جے آئی ٹی کی تشکیل عارضٰ طریقہ کار ہے، اداروں کی ناکامی کا مستقل حل نکالا جائے: راحیل کامران شیخ

جے آئی ٹی کی تشکیل عارضٰ طریقہ کار ہے، اداروں کی ناکامی کا مستقل حل نکالا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان بار کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی خاطرخط لکھ دیا گیا ہے ۔یہ خط پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر راحیل کامران شیخ کی طرف سے بار کونسل کے دیگر ارکان کو لکھا گیا ہے ۔پاکستان بار کونسل کے ارکان کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی معاملات کوحل نہیں کیا گیا ۔بنچ کے تمام ارکان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ متعلقہ اداروں کی پاناما لیکس کے حوالے سے کارکردگی ناقص ہے ،اس کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے میں مناسب ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں ،شاید سپریم کورٹ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے دیگر افرادکے خلاف درخواستوں میں کی گئی استدعا سے باہر نہیں جانا چاہتی تھی ،حالانکہ آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت اس معاملے پر احکامات جاری کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔سپریم کورٹ نے اس کیس میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے کر تفتیش کا ایک عارضی طریقہ کار اختیار کیا ہے ،یہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے مستقل حل نہیں ہے ۔یہ جے آئی ٹی صرف زیر نظر کیس کی انکوائری کرے گی جبکہ پاناما لیکس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے نام ہیں ،جن کے حوالے سے کارروائی میں متعلقہ اداروں کی ناکامی کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے ۔بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے اس سلسلے میں تجویز دی ہے کہ پاکستان بار کونسل کو آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے ،انہوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ احتساب کے اداروں کی ناکامی کسی بھی معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے لئے تباہ کن ہے ،بار او ربنچ اس سلسلے میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتے ۔سپریم کورٹ نے احتساب کے سلسلے میں اداروں کی ناکامی کے بارے میں جو قرار دیا ہے اس کے بعد بھی اگر ہم آواز نہیں اٹھاتے تو ہمیں تاریخ اور آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...