مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 82

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 82
مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 82

  


وہاں شباب صاحب اور ڈانس ڈائریکٹر ماسٹر صدیق بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ اختر اور دوسرے لوگوں نے انہیں ہماری کار گزاری کے بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے ’’یار آفاقی، نوٹ کرلو۔ تم واقعی کسی دن ڈرائیور بن جاؤ گے‘‘۔

’’بن جاؤ گے کیا مطلب‘‘ ہم نے کہا ’’بن گئے ہیں۔ ہم اتنی دور جاکر آئے ہیں اور کار بھی لے آئے ہیں‘‘۔

مسرت نذیر نے ہماری ڈرائیونگ کی بہت تعریف کی ’’شباب صاحب، بس پرابلم یہ ہے کہ یہ کار بہت تیز چلاتے ہیں۔ انہیں ذرا احتیاط کرنی چاہیے۔یہ تو سائیکل والوں سے بھی ریس لگا دیتے ہیں‘‘۔

مسرت جیسی زندہ دل، بے تکلف اور بے دھڑک ہیروئن ہم نے کوئی اور نہیں دیکھی۔ دوستوں کی دوست، ہنسی مذاق، لطیفہ بازی، ہوٹنگ ہر چیزمیں پیش پیش۔ مسرت نذیر کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ مردوں میں مرد بن جاتی تھیں اور عورتوں میں عورت۔ عورتیں تو سہیلیاں تھیں ہی مگر مرد بھی ان کی سہیلی تھے۔ ہر طرح کے راز لوگ انہیں بتا دیا کرتے تھے اور وہ اکثر تو انہیں دل ہی میں رکھتی تھیں مگر بعض لوگوں کی باتیں چپکے چپکے دوسروں کو بھی بتادیا کرتی تھیں۔ انکا انداز کچھ ایسا تھا کہ عام حالات میں کوئی ان سے ایسا سلوک کر ہی نہیں سکتی جیسا کہ دوسری ہیروئنوں سے کیا جاتا ہے۔ رومان وغیرہ کی تو ہمت ہی نہیں پڑتی تھی۔ وہ ہر ایک کو چٹکیوں میں اڑا دیا کرتی تھیں۔ بہت دلچسپ اور مزے دار ہیروئن تھیں۔ جہاں بیٹھتی تھیں رونق لگا دیتی تھیں۔

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 81 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمال بھی شاہ نور اسٹوڈیو میں موجود تھے۔ شباب صاحب نے نرگس اور راج کپور کے انداز میں جو دو گانا ہنگامی طور پر بنایا تھا اس روز ریہرسل تھی۔ کمال نے بلا جھجک ریہرسل میں حصہ لیا۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ ہر ایک سے یوں گھل مل گئے تھے جیسے کہ سالہا سال سے ان لوگوں کے ساتھ ہی کام کر رہے ہیں نہ انہیں ناچ میں تامل تھا، نہ وہ رومانی سین کرتے ہوئے شرماتے تھے۔ کامیڈی تو وہ کرتے ہی بہت اچھی تھے۔ بعد میں انہوں نے ڈانس میں بھی اپنا ایک انداز بنالیا تھا۔

دو گانے کے بول کچھ اس قسم کے تھے

اے میری نرگس آجا

میں بجا رہا ہوں باجا

کمال نے ریہرسل میں اتنی مہارت دکھائی کہ شوق کے مارے مسرت نذیر کے حصے کے بولوں پر بھی ایکشن کرنے لگے۔ مسرت نے کہا ’’ارے کمال صاحب، یہ تو میرے بول ہیں‘‘۔

بھائیا حمید اور شباب صاحب کچھ دیر ریہرسل دیکھتے رہے، پھر کہا‘‘ کمال تم اچھا کر رہے ہو لیکن ابھی اداکاری کی اور بھی گنجائش ہے‘‘۔

کمال نے کہا ’’شباب صاحب۔ فکر نہ کیجئے، باقی اداکاری لباس کرلے گا‘‘۔

’’کیا مطلب؟‘‘ انہوں نے حیران ہوکر پوچھا۔

’’مطلب یہ کہ گیٹ اپ اور لباس کا بھی فرق پڑتا ہے۔ جب مین راج کپور جیسا حلیہ بنا کر ایکشن کروں گا تو ساری کسر پوری ہو جائے گی‘‘۔

ہم نے شباب صاحب سے کہا ’’بات تو درست ہے‘‘۔

بولے ’’ہاں، بات تو ٹھیک ہے۔ ویسے آفاقی، تمہارا بھانجا بہت سمجھ دار ہے تم نوٹ کرلو، یہ نمبر ون ہیرو بنے گا‘‘۔

بھانجے والا رشتہ سن کر ہم حیران رہ گئے مگر پھر بعد میں پتا چلا کہ کمال نے بتایا تھا کہ ہم ایک رشتے سے ان کے ماموں ہیں اس لیے شباب صاحب ہم سے جب بھی ان کا تذکرہ کرتے تھے تو ’’تمہارا بھانجا‘‘ کہہ کر ہی کرتے تھے۔

ریہرسل کے بعد بھی مسرت نذیر ہوا محل میں بیٹھ کر ہماری ڈرائیونگ کا مظاہرہ دیکھنے میں دلچسپی لے رہی تھیں۔ مگر شباب صاحب نے اختر صاحب کے ذریعے دوسری کار میں مسرت کو گھر بھیج دیا۔ ہم شباب صاحب کو کھلی کار میں دفتر واپس لے گئے۔

’’ٹھنڈی سڑک‘‘ میں کمال کا کردار ایک کنجوس مگر دولت مند باپ کے نالائق بیٹے کا تھا جس سے اگر باپ نالاں تھے تو بیٹا بھی باپ سے کم عاجز نہ تھا۔ باپ نے کمال کے لیے اپنے ایک دوست کی بیٹی کو منتخب کیا تھا۔ وہ یہ شادی بچپن ہی میں طے کر چکے تھے۔ یہ دوست افریقہ چلے گئے تھے اور اب فلمی صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ واپس آنے والے تھے۔

کمال اس شادی کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں جس لڑکی کو میں نے دیکھا نہیں اور نہ ہی اس سے کبھی ملا ہوں، اس سے شادی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ باپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔ وہ کمال کو گھر سے نکلنے کا حکم دیتے ہیں اور کمال غصے میں گھر سے رخصت ہوجاتے ہیں۔(جاری ہے)

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 83 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...