’میرے ماں باپ آپس میں کزن تھے اس لئے میرے دونوں بھائیوں کی جب پیدائش ہوئی تو ان کی۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے خاندان میں شادیوں کا وہ انتہائی خطرناک نقصان بتادیا جس کا پاکستانیوں نے کبھی سوچا ہی نہ

’میرے ماں باپ آپس میں کزن تھے اس لئے میرے دونوں بھائیوں کی جب پیدائش ہوئی تو ...
’میرے ماں باپ آپس میں کزن تھے اس لئے میرے دونوں بھائیوں کی جب پیدائش ہوئی تو ان کی۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے خاندان میں شادیوں کا وہ انتہائی خطرناک نقصان بتادیا جس کا پاکستانیوں نے کبھی سوچا ہی نہ

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد لڑکی نے اپنے کزن سے شادی کرنے انکار کر دیا ہے اور اس کی ایسی وجہ بیان کر دی ہے کہ تمام پاکستانی سوچ میں پڑ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 36سالہ عائشہ خان ویسٹ یارک شائر کے علاقے کی رہائشی ہے۔ اس کے ماں باپ بھی آپس میں کزن تھے چنانچہ عائشہ کے کئی بہن بھائیوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کی وجہ ان کے ماں باپ کا باہم کزن ہونا تھا۔

’میں چھٹیاں منانے اس اسلامی ملک گئی تو بازار سے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوالی لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد ہاتھوں پر جلن محسوس ہوئی، دیکھا تو۔۔۔‘ نوجوان مغربی لڑکی کو ہاتھوں پر مہندی لگوانا بہت مہنگا پڑگیا، ایسا نتیجہ نکلا کہ دیکھ کر لڑکیاں کبھی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہ کریں

عائشہ خان کا کہنا ہے کہ ”میں اس وقت صرف 8سال کی تھی جب میرا ایک بھائی سرفراز بچپن میں ہی موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس کی موت کی وجہ صحت کے جینیاتی مسائل تھے جو میرے ماں باپ کے باہم کزن ہونے کی وجہ سے اسے لاحق ہوئے۔ اس کے علاوہ میری ایک بہن طاہرہ بھی دماغی صحت کے مسائل کا شکار ہے اور میرا ایک اور بھائی قاسم بھی صحت کے جینیاتی مسائل کے باعث اپنی 18ویں سالگرہ سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلا گیا۔ میں نے کم عمری میں ہی یہ تمام افسوسناک واقعات جو میرے ذہن میں گھر کر چکے ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں کبھی اپنے کسی کزن سے شادی نہیں کروں گی۔“

رپورٹ کے مطابق جب عائشہ کے والدہ محمد اور اس کی والدہ برکت نے اس کی اس کے کزن سے شادی کرنی چاہی تو وہ اپنے فیصلے پر ڈٹ گئی اور شادی سے انکار کر دیا۔ اس انکار پر اسے کئی مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑا لیکن وہ ثابت قدم رہی۔اس کا کہنا تھا کہ ”میرے اس موقف پر لوگ مجھے اسلام فوبیا کا شکار ہونے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن میں چاہتی ہوں کہ ہمیں اس پر بات کرنی چاہیے تاکہ جو کچھ میں نے بچپن میں دیکھا اور برداشت کیا وہ کسی اور کو برداشت نہ کرنا پڑے۔“جینیاتی امراض کے تدارک کے لیے کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ ”عائشہ کی ثابت قدمی سے دیگر ایشیائی نژاد لڑکیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ بھی کزن میرج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...