پاکستان کیساتھ افغانستان کا رویہ اسلامی و پختون روایات کی توہین ہے، حامد موسوی

پاکستان کیساتھ افغانستان کا رویہ اسلامی و پختون روایات کی توہین ہے، حامد ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحد پر افغان فورسز کا حملہ احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے پاکستان کے ساتھ افغان حکمرانوں اور لیڈران کا رویہ اسلامی و پختون روایات کی توہین ہے یہ مقام دکھ ہے کہ وہ تمام افغان رہنما جن کے سبب پاکستان دنیا بھر کی تہمتیں برداشت کرتا رہا آج وہ امریکہ و بھارت کی زبان بول رہے ہیں، امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ کا فرمان کہ ’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو‘افغان رہنماؤں پر صادق آتا ہے افغان حکمران بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے کاروبار میں شراکت دار بن گئے ہیں اسی لئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور بارڈر مینیجمنٹ کی مخالفت کررہے ہیں تاکہ دہشت گردی کا راستہ کھلا رہے ،افغانستان ایران کو پاکستان سے دور کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے،عدل و انصاف کے فقدان نے مسلمانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایام عدل آرگنائزنگ کمیٹی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو موذن حسینیت شہزادہ علی اکبؑ ر و حضرت امام مہدی ؑ کی ولادت پرنور و شب برات کی مناسبت سے 9سے15شعبان تک دنیا بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائے جائیں گے ۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ظاہر شاہ کا پاکستان کو پاکستان کو تسلیم نہ کرنا ہو یا طالبان و شمالی اتحاد کی پاکستان دشمنی ہر افغان حکمران پاکستان کی دوستی کو ٹھکراتا رہاجبکہ آج پاکستان کو ملنے والے تمام مصائب’’افغان دوستی ‘‘کے سبب ہیں روسی حملے کے بعدپاکستان نے نصف کروڑ افغانوں کی میزبانی کی انہیں کیمپوں کے بجائے ملک بھر میں پھیل جانے ،کاروبار کرنے کے مواقع دےئے ،ہیروئین کلا شنکوف دہشت گردی قتل و غارت گری کے عذاب جھیلے لیکن جو جو کابل پہنچتا رہا وہ اپنے آپ کو پاکستان کے دوست کے بجائے امریکہ اور اس کے پٹھو بھارت کاآلہ کار ثابت کرتارہا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوئی جسے بھارتی سرمایہ کاری نے مزید بھڑکایا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے افغانستان میں موجود درجنوں بھارتی قونصل خانے دہشت گردی کے اڈے ہیں کیونکہ بھارت کیلئے پاکستان کا وجود ناقابل برداشت ہے وہ پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتابلکہ ایسے مواقع پیدا کرتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیوں اور افغانستان کے ساتھ اخوت کی قیمت پاکستانیوں نے چکائی 75ہزار جانوں اور کھربوں ڈالر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے امن و سکون کی قربانی کے باوجود امریکہ کے ڈومور کے مطالبات ختم نہیں ہوئے دوسری جانب پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کے حوالے سے تمامتر ثبوت فراہم کرنے کے باوجودامریکہ نیٹو یا افغان حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئے اور جب پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کو سیل کرتا ہے تو امریکہ بھارت سمیت تما عالمی ٹھیکیدار ہی نہیں پاکستان کے اندر موجود پٹھو بھی واویلا شروع کردیتے ہیں ۔ آغا سید حامدعلی شاہ موسوی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ظالم کتنے ہی ہتھکنڈے آزما لیں مظلومین کی فتح کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...