پاکستانی ہاکی ٹیم ماضی کی تابندہ روایات زندہ کرسکے گی؟

پاکستانی ہاکی ٹیم ماضی کی تابندہ روایات زندہ کرسکے گی؟

قومی ہاکی ٹیم جون میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈز میں شرکت کی تیاریوں میں مصروف ہے گرین شرٹس اور پی ایچ ایف کے لئے سب سے بڑا چیلنج اس ایونٹ میں جیت ہے اگر قومی ہاکی ٹیم اس ایونٹ میں شکست کا سامنا کرتی ہے تو اس کا ورلڈ کپ ہاکی میں شرکت کا خواب ادھورا رہ جائے گا او ر اس طرح پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوگی۔چار مرتبہ عالمی چیمپن رہنے کے بعد 2014ء کے ورلڈ کپ میں ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث شرکت کی اہل نہیں ہوسکی تھی جبکہ 2016ء کے اولمپک مقابلوں میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر نیچے ہونے کے باعث پاکستان کی ٹیم کو شرکت نہ کرنے سے محروم ہونا پڑا پاکستان ہاکی ٹیم اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ سے بھی باہر ہوچکی ہے اور اس مرتبہ یہ ایونٹ پہلی مرتبہ پاکستان کے بغیر کھیلا جارہا ہے۔اس وقت پاکستان کا عالمی رینکنگ میں 14 واں نمبر ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم اس وقت ورلڈ کپ کوالیفائنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ خواجہ جنید کا کہنا ہے کہ کھلاڑی بھرپور تیاری میں مصروف ہے اور رینکنگ بہتر کرنے کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ انٹرنیشنل میچز کھیلنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں حال ہی میں ہونے والے ایونٹس میں پاکستان کی کارکردگی کو اس لئے سراہتے ہیں کیونکہ یہ ایک تجرباتی دورہ تھا امید ہے کہ کھلاڑی اگلے ایونٹس میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے اور اس کے لئے بھرپور محنت کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں کامیابی ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور کامیابی آسان نہیں ہے مگر ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور ٹیم پوری جان اور محنت سے میدان میں جیت کاعزم لیکر میدان میں اترے گی اور اگر ٹیم نے عمدہ پرفارمنس دکھائی تو جیت ہمارا مقدر بنے گی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر ( ر) خالد سجاد کھوکھر نے کہا ہے کہ آسٹریلین جونیئر ہاکی نیشنل چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیتنا قومی جونیئر ہاکی ٹیم کے لئے ایک بڑا اعزاز اور اس بات کی واضع نشاندہی ہے کہ ملکی ہاکی کامیابی کے راستے پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دورہ میں قومی جونیئر ہاکی ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل جیتا جوکہ یقینی طور پرمتاثر کن شو تھا جو ہمارے اس دعوی کی تائید کرتا ہے کہ ہاکی اپنے زوال سے باہر نکل رہی ہے ۔پی ایچ ایف کے صدر نے کہا کہ قومی جونیئر ٹیم کی آسٹریلیا میں کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاکی کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ۔بہترین نتائج جونیئر ہاکی ٹیم کی مشترکہ کوششوں اور سخت محنت کا نتیجہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جونیئر ہاکی ٹیم کی کارکردگی یادگار ہے جس نے غیر ملکی سرزمین پر ڈومیسٹک ٹائٹل جیت کر نئی تاریخ رقم کی اور اس پر تمام ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر کا کہنا تھا کہ پی ایچ ایف جونیئر ٹیم کی تشکیل اور مہارت پر خاص زور دے رہی تھی اور ڈیڑھ سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ٹیم ایک وننگ کمبی نیشن میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ہماری جونیئرٹیم کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ جب ہماری جونیئرٹیم اپنے عروج پر تھی تو اسے گزشتہ سال بھارت میں ہونے والے جونیئر ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم کردیا گیا اور ہمارے پاس ٹیم کی پرفارمنس کو دیکھنے اور کھلاڑیوں کو کوالٹی ہاکی کی سرگرمی میں مشغول کرنے کے لئے غیر ملکی دور ہ کا انتظام کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا ۔دورہ آسٹریلیا قومی جونیئر ٹیم کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل کا ہے، کیونکہ ٹیم نے وہاں پانچ ماہ قیام کرنا ہے اور کھلاڑیوں کے پاس بہت اچھاموقع ہوگا کہ وہ آسٹریلیا کے مختلف کلبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہاکی لیگ کھیلیں ۔آسٹریلیا میں کافی ماہ کے قیام سے کھلاڑیوں کو تجربہ ملے گا اور ان میں اعتماد پیدا ہوگا اور وہ مشکل چیلنجوں کو زیادہ پروفیشنل طریقہ سے ہینڈل کریں گے ۔ماضی میں پی ایچ ایف کی کسی بھی انتظامیہ نے جونیئر ٹیم کو اتنے لمبے عرصے تک کسی بھی ملک میں نہیں بھیجا تاہم پی ایچ ایف کی موجودہ انتظامیہ نے قومی ہاکی کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے یہ قدم اٹھایا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ قومی سینئر ہاکی ٹیم آئرلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی اور ورلڈ چیمپئن ہاکی لیگ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لئے مختصر دورانیہ کا کیمپ لگایا جائے گا ۔