شوپیاں کلورہ واقعے کی فوج براہ راست ذمہ دار ہے ،سید علی گیلانی

شوپیاں کلورہ واقعے کی فوج براہ راست ذمہ دار ہے ،سید علی گیلانی

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی گیلانی نے شوپیاں کے علاقے کلورہ میں بھارتی فوج کے محاصرے کے دوران ایک ڈرائیور کے قتل پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قتل کے لیے براہِ راست فوج ذمہ دار ہے، جس نے آپریشن کے دوران ایک نہتے شہری کو بیگار کے طور پر اپنے ساتھ رکھا تھا ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ علاقے میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور عسکریت پسندوں کا بدلہ عام شہریوں سے لینامعمول بن گیا ہے ۔ حریت چیئرمین نے محاصرے کے دوران شہریوں پرمظالم اوران کے مکانات، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارتی فوج کو لوگوں پر تشدد ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ سید علی گیلانی نے اپنے بیان میں قطب الدین پورہ نوہٹہ میں رات کے قت چھاپوں ، گھریلو اشیاء اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ پر بھی اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک جوان کو گرفتار کرنے کے لیے پورے محلے پر قہر ڈھایا گیا ہے ۔ دریں اثنا سید علی گیلانی نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے انتہائی ہوشیار رہتے ہوئے انہیں ایسے تعلیمی اداروں میں ہرگز داخل نہ کریں جنہیں بھارتی فوج اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے قائم کرر ہی ہے۔ انہوں نے بھارتی فوج کی طرف سے ’’گْڈ ول اسکولوں‘‘ کے قیام کو ایک تشویشناک معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کشمیری بچوں کی جبری قبضے کے حق میں ذہن سازی کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے اور ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچے غیر محسوس طریقے پر اپنی دینی اور تہذیبی اقدار سے بھی غیر مانوس بنائے جارہے ہیں۔

سید علی گیلانی نے کہاکہ بھارتی فوج کے قائم کردہ سکولوں میں ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریات کو فروع دیا جا رہاہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل اور ذہنی نشوونما کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں اور انہیں کسی بھی صورت میں’’ گڈ وِل اسکولوں‘‘ میں داخل نہ کرائیں۔

ابھی گزشتہ تیس اپریل کو انہوں نے اپنی ماہانہ ریڈیو تقریر میں بھی اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے سب کا ساتھ، سب کا وکاس(ترقی)کے اصول پر تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پڑوسی ملکوں کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے گی اور یہ جنوبی ایشیا میں تعاون بڑھانے کے سمت ایک قابل ذکر قدم ہے۔خیال رہے کہ اس پروجیکٹ میں نیپال، بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش اور افغانستان شامل ہیں، جب کہ پاکستان نے اس میں شمولیت سے انکار کردیا تھا۔ اس کے انکار کے بعد ہی اس پروجیکٹ کا نام ’سارک سیٹلائٹ‘ سے بدل کر ’ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ کیا گیاتھا۔ اسے دسمبر 2016ء میں ہی لانچ کرنے کا پروگرام تھا لیکن بعض وجوہات کی بناء پر اس میں تاخیر ہوگئی۔ دوسری طرف افغانستان نے ابھی اس پر باضابطہ دستخط نہیں کئے ۔

مزید : عالمی منظر


loading...