سعودی عرب کے مفتی اعظم کی خرابی صحت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ، وہ مکمل صحت مند اور روز مرہ کے معاملات میں مصروف ہیں:سعودی سپریم علما کونسل

سعودی عرب کے مفتی اعظم کی خرابی صحت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ، وہ مکمل ...
سعودی عرب کے مفتی اعظم کی خرابی صحت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ، وہ مکمل صحت مند اور روز مرہ کے معاملات میں مصروف ہیں:سعودی سپریم علما کونسل

  


ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب کے  مفتی اعظم اور  سپریم علما کونسل کے چیئرمین  الشیخ عبدالعزیز  بن عبد اللہ آل الشیخ کی خرابی صحت کے حوالے سے چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں ، وہ نہ صرف مکمل روبہ صحت ہیں بلکہ جنرل کونسل میں روزمرہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ مہمانوں سے  معمول کی ملاقاتیں بھی  کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی علماکونسل  سیکرٹریٹ کے ترجمان نے  پاکستان علما کونسل کے چیئر مین علامہ طاہر محمود اشرفی سے رابطے میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سعودی مفتی اعظم اور سپریم علما کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ آل الشیخ مکممل صحت مند اور روبہ صحت اور معمول کی سرگرمیوں کی انجام دہی بخوبی ادا کر رہے ہیں ۔سعودی سپریم  علما کونسل  سیکرٹریٹ کے ترجمان کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مفتی اعظم کی خرابی صحت کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی تمام خبریں گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ اچھی صحت کی حالت میں ہیں اور سعودی سپریم علما کونسل میں  روزمرہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ مہمانوں سے معمول کی ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ  لبنانی میڈیا میں گذشتہ روز سے  سعودی مفتی اعظم کی خرابی صحت سے متعلق افواہوں کا سلسلہ جاری تھا۔

علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پہلے سعودی مفتی اعظم کی خرابی صحت کے بارے میں خبریں اڑائی گئیں پھر مسجد نبوی ﷺ  کے معروف امام و خطیب شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی کے انتقال کی افواہ  پھیلائی گئی جو کہ سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دورہ سعود ی عرب میں ان کی سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے مسلم امہ کے نام اپنے پیغام میں فرمایا تھا کہ  انتہا پسندی اور فرقہ واریت  اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے، دین میں مبالغہ آرائی اور انتہا پسندی ناپسندید ہ امر ہیں اور نبی کریم ﷺ نے ایسی چیزوں کو پسند نہیں فرمایا ،جب مسلمانوں میں یہ بیماریاں داخل ہو جائیں  تو یہ اس کے اتحاد اور مستقبل کو پارہ پارہ کردیتے ہیں اور دنیا کے سامنے اس کے تشخص کو بھی مجروح کرتے ہیں۔سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ  اسلام ایک اعتدال والا دین ہے، جو مسلمانوں کو اعتدال سے زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے،امت مسلمہ آج  سخت حالات سے گزر رہی، جب تک مسلمان مشترکہ طور پر کوشش نہیں کریں گے، امت کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے مسلمانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی  کے خلاف جنگ کے لیے متحد ہوجائیں اور اتحاد کے ساتھ اس موزی وبا کا خاتمہ کریں ۔

یادرہے کہ مفتی اعظم سعودی عرب 1981 سے مسلسل خطبہ حج کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جنہیں 1999 میں شیخ عبدالعزیز بن بازؒ کے انتقال کے بعد مفتی اعظم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں تھی،  جب کہ مفتی اعظم سعودی عرب کی  سپریم علما  کونسل ،افتا کونسل اور ریسرچ سینٹر کے بھی  چیئرمین ہیں۔

مزید : عرب دنیا


loading...