ترکی میں سزائے موت سے متعلق ریفرنڈم، جرمنی میں پولنگ ناممکن

ترکی میں سزائے موت سے متعلق ریفرنڈم، جرمنی میں پولنگ ناممکن

انقرہ(این این آئی)جرمن حکومت نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا ہے کہ اگر ترکی میں سزائے موت کی بحالی کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا تو جرمنی میں آباد ترک ووٹرز کی اس میں شمولیت کے لیے جرمنی میں پولنگ اسٹیشن بنائے جا سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی میں سکونت پذیر ترک ووٹرز ایسے کسی ممکنہ ریفرنڈم میں شرکت سے محروم رہیں گے، جس میں ترکی میں سزائے موت کی بحالی پر کوئی عوامی فیصلہ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن ملک میں سزائے موت کی بحالی کے حوالے سے کئی بار یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ یہ سزا قانونا بحال کرنا چاہتے ہیں۔ جرمن چانسلرمیرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ نے کہاکہ اگر ترکی میں ایسا کوئی ریفرنڈم کرایا جاتا ہے تو جرمنی میں اس کے لیے پولنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے انقرہ نے برلن کو کوئی درخواست ارسال نہیں کی ہے۔ جرمنی میں 1.41 ملین ترک ووٹرز بھی آباد ہیں، جن کی اکثریت نے حالیہ ترک ریفرنڈم میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔جرمن چانسلر میرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ نے کہا کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ جرمنی ایک ایسی ووٹنگ پر آمادہ ہو جائے، جو ملکی اور یورپی آئینی اقدار کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی میں ایسا کوئی ریفرنڈم منعقد کرایا جاتا ہے تو جرمنی میں ترک سفارتخانے یا قونصل خانوں میں اس سلسلے میں ووٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے البتہ کہا کہ دیگر یورپی ممالک کو اس حوالے سے خود فیصلہ کرنا ہوگا۔جرمنی میں آباد ترک ووٹرز میں سے قریب دو تہائی یعنی 63.1 فیصد نے حالیہ ترک ریفرنڈم میں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد ترکی میں صدارتی نظام متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یوں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ ترکی میں اپوزیشن کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام کے ختم ہونے سے طاقت کا محور ایک فرد بن جائے گا اور یہ جمہوری اقدار کے منافی ہو گا۔

مزید : عالمی منظر


loading...