سابق امریکی صدر رونالڈریگن کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کا انکشاف

سابق امریکی صدر رونالڈریگن کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کا انکشاف
 سابق امریکی صدر رونالڈریگن کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کا انکشاف

  


 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے دور میں ان کے پاس سی آئی اے کی ایک ایسی رپورٹ آئی جس کو اگر وہ نہ چھپاتے تو تیسری عالمی جنگ چھڑ جاتی۔ اسوقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی اور پہلے ہی انکے درمیان جنگ چھڑنے کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ اسی دوران سی آئی اے نے اپنی خفیہ جاسوسی پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی جس میں وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ پوپ جان پال دوئم کو قتل کرنے کی جو ناکام کوشش ہوئی تھی، اس کے پیچھے سوویت یونین کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کا ہاتھ تھا۔ اسوقت کے انتہائی کشیدہ حالات میں اگر رپورٹ منظر عام پر آجاتی تو امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان لازمی جنگ چھڑ جاتی جو تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی تھی۔ یہ تمام انکشافات امریکہ میں چھپنے والی ایک تازہ کتاب میں شامل ہیں۔ ’’آئی ایس آئی بکس‘‘ نامی اشاعتی ادارے کی اس کتاب کا مکمل نام :

"A pope and a president : John Paul II, Ronald Regan and The Extraordinary Untold Story of The 20th Century."

کتاب کے مصنف پال کنگور ہیں جو پہلے سے ہی خفیہ دستاویزات تک رسائی رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس نمائندے نے واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک میں اپنے ذرائع سے اس کتاب کی ایک کاپی مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی تحفۃً حاصل کی ہے۔ کتاب میں مصنف نے بتایا ہے سی آئی اے کا یہ دھماکہ خیز انکشاف قبل ازیں کبھی سامنے نہیں آیا، کیونکہ صدر ریگن نے رپورٹ کو پڑھنے کے بعد اسے ’’مستقل دفن‘‘ کر دیا تھا اور اب انہوں نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرکے یہ دستاویز حاصل کی ہے۔ کتاب کے اہم حصوں میں سے اخذ کرکے اس نمائندے نے یہ ابتدائی رپورٹ تیار کی ہے۔ جن ذرائع نے سی آئی اے رپورٹ کتاب کے مصنف کو فراہم کی تھی، ان کا یہ تبصرہ بھی مصنف نے کتاب میں شامل کیا ہے کہ ’’میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی سنسنی خیز رپورٹ نہیں دیکھی جسے اتنا خفیہ رکھا گیا ہو، اگر یہ اسوقت کسی کے ہاتھ لگ جاتی اور منظر عام پر آجاتی تو یہ بیسیویں صدی کی سب سے بڑی دھماکہ خیز رپورٹ شمار ہوتی۔‘‘ مصنف لکھتا ہے یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین ابھی ٹوٹا نہیں تھا جو رنگین اور پوپ دونوں کو اپنے لئے دہرا خطرہ سمجھتا تھا۔ ایک طویل عرصے تک پوپ پال پر ناکام حملے کا شبہ سوویت یونین پر کیا جاتا رہا، لیکن امریکہ کی طرف سے سرکاری طور پر یہ الزام نہیں لگا اور نہ ہی کوئی سرکاری دستاویز سامنے آئی۔ سی آئی اے کی اس خفیہ رپورٹ میں وہ شواہد بھی پیش کئے گئے جن کی بناء پر پوپ پال دوئم پر حملے کی ذمہ داری سوویت یونین کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی گرو (GRU) پر عائد کی گئی ہے۔ کتاب میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سازش میں ملوث ایجنسی کے ارکان میں سے دو اسوقت روسی صدر پیوٹن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ پولینڈ اسوقت سوویت یونین کی کمیونزم کے زیر اثر تھا اور پہلی مرتبہ پوپ جان پال دوئم کی صورت میں ایک ایسا پوپ منتخب ہوا تھا جس کا تعلق ویٹیکن سے نہیں تھا اور جسکا نسلاً پولینڈ سے تعلق تھا، چونکہ پولینڈ سوویت یونین کے زیر اثر تھا اسلئے ایک ایسے پوپ کا چنا جانا جس کا نسلاً تعلق پولینڈ سے ہو، سوویت یونین کے توسیعی عزائم کیلئے خطرے کا باعث تھا۔ اس کے علاوہ رونالڈ ریگن کی طرح پوپ پال نے بھی سوویت یونین کیخلاف جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ پوپ پال کے انتخاب کے دو سال بعد رونالڈ ریگن صدر بنے تو ان دونوں نے مل کر باقاعدہ سوویت یونین اور اس کے کمیونسٹ نظریات کیخلاف مہم شروع کر دی تھی۔ مصنف نے ایک نوویٹ رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں پوپ کو ’’بدباطن، کینہ پرور، بدکردار اور پسماندہ‘‘ قرار دیا تھا، اس کے علاوہ یہ بھی کہا تھا پوپ امریکہ کے فوجی عزائم رکھنے والے ٹولے کا ’’ٹو ڈی‘‘ ہے جو اپنے بیرون ملک حمایتوں کی مدد سے کمیونزم کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہے۔ اس کتاب کے مندرجات پر مبنی مزید رپورٹ آئندہ پیش کی جائے گی۔

رونالڈریگن

مزید : صفحہ اول


loading...