خودکشی کے رجحان میں 3گنا اضافہ ،پنجاب میں 6ہزار افراد سالانہ موت کو گلے لگانے لگے

خودکشی کے رجحان میں 3گنا اضافہ ،پنجاب میں 6ہزار افراد سالانہ موت کو گلے لگانے ...

لا ہور(رپورٹ: یو نس با ٹھ) مالی پریشانیوں اور گھریلو جھگڑوں کے باعث خود کشی کا رجحان تو تھا ہی اب ملک میں جاری کاروباری بحران کے باعث بے روز گاری میں تشویشناک اضافہ اور لوڈ شیڈنگ کے باعث قوت برداشت ختم ہونے سے اس رجحان میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔صوبہ پنجاب میں ہر سال ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد زہر کھا کر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ دس سال کے دوران مجموعی طور پر10753 خواتین، 3754 بچوں اور 16842 مرد حضرات نے مختلف وجوہات کے باعث اپنی زندگی کے چراغ گل کر دیئے۔ جن میں صوبہ بلوچستان میں 942 واقعات، صوبہ سرحد 2304 ، صوبہ پنجاب 16727 ا ور صوبہ سندھ میں کل 11376 واقعات رونما ہوئے رواں سال کے پہلے 4ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت اور گردو نواح کے علاقوں سمیت پنجاب بھر میں1270سے زائدمردو خواتین نے موت کو گلے لگایا جبکہ4000سے زائد مردو خواتین کو بروقت طبی امداد دیکر بچا لیا گیا۔ صو با ئی وزیر قانو ن کے مطا بق پنجاب میں لو ڈشیڈنگ اور بے روز گا ری میں کمی واقع ہو ئی ہے حکو مت نے نوجوان نسل کو روز گا ر کے مواقع فراہم کیے ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ4ماہ کے دوران خود کشی کے215جبکہ اقدام خود کشی کے 900سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ درجنوں خود کشی اور اقدام خود کشی کے ایسے واقعات کا بھی علم ہواہے جو رپورٹ نہیں ہوئے اور شہریوں نے بدنامی اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر یہ واقعات منظر عام پر نہیں آنے دیے۔ پاکستان میں خود کشیوں کے حوالہ سے کراچی پہلے نمبر جبکہ لا ہور دوسرے نمبر پر ہے۔لا ہور شہر میں محبت میں شادی میں ناکامی پر لڑکی اور لڑکے کی اجتماعی خود کشی کے آئے رروز واقعات پورٹ ہوتے رہتے ہیں۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ خود کشی کی کوشش کرنے والے مردوخواتین کیخلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تاکہ کم از کم اقدام خود کشی کرنے والوں کو سزا ملے اور اس اقدام کی حوصلہ شکنی ہو۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان کے ذہن میں خود کشی کرنے کا خیال صرف چند لمحوں کیلئے آتا ہے۔اگر ان چند لمحوں پر قابو پا لیا جائے تو خود کشی کے رجحان سے بچا جا سکتا ہے جبکہ علماء کرام کا کہنا ہے کہ قرآن میں خود کشی کو حرام قراد دیا گیا ہے۔خود کشی کے رجحان میں اضافہ کا سبب دین سے دوری ہے۔ رواں سال کے پہلے4ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت اور گردونواح سمیت پنجاب میں1260سے زائدمردوخواتین نے نہر میں چھلانگ لگا کر‘ زہریلی گولیاں کھا کر‘ اپنے آپ کو گولی مار کر‘ پھندا لیکر‘ ٹرین کے آگے کود کر خود کشی کی ہے جبکہ اقدام خود کشی کے4000سے زائد واقعات نوٹ کئے گئے ہیں جہاں ان کے لواحقین نے بروقت طبی امداد دیکر ان کی زندگیاں بچائی ہیں۔گزشتہ 4ماہ کے دوران صرف لا ہور شہر میں30لڑکیوں اور24خواتین سمیت211افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر موت کو گلے لگا لیا جو کہ روزانہ تقریباً2کی تعداد بنتی ہے۔