سانحہ دربار علی محمد گجر :پولیس تاحال مکمل چالان عدالت میں پیش کرنے سے قاصر

سانحہ دربار علی محمد گجر :پولیس تاحال مکمل چالان عدالت میں پیش کرنے سے قاصر

سرگودھا(بیورو رپورٹ) 95 شمالی میں دربار علی محمد گجر پر 20 افراد کے قتل کے مقدمہ کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ہوئی، پو لیس کی جانب سے چالان پیش نہ کیے جانے پر عدالت کے جج طارق محمود ضرغام نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن افتخار بلال کو عدالت میں طلب کیا جس پروہ اور ایس ایچ او تھانہ جھال چکیاں عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت تک مکمل چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ عینی شاہدین، زخمیوں اور پولیس کے بیانات قلمبند ، آلہ قتل اور خون آلود کپڑوں کی فرانزک رپورٹ موصول ہو چکی ہے، ڈی این اے رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔ مکمل چالان پیش کرنے کیلئے مزید مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت 15 مئی تک ملتوی کر دی اور حکم دیا کہ ہر صورت آئندہ تاریخ پیشی پر چالان عدالت میں پیش کیا جائے، واقعہ کے چاروں ملزمان جعلی پیر عبدالوحید محمد آصف ایڈووکیٹ، محمد کاشف اور ظفر ڈوگر کو پولیس نے کڑے حصار میں ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا، ملزم محمد آصف ایڈووکیٹ کے وکیل محمد افضل فاروقہ پیش ہوئے اور مؤکل کا وکالت نامہ پیش کیا، جبکہ دیگر تین ملزمان محمد کاشف، ظفر ڈوگر اور جعلی پیر عبدالوحید کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ سماعت ختم ہونے کے بعد جب پولیس ملزمان کو جیل منتقل کرنے کیلئے نکلی تو میڈیا کے نمائندوں اور لوگوں کو دیکھ کر جعلی پیر عبدالوحید ہاتھ ہلاتا اور مسکراتا گزرا۔

پولیس قاصر

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...