فوٹوگرافر نے روس کا پرانا خلائی مرکز ڈھونڈ نکالا

فوٹوگرافر نے روس کا پرانا خلائی مرکز ڈھونڈ نکالا
 فوٹوگرافر نے روس کا پرانا خلائی مرکز ڈھونڈ نکالا

  


بیکانیر(نیوز ڈیسک) قازقستان کے صحرا میں روس کا ایک ایسا خلائی مرکز واقع ہے جسے دنیا ایک عرصے سے متروک سمجھ کر بھلا چکی ہے لیکن ایک فوٹوگرافر نے چھپ چھپا کر اس کے اندر جا کر ایسی چیزیں دریافت کر لی ہیں کہ دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جائے۔دی مرر کی رپورٹ کے مطابق روس نے اپنا خلائی پروگرام 1993ء میں بند کردیا تھا جس کے بعد خلائی سفر کیلئے بنائی گئی دو شٹلز اس خلائی مرکز پر ہی چھوڑ دی گئیں۔ یہ ’آربیٹر ون کے ون‘ کے نام سے بنائی جانے والی وہ شٹلز تھیں جنہوں نے کبھی انسانی مسافروں کے ساتھ پرواز نہیں کی۔ ان میں سے ایک شٹل نے 1988ء میں بغیر انسان کے ایک خلائی سفر ضرور کیا لیکن 2002ء میں پیش آنے والے ایک حادثے میں یہ بری طرح متاثر ہوئی۔فوٹوگرافر الیگیزینڈر کیونس کا کہنا ہے کہ وہ صحرا میں 24 میل کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد اس عجوبے تک پہنچے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی نظر سے بچنے کیلئے وہ رات کی تاریکی میں سفر کرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ خلائی مرکز کے ایک ہینگر کے پاس پہنچے تو وہاں ابھی تک بہت تاریکی تھی۔ جب انہوں نے اپنی فلیش لائٹ سے ادھر اْدھر روشنی دوڑائی تو ایک شٹل پر روشنی پڑتے ہی ان کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’اْف میرے خدا یہ کیا ہے!‘‘اسی کمپلیکس میں ’انرجیا ایم‘ نامی راکٹ بھی موجود ہے جو کہ 1980ء کی دہائی میں بنایا گیا۔ اسے بھی کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ یہ پراسرار جگہ خلائی ٹیکنالوجی کے قدیم قبرستان جیسی تھی۔

مزید : صفحہ اول


loading...