لاشوں کی سیاست کرنیوالوں نے نوجوانوں کے قبرستان آباد کئے:مصطفیٰ کمال

لاشوں کی سیاست کرنیوالوں نے نوجوانوں کے قبرستان آباد کئے:مصطفیٰ کمال

کراچی (رپورٹ/نعیم الدین) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی میں لاشوں کی سیاست کرنے والوں نے مہاجرنوجوانوں کے قبرستان آباد کیے ۔ تین دہائیوں سے مہاجروں کے نام پرسیاست کرنے والے ہی مہاجروں کے اصل دشمن تھے اور ان سے بڑا دشمن کوئی نہ تھا۔ جنہوں نے آج تک مہاجروں کو دوسری قومیتوں سے لڑا کر صرف اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔ مسائل کو ختم کرنے اور نسل نو کے بہتر مستقبل کیلئے عوام کو ہمارا ساتھ دینے کیلئے گھروں سے نکلنا ہوگا، کیونکہ میں بے حس حکمرانوں سے تنہا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں ایجنسیوں کا آدمی نہیں ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی ایڈیٹرز کلب کے تحت منعقدہ پروگرام ’’میٹ دی ایڈیٹرز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر رہنما رضا ہارون، انیس قائم خانی، وسیم آفتاب، انیس ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ جبکہ کراچی ایڈیٹرز کلب کے مبشر میر، ایس بی حسن ، مختار عاقل ، کرنل (ر) مختاراحمد بٹ ، نصرت مرزا ، آغا مسعود، ڈاکٹر غلام مرتضی مغل ، منظر نقوی ، افضال بیلا ،ابرار بختیار، فضا شکیل، کنول عابدی ،حمیرا موٹالااور دانش علوی ، ریاض عاجز، نعیم طاہر، نعیم الدین، نرگس بلوچ، تانیہ بلوچ، زاہدہ عباسی، ضیغم حسین، افضال سید، اکرم کمبوہ، امتیاز خان فاران، رضوان جعفر ، یاسمین مرزا، عامد جیلانی، سید ابن حسن، مسعود زیدی ، جاوید جعفری ودیگرنے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں مصطفی کمال نے کہا کہ اگر ہم مہاجر کے نام پر سیاست کرتے ہیں تو ہمیں کراچی میں بسنے والی تقریباً 4 سے زائد کمیونیٹیز کو ناراض کرنا ہوگا یا یہ کہہ لیں ہمیں ان کو اپنا دشمن بنانا ہوگا۔ ہماری جماعت واحد جماعت ہے جو دوسری پارٹیوں کے کارکنان کیلئے آواز بلند کررہی ہے۔ ہمیں آئے ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے اس دوران ہم نے اپنا پارٹی اسٹریکچر تشکیل دیا ہے جس میں کراچی ڈویژن کی چالیس رکنی کمیٹی آصف حسنین کی سربراہی میں تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دیئے گئے 16 نکات شہر قائد کے مسائل کے حل کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ ان نکات میں پانی کی فراہمی کا مسئلہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ختم کیا جائے۔ کراچی ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو SBCA سے الگ کرکے سٹی گورنمنٹ کا حصہ بنایا جائے۔ کے ڈی اے کو واپس سٹی گورنمنٹ کے حوالے کیا جائے۔ ہنگامی بنیادوں پر کچرہ اٹھانے کیلئے کم از کم 5 گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بنائے جائیں۔ واٹر بورڈ کے چیئرمین کے اختیارات کو میئر کراچی کے سپرد کیا جائے۔ ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کئے جائیں اور سرکلر ریلوے پر فوری کام شروع کیا جائے۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے تباہ حال تعلیمی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ ملک بھر کے میئر ز اور ڈپٹی میئرز کو آئین کے آرٹیکل 140(A) کے تحت بااختیار بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف مہاجر کا نعرہ لگاتے ہیں اس سے دوسری قومیں خود کو غیر محفوظ سمجھیں گی ۔یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں پنجابی ،پختون اور بلوچ بھی آباد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر نفرت کی سیاست جاری رکھی گئی تو یہاں ہر قوم کے قبرستان کے الگ الگ بن جائیں گے اور سب اپنے قلعے بناکر بیٹھ جائیں گے ۔اس شہر کی صورت حال بہت مختلف ہے ۔یہاں پر لسانیت کی سیاست نہیں ہوسکتی ہے ۔اس لیے ہم صرف مہاجروں کی بات نہیں کرتے بلکہ تمام قومیتوں کی بات کرتے ہیں ۔مصطفی کمال نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ میں ایجنسیوں کا آدمی نہیں ہوں لیکن میں یہ حقیقت بتاسکتا ہوں کہ اس وقت سب سے زیادہ میں ایجنسیوں سے رابطے میں ہوں ۔میں یہ بات آپ سے چھپا نہیں رہا ہوں اور نہ ہی غلط بیانی کررہا ہوں ۔میں ان سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور اسیر نوجوانوں کی رہائی کے لیے بات کرتا ہوں ۔میرا مطالبہ ہے کہ جس طرح صوبہ بلوچستان میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو ریلیف دیا گیا ہے اسی کراچی میں بھی نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے موقع فراہم کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ جب میں ناظم کراچی تھا اس وقت شہر میں جو ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ کسی ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔بن قاسم پارک کی اراضی کو ہم نے قبضہ مافیا سے آزادکرایا اس کے علاوہ شہر میں سیکڑو ں کی تعدا د پارکس بنوائے ،فلائی اوورز کا جال پھیلایا اور اس دور میں کراچی واقع روشنیوں کا شہر بن گیا تھا ۔کراچی میں لاشوں کی سیاست کرنے والوں نے مہاجرنوجوانوں کے قبرستان آباد کیے۔نوجوانوں کو تعلیم سے دور کردیا گیا جس سے مہاجروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور ہم کئی سال پیچھے چلے گئے ۔کراچی کے قبرستانوں میں اس وقت ہزاروں نوجوان دفن ہیں جو اس سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اس موقع پر کلب کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن مبشر میر نے کہا کہ مصطفی کمال ملکی تاریخ کے ایسے میئر رہے ہیں جنہیں امریکہ کی مشہور یونیورسٹی میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اور دنیا میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں ، کہ میئر آگے چل ملک کے سربراہ منتخب ہوئے، ہماری دعائیں مصطفی کمال کے ساتھ ہیں۔ KEC کی آرگنائزنگ کمیٹی رکن کے منظر نقوی نے کلب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کلب کی فارمیشن پر گذشتہ تین سالوں سے کام ہورہا تھا ، اس کو کراچی کا تھنگ ٹینک کی شکل دی جارہی ہے ، جس میں کراچی کے ایڈیٹرز، تجزیہ نگار ، کالم نویس اور اینکرز اس کا حصہ ہونگے۔ ایک ایسا ادارہ تشکیل پائے گا جو کراچی کے مسائل کیلئے اپنی رائے کا اظہار کرے گا اور ماہر معاشیات اور سیاستدانوں کے ذریعے ان کا نقطہ نظر اور کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ہماری کمیٹی کا خیال تھا کہ پاک سرزمین پارٹی کا پہلا پروگرام مصطفی کمال سے شروع کیا جائے کیونکہ مصطفی کمال نے میئر کراچی کی حیثیت سے اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا ۔ اس جماعت کی خاص بات یہ ہے کہPSP لسانی اور مذہبی سیاست سے پاک ہے۔ بعدازاں مصطفی کمال نے سینئر ایڈیٹرز ، تجزیہ نگاروں اور اینکرز حضرات کے سوالوں کے جوابات دیئے ۔ اس موقع پر کلب کی جانب سے مصطفی کمال کو یادگاری شیلڈ اور گلدستہ پیش کیا گیا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...