سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے بہاولپور میں ایک نئی جامعہ قائم کی جائیگی؛ انجینئر بلیغ الرحمٰن

سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے بہاولپور میں ایک نئی جامعہ قائم کی جائیگی؛ ...

بہاولپور(بیورورپورٹ)بہاول پور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے ایک نئی جامعہ قائم کی جائے گی جس کا نام بہاول پور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہو گاجس میں 4شعبہ جات خصوصی طور پر قائم کئے جائیں گے جن میں نینو ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی، فوڈ ٹیکنالوجی اور سولر انرجی کے شعبہ جات سرفہرست ہوں گے۔یہ بات وفاقی وزیر مملکت تعلیم وامور داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی میں جاری انسانیت کی خدمت کے لئے سائنس کے کردار کے موضوع پر پہلی نیشنل سائنس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کہی۔انہوں نے کہا کہ سائنس کے شعبہ میں نت نئی ایجادات کی بدولت انسانی زندگی بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے اور جدید سائنس کی بدولت ہیمو فیلیا اور کینسر کے امراض کے علاج معالجہ سمیت مالیکیولر جینیٹکس پر تحقیق کی بدولت مہلک امراض کے کامیاب علاج ایجاد کئے جا رہے ہیں۔سائنس کی بدولت تعمیر وترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں بے پناہ معاونت مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بے پناہ نعمتوں اور ترقی سے نوازتا ہے۔وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ دنیا میں تین انقلابات آ چکے ہیں جبکہ چوتھا انقلاب عنقریب عوامی باہمی رابطے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے آنے کو ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا اعتراف پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے جس کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ٹھوس اور جامع پالیسیاں ترتیب دے کر ہر شعبہ میں فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنایا ہے جس سے ملک وقوم کا مستقبل محفوظ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کر کے پاکستان کوآنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ ترین سرزمین بنا دیا ہے جبکہ دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا گہوارا ہے جس کی بدولت ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ملک تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہاول پور میں تعلیم کے شعبہ میں ترجیحی بنیادوں پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے جس میں تین ارب روپے کی خطیر رقم سے وٹرنری یونیورسٹی کا قیام قابل ذکر ہے۔انہوں نے بتایا کہ بہاول پور کی قدیم جامعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کو تاریخ کی سب سے بڑی گرانٹ 86کروڑ روپے مہیا کی گئی ہے جبکہ رحیم یارخاں کیمپس کے لئے 7کروڑ60لاکھ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔انہوں نے گورنمنٹ صادق ویمن یونیورسٹی کے مطالبہ پر تقریب میں بائیو لیب دینے کا اعلان کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی معاونت سے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی میں پہلے ہی 9کروڑ 40لاکھ روپے لاگت سے ایک سائنس لیب تعمیر کی جا چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی بہتر تعلیمی پالیسیوں کی بدولت سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد کو تعلیمی اداروں میں کامیابی سے داخل کرایا جا رہا ہے جن میں 34فیصد اسلام آباد میں،9فیصد خیبر پختونخوا میں اور 25فیصد پنجاب میں اضافہ ہوا ہے۔وفاقی وزیر مملکت میاں بلیغ الرحمن نے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی میں پہلی نیشنل سائنس کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر طلعت افزا، سائنس فیکلٹی ممبران، انتظام وانصرام پر مامور آرگنائزرز اور طالبات کو مبارکباد پیش کی۔قبل ازیں چیف آرگنائزر سائنس کانفرنس وڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر صائمہ انجم کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ، پروفیسر ڈاکٹر سعید ظفر الیاس، پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، پروفیسر ڈاکٹر فیض الحسن نسیم اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، پروفیسر ڈاکٹر صادق مجید بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد چٹھہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور جامشورو سے تعلق رکھنے والی سندھ یونیورسٹی کی ریسرچ سکالر عاصمہ کنول نے کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔سائنس کانفرنس میں سائنسی پوسٹر کی نمائش میں پہلی پوزیشن ڈیپارٹمنٹ آف زولوجی جامشورو سندھ یونیورسٹی کی عاصمہ کنول نے حاصل کی۔پہلی نیشنل سائنس کانفرنس میں مجموعی طور پر 49لیکچرز دیئے گئے۔تقریب میں ملک بھر سے سائنس کانفرنس میں حصہ لینے والے ریسرچ سکالرز، اساتذہ، دیگر یونیورسٹی سے آنے والے مہمان فیکلٹی ممبران میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...