پاک فوج نے سرحد پر مورچے سنبھال لیے, بھرپور جوابی کاروائی کا فیصلہ

پاک فوج نے سرحد پر مورچے سنبھال لیے, بھرپور جوابی کاروائی کا فیصلہ
پاک فوج نے سرحد پر مورچے سنبھال لیے, بھرپور جوابی کاروائی کا فیصلہ

  

چمن (ویب ڈیسک)پاک افغان سرحد پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ضلعی انتظامیہ نے سرحد پر واقع تمام دیہات کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر چمن قیصر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلی جہانگیر، کلی لقمان، گل دارا باغیچہ سمیت تمام سرحدی دیہات کے مکینوں کو لائوڈ سپیکرز کے ذریعے اعلانات اور پمفلٹ تقسیم کرکے ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے علاقے چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں جبکہ کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کرانے کے لیے افغان وفد پر دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ پاک افغان کشیدگی پر آج دوسرے روز بھی پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان باب دوستی پر فلیگ میٹنگ جاری ہے۔ میٹنگ میں سرحدی معاملات پر بحث کی جائے گی جبکہ گزشتہ شام باب دوستی پر ہونے والی فلیگ میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب فورسزمورچہ بند ہو گئے ہیں جبکہ سرحد سے ملحقہ 4 کلومیٹر کے علاقے کو نومین ایریا قرار دے دیا گیاہے۔

کراچی میں امن و استحکام کی بحالی تک آپریشن جاری رہے گا:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

میڈیا کے مطابق بلوچستان کے علاقے چمن میں واقع پاک افغان سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے فورسز مورچہ بند ہیں۔ جبکہ سرحد سے ملحقہ 4 کلومیٹر کے علاقے کو نومین ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے چمن بارڈر پر افغان جارحیت کے باوجود افغانستان کے ساتھ قیام امن کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا واضح اشارہ دیا ہے،البتہ جارح پر واضح کردیا ہے کہ حالیہ جارحیت افغانستان کے اندرونی حالات سے چشم پوشی اور مغربی سرحد پر دلی کابل گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتی ہے،کسی بھی جارحیت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کو سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔

وزیردفاع نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحدوں پر تخریب کاری اور جارحیت کا سلسلہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے لیکن چمن بارڈر پر افغان بارڈر فورس کی حالیہ جارحیت افغانستان کے اندرونی حالات سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے اور جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ہماری مغربی سرحد پر د ہلی کابل نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے تاکہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنا سکے لیکن جارح یاد رکھیں کہ ایسے کرتوتوں سے امن کے قیام کی ساری کوششیں دم توڑ دیں گی جو کسی بھی طرح خطے کے ممالک کیلئے سودمند نہیں۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ چمن بارڈر جارحیت کے بعد افغان حکام کو اپنی غلطی کا احساس کرنا چاہئے کیوں کہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی ہوئی اور بیگناہ شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑا جو کسی بھی طور ہمارے لئے قابل قبول نہیں،ہمارا کوئی نقصان کرے تو ہم بدلہ لیں گے اور اگر آئندہ ایسی کوئی بھی جارحیت ہوئی تو جارحیت کرنے والے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کا قیام نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے اور اس سلسلے میں ہماری کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن افغانستان نے ہمیشہ ہماری کوششوں کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔دہشتگردی کا خاتمہ صرف میڈان افغانستان سے ہی ممکن ہے اور اس کیلئے حالیہ جارحیت کے باوجود ہم افغانستان کے ساتھ مثبت تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ دہشتگردی کے عفریت سے خطے کے ممالک کو ہمیشہ کیلئے چھٹکارا مل جائے۔ بھارت کی ایماء پر پاکستانی سرحد پر جارحیت کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے بعد افغانستان نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے قریب صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولدک پر گولہ باری کا الزا م عائد کردیا اور پاکستانی ناظم الامور کی وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ہفتہ کو افغان خبررساں ادارے ’’خامہ پریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت نے پاکستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولدک پر گولہ باری کے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

عرب خاتون کو نشہ آور ادویات کے بدلے ڈیلر کیساتھ بدفعلی کرنے پر 10سال قید کی سزا کا حکم

واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان بارڈر فورسز کی جانب سے پاکستان میں مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری سے 11 عام پاکستانی شہری شہید جبکہ 46 افراد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پاکستانی دفترخارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا جب کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے بھی ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اورفائرنگ کا سلسلہ تھم گیا تاہم دونوں اطراف تاحال کشیدگی برقرار ہے اور سرحد پر سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاک فوج کے تازہ دم دستے بھی باب دوستی پر پہنچ چکے ہیں جب کہ پاک فوج کے 3 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرحد کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔پاک افغان سرحد کے دونوں جانب فورسزمورچہ بند ہوگئے ہیں جب کہ سرحد سے ملحقہ 4 کلومیٹر کے علاقے کو نومین ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔

مزید : چمن