ٹرمپ ہیلتھ کیئر بل میں اتنی ترامیم کرنا پڑیں گی کہ منظور ہونا مشکل ہے :ریپبلکن سینیٹر

ٹرمپ ہیلتھ کیئر بل میں اتنی ترامیم کرنا پڑیں گی کہ منظور ہونا مشکل ہے ...

واشنگٹن(اے این این) ریپبلکن پارٹی کے اپنے ہی ارکان سینیٹ کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کو سینیٹ میں اتنی ترامیم کرنی پڑیں گی کہ اس کا منظور ہونا مشکل ہے۔صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم میں اوباما ہیلتھ کیئر قانون کو منسوخ اور تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اس حوالے سے ایوانِ نمائندگان نے نیا ہیلتھ کیئر بل منظور کر لیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اوباما کیئر اب ختم ہونے کو ہے۔ایک سینیٹر نے اس بل کی منظوری ناممکن کے قریب بتائی۔ ڈیموکرٹک پارٹی کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بل کی وجہ سے بہت سے شہری اپنی بیمہ پالیسی کھو بیٹھیں گے۔ایوانِ نمائندگان میں بھی صدر ٹرمپ کے ہیلتھ کیئر ایکٹ کے منظور ہونے میں صرف ایک اضافی ووٹ تھاکئی ہفتوں سے اس حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی سخت بحث جاری تھی۔اس بل کی تمام ڈیموکریٹک ارکان نے مخالفت کی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان میں سربراہ نینسی پلوسی نے ایک بزدلانہ انتخاب قرار دیا تھا۔بل کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ یہ اوباما کیئر کی منسوخی اور تبادلہ ہے۔'ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری نئے صدر کے لیے قانون سازی کے حوالے سے یہ پہلی اہم کامیابی تھی جو اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ کے بعد آئی۔اس بل کی انتہائی تیز تیاری جس کے تحت باغی ریپبلکن ارکان کی حمایت حاصل کی گئی ہے، تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔اب تک یہ واضح نہیں کہ اس بل پر اخراجات کتنے ہوں گے یا کتنے لوگوں کی بیمہ پالیسی ختم ہوجائے گی کیونکہ کانگریس کے بجٹ آفس کو اس کاجائزہ لینے کا وقت نہیں ملا ۔تازہ ترین تبدیلیوں سے قبل کانگریس کے بجٹ آفس کا تخمینہ تھا کہ 2018 میں 14 ملین امریکی اپنی بیمہ پالیسی کھو بیٹھیں گے۔یاد رہے کہ صدر اوباما کے 2010 کے بل اوباما کیئر کی وجہ سے دو کروڑ امریکی شہریوں کو ہیلتھ انشورنس حاصل ہوگئی تھی۔

ہیلتھ کیئر

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...