’ ’ میر صاحب بہت سادہ ہیں‘‘

’ ’ میر صاحب بہت سادہ ہیں‘‘
 ’ ’ میر صاحب بہت سادہ ہیں‘‘

  


ایک محفل میں ایک طاقت ور وفاقی وزیر اور حکمران جماعت کے کچھ دیگر رہنما موجود تھے، سیاسی صورتحال پر گپ شپ ہو رہی تھی، ایک سیاسی رہنما نے وفاقی وزیر سے پوچھا کہ آپ نے فلاں مسئلے پر وزیراعظم نواز شریف سے بات کر لی ہے، آپ ان کے ساتھ دورے پر جا رہے تھے اور آپ کا کہنا تھا کہ فلائیٹ کے دوران آپ تفصیل سے بات کر لیں گے، وفاقی وزیر نے جواب دیا، میں نے تو بات کرنا تھی مگر عین وقت پر علم ہوا کہ میر ظفر اللہ جمالی بھی ہمارے ساتھ سفر میں شریک ہوں گے، وہ آئے اور انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ والی نشست سنبھال لی اور اس کے بعدکسی دوسرے کے بات کرنے کی باری نہیں آئی کہ ا ن کی تعریفیں ہی ختم نہیں ہو رہی تھیں، وفاقی وزیر کے مطابق میر صاحب نے وزیراعظم کی اتنی تعریف کی کہ مجھے شرم آنے لگی کہ میں نے تو ان سے وزارت لینے کے باوجود کبھی ان کے لئے ایسے خوشامد بھرے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ مجھے میر ظفر اللہ جمالی کے بارے کچھ عرصہ پہلے سنا ہوا یہ واقعہ اس وقت یاد آیا جب میں نے اپنے دوست صحافی کاشف سلیمان کے قلم سے موصوف کا وہ انٹرویو پڑھا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کی جگہ ہوتا تو آئی ایم سوری کہہ کے استعفیٰ دے دیتا۔

میر ظفر اللہ جمالی نے اسی انٹرویو میں ایک جگہ کہا، ’میں تو آئین کے تحت کام کرنے والا شخص ہوں جب صدر کی خواہش نہیں رہی تومیں نے استعفیٰ دے دیا تھا‘۔ میں جس میرظفر اللہ جمالی کو بطور وزیر اعظم جانتا ہوں اس کا آئین ، جمہوریت اورعوامی سیاست سے دور ، دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ موصوف جس وقت پاکستان کے وزیراعظم بنے اس وقت ملک پر فوجی آمریت تھی، ایک شخص نے محض اپناعہدہ بچانے کے لئے ملک کو ایک اور مارشل لاء کے حوالے کر دیا تھا۔ سیاسی جماعتوں کو توڑاجا رہا تھا، مسلم لیگ نون کے اندر سے مسلم لیگ قاف نکالی جا چکی تھی مگر عام انتخابات میں اس سے بھی کام نہیں چلا تھا تو اس کے بعد پیپلزپارٹی سے غدار تلاش کئے جا رہے تھے۔ راوسکندر اقبال کے بعد ڈیڑھ درجن کے قریب ارکان نے پیپلزپارٹی پٹریاٹ بھی بنا ڈالی تھی، فیصل صالح حیات بھی ان میں شامل تھے جو اب دوبارہ پیپلزپارٹی جوائن کر چکے ہیں، وہ ایک ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہیں اور قارئین سے ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی بھی اپیل ہے، غرض یہ کہ پرویز مشرف نے نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے ضلعی سطح پر اپنی کٹھ پتلی حکومتیں بھی قائم کر لی تھیں مگر سیاست کے میدان میں تمام تر تباہی مچانے کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی کو صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم منتخب کیا جا سکا تھا۔ میرموصوف فرماتے ہیں کہ وہ آئین کے تحت کام کرنے والے شخص ہیں توبتا سکتے ہیں کہ کیا اس وقت ملک پر آئین کی حکمرانی تھی ۔ عوام تو اب ان سے دھوکا کھانے سے رہے شائد وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو دھوکا دے رہے ہیں مگر اصل میں وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ آئین اور جمہوریت تو ایک طرف رہے، وہ ان لوگوں کے ساتھ سیاسی طور پر بھی نہ چل سکے تھے جنہوں نے انہیں بلوچستان کی محرومیوں کے نام پر وزارت عظمی ٰ کاتحفہ دیا تھا ، میں یہاں چودھری برادران کی بات کر رہا ہوں، چودھری برادران کے ساتھ ان کے اختلافات اس حد تک ہو گئے تھے کہ میں نے کارکن صحافی کے طور پر مسلم لیگوں کے حوالے سے ایک ٹی وی رپورٹ تیار کی جس میں میر ظفر اللہ جمالی کا ساٹ یعنی چند فقروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا انٹرویوبھی شامل کر لیا ۔ چودھری پرویز الٰہی اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور رپورٹ کے آن ائیر ہوتے ہی مجھے ایوان وزیراعلیٰ کے سرکاری نمبر سے محترم وزیراعلیٰ کی ایک کال موصول ہو گئی تھی جس میں انہوں نے میر ظفر اللہ جمالی کے چند جملوں پرمبنی موقف پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

