دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ،پاکستان کا مستقبل سیکولراور لبرل ازم نہیں اسلام سے وابستہ ،موجودہ” سٹیٹس کو“کرپشن کی پیداوارہے:سینیٹر سراج الحق

دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ،پاکستان کا مستقبل سیکولراور لبرل ازم نہیں ...
 دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ،پاکستان کا مستقبل سیکولراور لبرل ازم نہیں اسلام سے وابستہ ،موجودہ” سٹیٹس کو“کرپشن کی پیداوارہے:سینیٹر سراج الحق

  


پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ” سٹیٹس کو“کرپشن کی پیداوارہے،جب تک یہ سٹیٹس کو ہے،زرداری ،نواز شریف اور مشرف پیدا ہونگے،پانامہ سکینڈل ،لندن اور دبئی لیکس یا بنکوں سے قرضے لیکر ہڑپ کرنے والوں میں کسی عالم دین کا نام نہیں، اس میں موجودہ وسابقہ حکمرانوں اور انکے بچوں کے نام ہیں ،پاکستان کا مستقبل سیکولرازم اور لبرل ازم نہیں بلکہ اسلام سے وابستہ ہے،آنے والے انتخابات  میں غلاما ن امریکہ اورغلامان مصطفی ﷺ کے درمیان جنگ ہے ، ملک میں نفاذ شریعت کے لئے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہے ،جماعت اسلامی دینی قوتوں کو متحد کرنا چاہتی ہے ،میرے مخالفین عالمی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی اوراپنی بے انتہا دولت پر فخر کرتے ہیں،جبکہ میرا سرمایہ اللہ اوراس کے رسول ﷺ پر غیر متزلزل ایمان ہے، ملک کادفاع فوج کے ساتھ ساتھ اس ملک کے محب وطن علمائے حق ہی کرسکتے ہیں،مغربی تہذیب اور کلچر نے مغرب کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیاہے ،بدقسمتی سے ہمارے حکمران اسی مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں، ہم اس تہذیب و کلچر سے اسی طرح پناہ مانگتے ہیں جیسے شیطان سے پناہ مانگتے ہیں ۔

طہماس سٹیڈیم میں جمعیت اتحاد العلماءپشاور کے زیر اہتمام ’’ علماءومشائخ کنونشن ‘‘سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف نے روزہ رسولﷺ پرمیرے ساتھ سود کے خاتمے کا وعدہ کیا لیکن افسوس ہے کہ سود کے خاتمے کیلئے وفاقی شرعی عدالت میں میری دائر کردہ رٹ کے مقابلے میں سود کے دفاع میں کھڑے ہوگئے ،سود اللہ اور اسکے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے توسود کی حمایت میں نکلنے والوں کے خلاف ہمارا بھی اعلان جنگ ہے۔انہوں نے کہاکہ میں تمام دینی جماعتوں کوکیا پوری امت کو ایک دیکھنا چاہتاہوں ،ہم طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرکے سکولوں اور مدارس میں ایک ہی نظام تعلیم رائج کرینگےاور سب کویکساں تعلیم دی جائیگی ، ملک کی سیاست وجمہوریت کو یرغمال بنانے والے مخصوص ٹولے کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں افراتفری،بدامنی،بے روزگاری،مہنگائی کاراج ہے ، ہماری سرحدیں انہی پالیسیوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم برسر اقتدار آکر ایسی خارجہ و داخلہ پالیسی مرتب کرینگے جو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے بجائے قومی مفادات کے مطابق ہوگی ،ایسی پالیسی جس میں شہریوں کو انکے حقوق بھی ملیں گے اور وہ پرامن زندگی گذار سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے دشمن ہرروز ہمارے بارڈرپر حملے کررہا ہے لیکن ہمارے حکمران دشمن کو جواب تو کیا انکا نام بھی نہیں لیتے، ملک کا دفاع اکیلی فوج کی نہیں ،پوری قوم کی ذمہ داری ہے اورملکی دفاع کیلئے ہم اپنی افواج کی پشت پر کھڑے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ ملک پر جب بھی برا وقت آیا تو قربانی صرف دینی طبقے نے دی ،لبرلزاور سیکولراشرافیہ برے وقت میں بیرونی ممالک میں پناہ لے لیتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مستقبل اسلام اورپاکستان کا ہے، اب وہ وقت قریب آگیا ہے جب پاکستان کے چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کی بجائے قرآن ہوگا، جماعت اسلامی کی کرپشن کے خلاف شروع کی گئی تحریک اب منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے،ہم پرامید ہیں کہ عوام آنے والے انتخابات کو موجودہ سٹیٹس کو اور کرپٹ اشرافیہ کیلئے یوم حساب بنائیں گے اور اس احتساب کے نتیجے میں قائدؒ اور اقبالؒ کے وژن کے مطابق ایک پرامن ،فلاحی و اسلامی پاکستان قائم ہوگا۔

مزید : قومی


loading...