کابل پر دہلی کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ، پاکستان پھر بھی بہتر تعلقات کیلئے پر عزم

کابل پر دہلی کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ، پاکستان پھر بھی بہتر تعلقات کیلئے ...

کابل ( خصوصی تجزیہ :سہیل چوہدری)اگرچہ دو روز قبل پاک افغان بارڈر پر فائرنگ اور اشتعال انگیزی کے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں لیکن پاکستان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور طور خم بارڈر کی صرف ایک روز بندش کے بعد اسے کھول دیا گیا ، لیکن کابل آکر یہ ا حساس ہوتاہے کہ یہاں بھارتی اثر ورسوخ نے بہت حد تک اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں لیکن پاکستان افغانستان سے تعلقات معمول پر لانے کی ہر ممکن کوششیں کررہاہے ، اگرچہ چمن بارڈر پر جہاں افغانستان کی جانب سے 5مئی کو پاکستان کی مردم شماری ٹیم پر فائرنگ کی گئی پاکستان 29اپریل کو ہی افغان بارڈر حکام کو مطلع کر چکاتھایہ علاقہ پاکستان کا جغرافیائی حصہ ہے اور افغان بارڈر فورسزکے اس علاقہ کو افغا نستان کا حصہ قرار دینے کے دعویٰ کو مسترد کردیا تھا بعدازاں دفتر خارجہ پاکستان نے افغان حکومت کو تحریری طورپر بھی اس بابت آگاہ کیا اور ان سے جواب طلب کیا ، تاہم دوسری جانب سے کوئی جواب نہ بن پانے کے بعد پانچ مئی کو مردم شماری کیلئے مذکورہ گاؤں ٹیم بھیجی گئی تو اس پر افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کھول دی ، کابل میں پاکستان نواز حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ جب بھی پاکستان افغانستان سے تعلقا ت بہتر کرنے اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاؤن کیلئے ہاتھ بڑھاتاہے تو کچھ ایسے واقعات رونماہوجاتے ہیں کہ بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اگر دیکھا جائے تو برطانیہ کی جانب سے پاک افغان تعلقات کی سہہ فریقی کانفرنس کے انعقاد کے بعد پاکستان نے یکے بعد دیگرے ا فغانستان کیساتھ اعتماد سازی کے کئی اقدامات کئے جن میں قابل ذکر چیف آف جنرل سٹاف جنرل بلال اکبر، آئی ایس آئی چیف جنرل نو ید مختار کے افغانستان کے اہم ترین دوروں کے علاوہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں 3وفاقی وزراء اور تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل انتہائی اہم اور طاقتور پارلیمانی وفد کابل آیا یہاں اہم ترین ملاقاتیں کیں بالخصوص افغان صدر اشرف غنی کیساتھ ملاقات میں خیر سگالی اورنیک جذبات کا اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کی پارلیمان کے باہم ادارتی تعلقات کو استوار کیا جاسکے ، ا گر چہ پا کستانی پارلیمانی رہنماؤں کے ذرائع کے مطابق اشرف غنی نے خاصے سخت انداز میں گلے شکوے بھی کئے لیکن پاکستانی وفد نے انہیں ٹھنڈے دل سے سنا ،افغان صدر اشرف غنی نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر پاکستان کا دورہ کیا تھا اب وہ خواہاں ہیں کہ پاکستان کی قیادت افغانستان کا دورہ کرئے، تاہم ان اہم ترین دوروں کی ہیٹ ٹرک کیساتھ ہی چمن بارڈر پر فائرنگ کا ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا ، بس ایسالگتاہے کابل پر دہلی کا جادو سر چڑھ کر بول رہاہے ، پاکستان افغانستان سے تعلقات میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو یہ تعلقات دو قد م پیچھے ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان پھر بھی مایوس نہیں اور بارڈر پر سنگین نوعیت کے واقعات کے