لا ہور شہر میں پی سی ہو ٹل میں کنیئرڈ کالج کی طالبہ رابعہ نے خو د کو گو لی مار کر ،جبکہ چنبہ ہاوس میں بھی ایک خاتو ن سمعیہ چوہدری نے بھی نے زہر یلی منشیات استعمال کر کے اور اسی طر ح پنجا ب یو نیو ر سٹی میں طا لبہ عا ئشہ نے زہر یلی ادویات سے سندر میں سٹیج اداکارہ سنگھم رانا نے پنکھے سے جھو ل کر شیخ ہسپتا ل کی بے ہو شی کی ایک ڈکٹر خا تو ن انجکشن لگا کر اسی طر ح سی ایس ایس اکیڈیمی میں ایک تر بیتی افسر نے جھلس کر جبکہ ایک حافظ قرآن محمد طاہر بی آر بی نہر میں اپنے تین بچوں سمیت چھلانگ لگا کر خود کشی کر چکے ہیں، اقبال ٹاؤن میں ایکسائز انسپکٹر نے خود کشی کی جس سے لاکھوں روپے پراپرٹی کا فراڈ ہوا تھا۔ معمر میاں بیوی سبزازار سٹاپ پر کھڑے تھے دونوں میں جھگڑا ہو گیا جس کے باعث معمر شخص دلبرداشتہ ہوکر سامنے سے آنے والے ٹریکٹر ٹرالی کے سامنے کود گیا جس کے باعث وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جب کوئی بھی انسان فرسٹریشن کا شکار ہو تو اس وقت اس کے ذہن میں3صورتیں بنتی ہیں۔یا وہ معاملات و حالات جو فرسٹریشن کا باعث بن رہے ہوں وہ ان سے سمجھوتہ کے یا اسے تبدیل کرے اور دونوں صورتیں نہ ہوں تو تیسری شکل حالات سے فرار ہے جس کی حتمی شکل خود کشی ہے۔ہمارے معاشرے میں لوگ اس قدر ذہنی الجھاؤ کا شکار ہیں اور یہاں حالت ایسے بن کر رہ گئے ہیں کہ مضبوط سے مظبوط انسان بھی کمزور ہو کر رہ گیا ہے اور ایسے افراد ہی فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔معاشرے میں اس لئے منشیات کا استعمال بڑھ گیا ہے جسے ذہنی فرار کہا جاتا ہے جبکہ فرار کی حتمی شکل اپنے آپ کو ختم کر دینا ہے اور لوگ اس کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سب سے زیادہ خودکشیاں زہر کھانے سے ہوتی ہیں جبکہ گلے میں پھندا لینے کا طریقہ دوسرے نمبر‘ گولی مارنے کا طریقہ تیسرے نمبر جبکہ ٹرین کے آگے یا نہر میں چھلانگ لگانا چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق چونکہ زہر خوانی زیادی تکلیف دہ نہیں اس لئے اکثر مردوخواتین خود کشی کیلئے زہر خوانی کرتے ہیں اور دیہاتی خواتین زیادہ تر چوہے مار یا گندم میں رکھنے والی گولیاں کھاتی ہیں۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کیونکہ پاکستان میں زہر آسانی سے دستیاب ہے اس لئے بھی زہر خوانی زیادہ ہے اگر حکومت زہر کی کھلے عام خریدوفروخت پر پابندی لگا دے تو اس سے بھی خود کشی کے رجحان میں کمی ہو سکتی ہے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان کے ذہن میں خود کشی کرنے کا خیال صرف چند لمحوں کیلئے آتا ہے۔اگر ان چند لمحوں پر قابو پا لیا جائے تو خود کشی کے رجحان سے بچا جا سکتا ہے جب علماء کرام کا کہنا ہے کہ قرآن میں خود کشی کو حرام قراد دیا گیا ہے۔خود کشی کے رجحان میں اضافہ کا سبب دین سے دوری ہے۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ خود کشی کی کوشش کرنے والے مردوخواتین کیخلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تاکہ اقدام خود کشی کی حوصلہ شکنی ہو۔صو با ئی وزیر قانو ن کے مطا بق پنجاب میں لو ڈشیڈنگ اور بے روز گا ری میں کمی واقع ہو ئی ہے حکو مت نے نوجوان نسل کو روز گا ر کے متعد مواقع فراہم کیے ہیں۔اب پنجاب میں امن وامان کی صورتحال میں بھی کا فی بہتر ی آئی ہے ۔

خودکشی

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...