دہشت گردی کے بعد توانائی کے بحران پر بھی قابو پالیں گے ، مریم اورنگزیب

دہشت گردی کے بعد توانائی کے بحران پر بھی قابو پالیں گے ، مریم اورنگزیب

کراچی(سٹاف رپورٹر)وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں سب بڑا مسئلہ دہشت گردی کا تھا ،وزیر اعظم میاں محمدنوازشریف کی خصوصی دلچسپی ،افواج پاکستان اور دیگر سیکورٹی فورسز کی کاوشوں سے جس پر موثر انداز میں قابو پالیا گیا ہے۔ماضی میں سالانہ 2500 سے 2600 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے تھے جو اب کم ہوکر 180 تک رہ گئے ہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کاہے جس پر حکومت نے جنگی بنیادوں پر کام کیا بہت جلد ملک میں توانائی بحران پر بھی قابو پالیا جائے گا، فلمی صنعت کی ترقی کے لئے مجوزہ فلم پالیسی وفاقی سطح پر تیارکی جا رہی ہے اور اس پر عملدرآمد میں صوبوں کا بھی اہم کردار ہوگا، وزیر اعظم محمد نواز شریف فلم انڈسٹری کی بحالی چاہتے ہیں، فلمی صنعت کی ترقی کے لئے پروفیشنل اکیڈمیز بنائی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز گورنر ہاؤس میں مجوزہ فلم پالیسی 2017ء کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں کیا۔اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر، ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس جمال شاہ اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا وژن ہے کہ ملک اقتصادی ترقی کرے اور امن قائم ہو موجودہ دور حکومت میں جوبہتری آئی ہے خواہ وہ اقتصادی میدان ہو یا کوئی اور شعبہ اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء میں ہماری فلم انڈسٹری دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتی تھی اور ہمارے فنکار دنیا بھر میں ہماری پہنچان تھے بدقسمتی سے ہماری فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہوگئی ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فلم انڈسٹری پالیسی 2017ء بنائی جا رہی ہے اس حوالے سے کراچی کے فنکاروں ، پروڈیوسروں، سینما مالکان اور دیگر سے دو روز تک طویل نشست ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم فلم کے زریعے پاکستان کے سوفٹ امیج، ورثہ اور ادب کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ تعلیمی نصاب میں اس چیزوں کوشامل کیا جائے ۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پالیسی کا مقصد اچھی فلموں کی تیاری کے لئے سارگار ماحول فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت فلم بنانے ککے خواہش مند افراد کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سینما انڈسٹری کا قیام اچھی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے حوالے سے ہم نے میں چند نکات نوٹ کئے ہیں جن میں انڈسٹری کا سب سے بڑا مسئلہ فلم فائناسنگ کا ہے ان کو ایسا ماحول میسر کریں گے جس سے انہیں فلم بنانے میں مدد ملے ، کیمرے اور دیگر مشینری اگر وہ باہر سے منگوانا چاہیں تو حکومت ان کو اس کے لئے سہولتیں مہیا کریں، فنکاروں، پروڈیوسروں اور دیگرمتعلقہ افراد کی رہنمائی کے لئے پروفیشنل اکیڈمیز بنائی جائیں، ایسے طالب علم جو فلم بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں ان کو پروموٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب کوئی فنکار علیل ہوتا ہے یا جب وفات پا جاتا ہے تو حکومت کی طرف سے ایک بیان جاری کیا جاتا ہے یہ اس فنکار کی تذہیک ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں فنکار وں کی فلاح و بہبودکے لئے کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ گورنر سندھ نے فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد کے لئے گورنرہاؤس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی نشستیں لاہور کے فنکاروں، پروڈیوسروں اور سینما مالکان کے ساتھ بہت جلد رکھیں گے تاکہ وہاں کے مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔ قبل ازیں وزیرمملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کراچی کے فلم پروڈیوسرز، پروڈکشن ہاؤسزااورسینما مالکان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ فلم پالیسی بنائے جانے کا مقصد مقامی فلم سازوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کر کے فلم کے ذریعے ملک کا مثبت امیج اور قومی ورثہ کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کی چیز کی کمی محسوس کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری فلموں اور ڈراموں میں بچوں کے پروگرام بہت کم ہیں جبکہ شدت پسند بچوں کوانتہا پسندی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ پالیسی میں بچوں کے پروگراموں پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا وژن ہے کہ ملک میں گزشتہ چند سالوں میں جو بہتری آئی ہے اس کو سلور اسکرین کے ذریعے اجاگر کیا جائے تاکہ دنیا کوپاکستان میں موجود ٹیلنٹ اور سوفٹ امیج کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مختلف ممالک کی فلم انڈسٹری کے حوالے سے پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جنہوں نے مثبت تبدیلیوں کے ذریعے اپنی فلم انڈسٹری کو ترقی دی ہے جن میں چین، بنگلہ دیش اور ایران خصوصی طور پر شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...