قرضوں پر قرضے لینے والی حکومت سے بجٹ میں خیر کی توقع نہیں: پیپلز پارٹی، تحریک انصاف

قرضوں پر قرضے لینے والی حکومت سے بجٹ میں خیر کی توقع نہیں: پیپلز پارٹی، تحریک ...

ملتان (نیوز رپورٹر)ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین نے بجٹ کے حوالے کوحکومت کو کارکردگی کے لحاظ سے اڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اور اس کی پالیسیوں کو سخت ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت پچھلے چار سالوں سے آئی ایم ایف سے لیلے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے اٹھارہی ہے وہ عوام کو کیا ریلیف دے سکتی ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنی پالیسیوں سے عوام سمیت تاجروں سے بھی وفا نہیں کی ۔ جبکہ عام شہری ، کسان اور سرکاری ملازمین تو ان کے غریب کش بجٹ کے پالوں میں پس کر رہ گئے ہیں ان سے اب بھی بجٹ میں خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ ان خیالات کا اظہار بجت فورم پر تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری ، ڈاکٹر خالد خاکوانی، بیرسٹر وسیم خان بادوازئی رکن صوبائی اسمبلی حاجی جاوید اختر انصاری ، ظہیر الدین خان علیزئی، ندیم قریشی ،پیپلز پارٹی سے خواجہ رضوان عالم، عثمان بھٹی ، نفیس امجد انصاری راؤ ساجد او نسیم لابر نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ رضوان عالم نے کہا کہ حکومت عوام کے معاشی حالات بہتر کرنے کے دعوے کرتے ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ملتان میں 42ارب کے ناکام میٹرو بس منصوبے کی بجائے بہتر ہوتا کہ اس خطے کے عوام کو صاف پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتیں سابق ایم پی اے عثمان بھٹی نے کہا کہ حکومت عوام کے ٹیکسز کو صیح استعمال میں لانے کی بجائے ناقص تجربات پر ضائع کررہی ہے۔ جو لوگ قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ دوسال میں لوڈ شیڈنگ ختم نا کی تو نام بدل دینا ، کیا انہوں نے نام بدل لیا ہے ان کی روٹی سکیم، دانش سکول ، نیڈی پور پاور منصوبے سمیت میٹرو بس منصوبہ بھی فلاپ ہوگیا ہے۔ سابق ایم پی اے نفیس احمد انصاری نے کہ کہ 70بلین ڈالرز کے مقروض حکمران بجٹ میں کیا ریلیف دیں گے انہیں تو ٹیکس اہداف کے حصول میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کا تمام تر انحصار نئے نوٹ چھاپنے پر ہے اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی نظر کرپشن پر ہے۔ راؤ ساجد نے کہ آئندہ بجٹ عوام کو کوئی ریلیف نہی دے پائے گا کیو نکہ حکومت وقت کی عوام ترجیح نہیں ہے بجٹ (ن) لیگ کے منشی اسحاق ڈار کی جانب سے اعدادو شمارکا گورکھ دھندہ اور فراڈ کے سوا کچھ نہیں ہوگا عوام کو ایک بار پھر لولی پاپ سے ٹرخایا جانا ہے نسیم لابر نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2010ء مزدور کی کم سے کم اجرت 15000روپے کی اور بعد میں مزید 2ہزار کا اضافہ کیا موجودہ حکومت نے اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہونے دیا تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی اعجاز امجد چوہدری ، ظہیر الدین خان علیزئی او حاجی جاوید اختر انصاری نے کہا کہ حکومت نے ملتان جنوبی پنجاب کے ساتھ ہمیشہ سوتیلے پن کا سلوک رکھا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ اس خطے کیلئے جوبجٹ مختص کیا جاتا ہے اسے ہر قیمت پر خطے کے مکینوں کی بہتری کیلئے اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے لیکن پنجاب حکومت پچھلے چار سالوں سے جنوبی پنجاب کے ساتھ فراڈ کررہی ہے۔ حکومت کی ناقص و کسان کش پولیسیوں کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا کسان معاشی لحاظ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے بجلی کے نرخوں میں اضافہ زرعی ادویات کی بڑھتی قیمتیں اور لوڈ شیڈنگ نے کسانون کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ رہی سہی کسر مالکان مہینوں بعد ادائیگیاں کرکے پوری کررہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ حالیہ بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دے بالخصوص بجلی، زرعی ادویات اور کھادوں کی قیمتوں میں کمی لائے اور فصلوں کی ادایگیاں بر وقت بنانے کیلئے اقدمات کرکے کوالٹی کنٹرول ادارے جو اس وقت مختلف سیکٹرز میں کام کررہے ہیں انہیں فعال کیا جائے۔ تحرییک انصاف کے رہنما ڈاکٹر خالد خان خاکوانی ، وسیم خان بادوزئی، ڈسٹرکٹ صدر اعجاز حسین جنجوعہ اور ندیم قریشی نے بجٹ بارے تبصرہ کرے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ کے نام پر ہر سال عوام کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے اربوں روپے صحت ، ایجوکیشن ترقیاتی کاموں کیلئے مختص تو کردیے جاتے ہیں لیکن اتنی بڑی خطیر رقم کہاں غارت ہو جاتی ہے کوئی علم نہیں ۔ ملتان شہر پچھلے کئی برسوں سے کھنڈرات کی تصویر بنا ہوا ہے سڑکیں تباہ حال ہیں سیوریج تباہی سے دو چار سہے شہد کی مکھیاں گندگی سے آئی ہوئی ہیں بلدیاتی ادارے وجود میں آنے کے باوجود کہیں نظر نہیں آرہے جو حکومت اپنے لوگوں سے ہی مخلص نہیں ہے وہ بجٹ میں عوام کو ریلیف کیونکہ دے پائے گی۔

فورم

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...