سرخی اس انٹرویو کی یہ جمائی گئی ہے کہ نواز شریف کی جگہ ہوتا تو آئی ایم ساری کہہ کر استعفیٰ دے دیتا ، حضرت صاحب نے واقعی چوں چراں کئے بغیر استعفیٰ دے دیا تھا، چودھری شجاعت حسین اس وقت عبوری مدت کے لئے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اوراس کے ذریعے زندگی بھر کے لئے ان کے نام کے ساتھ سابق وزیراعظم لکھا گیا اورپھروزارت عظمیٰ کو لوٹ کے مال کی طرح شوکت عزیز کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مجھے میرصاحب سے کہنا ہے کہ انسان اس مال کی حفاظت کرتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے، جس کے حصول کے لئے اس نے خون پسینہ ایک کیا ہوتا ہے، وہ جائز اور حلا ل ہوتا ہے ورنہ جس قسم کا اقتدار انہیں ملا تھا اسے انگریزی میں ’ ایز ی کم ایزی گو‘ اردو میں ’ مال مفت دل بے رحم ‘ اور پنجابی میں کسی حد تک ’چوری دا مال تے ڈانگاں دے گز‘ کہتے ہیں۔ میر ظفر اللہ جمالی اپنی سیاسی محنت کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے پر نہیں پہنچے تھے، انہیں ایک آمر کے نیچے کٹھ پتلی کے طور پر عہدہ دیا گیا تھا اور کٹھ پتلیوں کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کہ جب ان کی ڈوریاں کھینچ لی جائیں تو اس کے بعد بھی وہ سٹیج پرکھڑے رہنے پر اصرار کریں، ڈوریاں کھنچ جانے پر انہیں منہ کے بل ہی گرجانا ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کا ستم ہے کہ ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز جیسی شخصیات بھی اپنے آپ کو پاکستان کے منتخب وزیراعظم کے طور پر متعارف کرواتی رہی ہیں۔ پاکستان میں دو قسم کے وزیراعظم رہے ہیں ایک وہ جو اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر آئے اور رخصت ہو گئے اور دوسرے وہ جنہوں نے آئینی اور جمہوری حکمرانی کے لئے جدوجہد کی۔

میرظفر اللہ جمالی نے مزید کہا،’ کسی کو گھر بھیجنے کا فیصلہ عوام کر سکتے ہیں۔اگر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کو مینڈیٹ حاصل نہیں رہا تو وہ سڑکوں پر نکلیں،اگر نہیں نکلتے تو اس کا مطلب ہے کہ نواز شریف کو عوام کی حمایت حاصل ہے‘، اس فقرے نے ان کی منتشر خیالی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ میر صاحب نے شائد اوکاڑہ ،لیہ اور دیگر شہروں کے جلسے نہیں دیکھے، ان کی نظر سے شائد تلہ گنگ کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی نہیں گزرے۔ یوں بھی جلسے جلوس تو ایک طرف رہے اگر وہ واقعی آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں محلاتی سازشوں اور چور دروازوں سے اقتدار تلاش کرنے والوں کو اگلے انتخابات کے انتظار کا مشورہ دینا چاہئے تھا جو وہ بوجوہ نہیں دے سکے۔مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اسٹیبلشمنٹ کے دباو میں آ کر استعفیٰ نہیں دینا چاہئے چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ کسی بھی غیر منتخب ادارے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ میں میر ظفر اللہ جمالی کے مشورے پر اس لئے بھی حیران ہورہا ہوں کہ وہ اس نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لئے کہہ رہے ہیں جس نے بارہ اکتوبرننانوے کی شام بندوقوں کی نوک پر بھی استعفیٰ دینے اور عوام کی منتخب اسمبلی توڑنے سے صاف انکار کر دیا تھا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ا س سے پہلے بھی وزیراعظموں کی بہت ساری قربانیاں لی جا چکی ہیں۔

مزید : کالم


loading...