر یہ کیس لٹکتا رہتاہے تو پھر اپوزیشن کے ہاتھ میں شریف فیملی کے خلاف خطرناک انتخابی ہتھیار ہوگا۔

مزید : کالم


loading...