بعد بھی افغانستان سے تعلقات کی بہتری کی امید کا دیا روشن رکھے ہوئے ہے اسکی سب سے بڑی مثال13رکنی پاکستانی میڈیا کے وفد کی 5روزہ دورہ پرکابل آمد ہے پاکستان پر امید ہے کہ افغانستان کیساتھ اس کے دیرینہ ہمہ جہت تعلقات بحال ہوجائیں گے ، کابل میں پاکستانی سفارتخانہ اس حوالے سے خاصا پر عزم د کھائی دیتا ہے اگرچہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ 2015میں اختتام پذیر ہوگیا تھا ، لیکن پاکستان نے معاہدہ کی تجدید کیلئے افغان وزارت کامرس سے نہ صرف رجوع کر رکھا ہے بلکہ معاہدے کے کالعدم ہونے کے باوجود اسی معاہدے کے تحت افغانستان کو تجارتی مراعات جاری رکھی ہوئی ہیں ، علاوہ ازیں پاکستان نے 500ملین ڈالر کی وسیع گرانٹ کے تحت افغانستان میں 3بڑے ہسپتالوں اور ایک شاہراہ سمیت انفراسٹرکچر کے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جو تکمیل کے قریب ہیں جبکہ 10ہزار افغان طالبعلم پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن میں سے تین ہزار طالبعلم پاکستانی وظائف پر تعلیم حاصل کررہے ہیں ،پاکستان سمجھتا ہے ایک مستحکم افغانستان اس کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان کے انرجی کے منصوبے کاسا اور تاپی کے علاوہ وسطی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کیساتھ ترقیاتی منصوبوں کا انحصار ا فغا نستا ن میں قیام امن پر ہے،کابل میں بلاشبہ بھارت کااثرورسوخ کافی ہے لیکن یہاں درجنوں بھارتی قونصلیٹ کھلنے کے واضح ثبوت موجود نہیں ہیں تاہم امریکہ اورمغربی دنیا کی جانب سے بھارت کو چین کے تناظر میں ایک وسیع کرداردینے کے تناظر میں بھارتی انتظامیہ نے ا فغانستان میں ڈالروں کی یلغارکررکھی ہے اسلئے پاک افغان تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے فی الحال ملے جلے اشارے ملتے ہیں لیکن جلد یابدیر صورتحال کا بہتری کی طرف جانے کاامکان موجود ہے ،پاکستانی میڈیا وفد کا پہلے روز یہاں دوا ہم میڈیا کے اداروں سے اشتراک کار ہوا جس میں معلوم ہواہے کہ افغان میڈیا کا زیادہ حصہ بین الاقوامی فنڈنگ پر انحصار کرتا ہے یا مغربی ڈونراداروں کے زیراثرمیڈیا ہا ؤ سز چل رہے ہیں تاہم افغان میڈیا کے پاکستان سے بہت سارے گلے شکوے موجود ہیں بہت سی غلط فہمیاں پنپ رہی ہیں اسکی بڑی وجہ پبلک اور میڈیا ڈپلومیسی کا فقدان ہے ،میڈیا وفد نے انٹرنیوز انٹرنیشنل کابل میں ایک وسیع پراجیکٹ ’’نائی‘‘کا دورہ کیا یہ ادارہ افغانستان بھر میں میڈیا کے اداروں اور میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی تعلیم و تربیت اور میڈیا کے حوالے سے قوانین کی تشکیل میں کلیدی کرداراداکررہا ہے اس ادارے کے سربراہ عبدالمجیب کے مطابق 100سے زائد ٹی وی چینلز 214ریڈیو اسٹیشنز اور300کے لگ بھگ پرنٹ میڈیا کے اد ا ر ے موجود ہیں افغانستان کے میڈیا کو پاکستانی میڈیا سے بھی گلے شکوے ہیں لیکن رابطہ کے فقدان کی وجہ سے ان کے پاس تصویر کا یک ہی رخ ہے اسی طرح یہاں ایک بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورک آریانہ ٹی وی کے امریکن چیف ایگزیکٹو کے مطابق ان کی رسائی 3 کروڑ 20 لاکھ افغانیوں تک ہے جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ انکا چینل خبریں اور حالات حاضرہ میں دباؤ کے باوجود غیرجانبداری استعمال کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ افغانستان کا پاکستان کیساتھ کوئی معاملہ ہوتو یہاں ہیڈ لائنز بنتی ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...