ورلڈ چیمپئن ہاکی لیگ اگلے ورلڈ ہاکی کپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ ہے ۔اگر سینئر ٹیم کے موجودہ کمبی نیشن کو دیکھا جائے تو اس میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑی شامل ہیں، کیونکہ پی ایچ ایف قومی ٹیم کی تشکیل نو کے پلان پر کام کررہی ہے اِس لئے پرانے کھلاڑیوں کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ نوجوان کھلاڑی مکمل طور پر باصلاحیت ہیں اور ٹیم میں اپنی شمولیت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) خالد کھوکھر نے کہا کہ پی ایچ ایف ہاکی کے کھیل کی ترقی کے لئے دلیرانہ قدم اٹھارہی ہے اور ٹیموں کو بہترین بنانا اسکی اولین ترجیع ہے۔ ہمیں ورثہ میں ٹوٹا پھوٹا ہاکی کا ڈھانچہ اور مالی طور پر تباہ حال ہاکی فیڈریشن ملی ہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے سخت کوششوں کے بعد ہم ہاکی کی ڈویلپمنٹ میں واضع بہتری لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سب نہ صرف پی ایچ ایف کی کوششوں کی وجہ سے بلکہ وفاقی حکومت کی سپورٹ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، جس کے لئے ہم حکومت کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر نے کہا کہ وژن2020 ء کے تحت ملک بھر میں ہاکی کی ترقی کے لئے جامع پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس سے ہاکی کے کھیل کو ترقی ملے گی اور ملک میں کھلاڑیوں کو اس جانب توجہ کا بھی موقع ملے گا انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ہاکی کے کھیل کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون سے راولپنڈی میں دو اور ناروال میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہاکی سٹیڈیم زیر تعمیر ہے ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد جونیئر ہاکی کی اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور ان اکیڈمیوں میں سابق اولمپئنز نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کریں گے کوالیفائی کوچز کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو ہاکی اور دیگر سامان بھی فیڈریشن مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہاکی کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے ہم کوشاں ہیں اور اس کے لئے بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب ہاکی فیڈریشن نئی منصوبہ بندی کے تحت پی ایچ ایف رمضان ہاکی فیسٹیول کے انعقاد کے لئے تیاریوں میں مصروف ہے اس ایونٹ میں سکولز، کلبس اور ڈسٹرکٹس کی سطح پر ٹیمیں شرکت کریں گی اور تمام مقابلے فلڈ لائٹس میں منعقد ہوں گے مئی کے آخر میں شدید گرمی کی وجہ سے مقابلے رات کے وقت کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے یہ معاملہ متعلقہ ایوسی ایشنز پر چھوڑا گیا ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں وہ کیسے ایونٹس کا حصہ بن سکتے ہیں،جہاں فلڈ لائٹس دستیاب نہیں وہاں کرائے پر لائٹس کا اہتما م کیا جائے گا مقابلے رمضان میں تراویح کے بعد شروع ہوں گے، جبکہ دوسری جانب ہاکی فیڈریشن نے ملک بھر میں قومی ہاکی کی پروموشن اور ڈویلپمنٹ کے لئے سالانہ ایونٹ2017ء کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا ہے شیڈول کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف او ر چیف آف نیول سٹاف ہاکی چیمپئن شپ کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جبکہ پی ایچ ایف کے ساتھ الحاق شدہ یونٹس صوبوں کی مشاورت سے شیڈول تیار کیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے مینز ایشین چیلنج یکم سے 9 جولائی تک ساتواں سلطان آف جوہر کپ جوہر بارہ ملائشیاء ورلڈ ہاکی لیگ فائنل 15 سے 25 جون کو لندن میں ساتواں مینز انڈور ایشیاء کپ، چھٹا ویمن انڈور ایشیاء کپ ، دسواں مینز ایشیاء کپ 30 سے 8 اکتوبر ڈھاکہ بنگلہ دیش ،آٹھواں ویمن ایشیاء کپ 28 سے9 نومبر جاپان، تھرڈ ویمن ایشیاء چیلنج 30 اکتوبر سے 5 نومبر برونائی ، تھرڈ انڈر16 بوائز ایشیاء کپ چھ سے بارہ نومبر ڈھاکہ بنگلہ دیش ، تھرڈ انڈر 16 گرلز ایشیاء کپ16 سے22 نومبر ورلڈ ہاکی لیگ دو سے دس دسمبر بھارت پانچویں نیشنل جونیئر ویمن ہاکی چیمپن شپ مئی اسلام آباد 30 ویں نیشنل ویمن ہاکی چیمپئن شپ مئی لاہور، انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ ،انٹر ڈسٹرکٹ ہاکی چیمپئن شپ ، انٹر ریجن ہاکی چیمپئن شپ ،بین الصوبائی ہاکی چیمپن شپ ،نیشنل ہاکی چیمپئن شپ نو سے 14 اگست فرسٹ پاکستان سپر لیگ سیکنڈ چیف آف آرمی سٹاف ہاکی کپ،سیکنڈ بریگیڈیئر عاطف میموریل کپ ،سیکنڈ چیف آف نیول سٹاف ہاکی کپ کراچی، ڈیفنس ڈے ہاکی کپ، پنجاب گولڈ ہاکی کپ ، نیشنل بنک گولڈ کپ، پولیس گولڈ کپ بنوں، فرسٹ اسلم روڈ میموریل ہاکی کپ گوجرہ میں منعقد ہوگا ۔

*****

مزید : ایڈیشن 1


loading...