فاٹا کو قومی دھارے میں لانے میں رکاوٹ سول ملٹری بیوروکریسی ہے:فرحت اللہ بابر

فاٹا کو قومی دھارے میں لانے میں رکاوٹ سول ملٹری بیوروکریسی ہے:فرحت اللہ بابر

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ہفتہ کے روز اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں فاٹا اصلاحات پر آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ سول ملٹری بیوروکریسی کے درمیان ہمیشہ کی نفرت ہے جو قبائلی علاقوں پر اپنی گرفت کو ڈھیلا نہیں پڑنے دیتی۔ جب ایک دفعہ یہ گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی تو اصلاحات کے پیکج چاہے وہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونا، مقامی حکومتوں کا قیام یا اعلیٰ عدالتوں کا اختیار قبائلی(بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

علاقوں تک وسیع ہونا‘ سب اپنی جگہ آجائیں گے۔ اصلاحات کے اس پیکج کا اعلان گزشتہ سال اگست میں کیا گیا جو ایک سیاسی سٹنٹ تھا ۔ حکومت کو اس پیکج کو منظور کرنے میں نو ماہ لگ گئے جبکہ صدر سے اس کی منظوری کی سمری ابھی تک وزیراعظم ہاؤس میں گرد چاٹ رہی ہے۔ ان اصلاحات میں زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کو مزید ملٹرائز کیا جائے بجائے اس کے کہ اس کو ڈی ملٹرائز کیا جاتا۔ انہوں نے سول ملٹری بیوروکریسی کی گرفت کمزور کرنے کے لئے چھ پوائنٹ فارمولہ دیا جس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ فوری طور پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ فاٹا کو ملنے والی بیرونی امداد کا آڈٹ کریں۔ سول ملٹری بیوروکریسی کو 80ارب روپے ترقیاتی مد میں بغیر کسی آڈٹ اور نگرانی کے خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ احتساب‘ شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے منتخب نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ پالیسی کمیٹی اور عملدرآمد کی کمیٹی میں منتخب نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں لیویز فورس کو پولیس کے برابر لایا جائے۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ سول ملٹری بیوروکریسی ریگولیشن کو نافذ کرنے کے لئے اپنے مفاد میں صدر کا آفس استعمال کرتی ہیں اور عوام کا مفاد انہیں عزیز نہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ مقامی حکومت اور رواج جو ایف سی آر کامتبادل ہے انہیں پارلیمنٹ میں لایا جائے ۔ چھٹا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کرنے کے لئے پاکستان کو اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...