علمائے کرام کسی مسلک کی بجائے اسلام کے عمومی پیغام کی ترویج کریں کل مسالک علماء بورڈ

علمائے کرام کسی مسلک کی بجائے اسلام کے عمومی پیغام کی ترویج کریں کل مسالک ...

 لاہور(فورم رپورٹ ،حافظ عمران انور ،تصاویر ،ذیشان منیر )کل مسالک علماء بورڈ نے بین المذاہب مکالمے کو ضرور ی قراردیدیا ۔ پاکستان فورم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ کاظم رضا نقوی نے کہا کہ اسلام کے دئیے گئے زریں اصول دنیاوی امن کیلئے لازمی ہیں ۔ ہرمذہب کے پیروکاروں کے اپنے عقائدہیں اور کسی کویہ حق نہیں پہنچتاکہ دوسرے کے مذہب یاعقیدے کے حوالے سے نامناسب الفاظ کااستعمال کرے ۔مولانا عاصم مخدوم نے کہا کہ مسلمانوں کے مابین محبت رسولؐ ،محبت آل رسولؐ ،احترام صحابہ کرام اور احترام ازوا ج پیغمبرکی بنیادپرقربت پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ اصول توحیدکی بناپراسلام غیراسلامی الہامی مذاہب کودعوت اتحاددیتاہے، علمائے کرام کسی مسلک کی بجائے اسلام کے عمومی پیغام کی ترویج کریں اورمعاشرہ کی اصلاح کریں ۔حافظ محمد نعمان حامد نے فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وطن سے محبت اور انسانی ہمدردی کوفروغ دینے کی ضرورت ہے ۔علمائے کرام کوجمعہ یاوعظ سے پہلے خود یہ سوچناچاہیے کہ وہ عوام میں ایسی گفتگو سے پرہیزکریں جس سے اشتعال پیداہونے کاامکان ہو۔اسلام دین اعتدال ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام کا لغوی مفہوم ہی سلامتی ،امن ،سکون اور تسلیم ورضاہے۔ مولاناعبدالرب امجد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن وسکون مہذب انسانی معاشرے کی اعلیٰ خصوصیت ہے جہاں توازن واعتدال نہیں وہاں ظلم وتشددہے ، اختلاف رائے ایک فطری اورطبعی امرہے جس کہ نہ مٹایاجاسکتاہے اور نہ ہی اس کومٹانااسلام کامنشاہے ۔مولانامحمدا سلم صدیقی نے کہا کہ قرآن میں اللہ پاک نے فرمایاہے کہ ترجمہ اگر آپ کارب چاہتاتوبنادیتالوگوں کوایک ہی امت ،مگروہ اختلاف میں ہی رہیں گے اسلام میں شورائیت کانظام قائم کیاگیاتاکہ مختلف آراء کی موجودگی میں بصیرت کے ساتھ فیصلہ کیاجاسکے ۔ مولاناقاری انعام الرحیم رحیمی نے فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ؐکی وفات کے بعد صحابہ کے دورمیں پیش آمدہ نئے دینی امورء اجتہادی مسائل اور تعارض آیات واحادیث کے فہم میں اختلاف ہوا۔قرآن وسنت کے مطابق ایک عام مسلمان غیرمسلمانوں کے حوالے سے بھی تعصب ونفرت کا حامل وداعی نہیں ہوسکتاہے۔ مولانا شکیل الرحمان ناصر نے کہا کہ اسلام واضع طورپرایک غیرمسلم کے مقابلے میں مسلمان کی ناحق حمایت کی ممانعت کرتاہے ۔اختلاف اورتنوع کائنات کاایک حسن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیوں میں سے ہے ۔ مفتی عاشق حسین شاہ نے کہا کہ فقہی مسالک کے بعض مسائل میں اختلاف کے علمی اسباب ہیں لہٰذا معاشرہ میں تنوع بہت ضروری ہے،مساوات اور مذہبی آزادی ہرایک کابنیادی حق ہے انسان کوسب سے زیادہ نقصان دشمنی نے پہنچایا کیونکہ اکثروبیشتراس کے آغازسے پہلے یہ نہیں سوچاجاتاکہ جوکام صلح وصفائی سے ہوسکتاتھااس پرطاقت ضائع کیوں کی اورا پناجانی ومالی نقصان کیوں کیا۔علامہ محمد خان لغاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگراسلام کی تاریخ دیکھی جائے تو اسوہ حسنہ یہی ہدایت کرتی ہے کہ معاملے کوامن وسکون سے طے کرلو ،اسلا م مذہبی رواداری پریقین رکھتاہے رواداری کامفہوم صرف یہی نہیں ہے کہ دوسروں کوبرداشت کیاجائے بلکہ اس کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ دوسروں کے مذہبی عقائدواقدار ،جذبات وتہذیبی ورثے وغیرہ کابھی لحاظ رکھاجائے اور ان کے متعلق عدم برداشت یاتحقیرکاایسارویہ اختیارنہ کیاجائے جو ان کیلئے قابل قبول نہ ہواور ان کے جذبات کوٹھیس پہنچانے کاسبب بنے ۔

کل مسالک علماء بورڈ

مزید : علاقائی


loading...