درویشِ بے مثال

درویشِ بے مثال
درویشِ بے مثال

  

جس دن سے حضرت انسان اِس جہان رنگ وبو میں آباد ہوا ہے یہ شان توحید پرستوں کو ہی حاصل ہوئی کہ بار بار مسلمانوں نے کثرتِ افواج کے فلسفے کو جذبہ ایمانی اور قلتِ افواج سے شکست دی،جذب�ۂ ایمانی و عقائد نے ہمیشہ فتح پائی چشم فلک ہر دورمیں ایسے واقعات دیکھتی رہی ہے تاریخ کے اوراق ایسے ہزاروں درخشاں واقعات سے بھرے پڑے ہیں،جب خدائی فرعون نے طاقت کے بل بوتے پر جذبہ ایمانی کے چراغ کو بجھانا چاہا، لیکن ہمیشہ طاغوتی قوتیں جذبہ ایمانی کے سامنے جل کر خاکستر ہوئیں،یہ داستان ایمان جنگ بدر سے شروع ہوئی اور ہر دور میں بار بار اہلِ دُنیا کے سامنے دہرائی جاتی رہی ہے۔ 588ھ سرزمینِ ہند پر بھی یہی معرکہ حق وباطل بر پا ہو نے جا رہا تھا، جب افغانی سپہ سالار شہاب الدین غو ری ایک لاکھ سات ہزار جذب�ۂ ایمانی سے سرشار سپاہیوں کے ساتھ ترائن کے میدان کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں اُس کے مقابلے کے لئے ہندوؤں کی تاریخ کا سب سے بہادر مغرور راجہ پرتھوی راج تیار تھا،جس نے ہندوستان کے تمام راجاؤں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کر لیا تھا، ہندو راجہ کے لشکر کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ تھی،جس میں تین ہزار ہاتھی بھی تھے ہندوستان کے تقریباً ڈیڑھ سو راجا اپنے سورماؤں کے ساتھ اُس کاساتھ دے رہے تھے،شہاب الدین غوری ایک سال پہلے پرتھوی راج سے شکست کھا کر بھاگا تھا۔ ہندوؤں اور راجہ کو اُس فتح نے فرعونیت میں مبتلا کر دیا تھا۔

اُس فتح کے بعد ہی ہندوؤں کا غرور آسمان تک پہنچ گیا تھا، تاریخ انسانی کے عظیم بے مثال خدا مست درویشِ شہر اجمیر میں آ چکے تھے اور ہندوؤں کے تمام ساحروں کو اُن کے سحر سمیت خاک چٹا چکے تھے، درویشِ کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور جوق در جوق ہندوؤں کا مسلمان ہونا پرتھوی راج کو اپنی سلطنت ڈوبتی نظر آ رہی تھی،پرتھوی راج خوا جہ شہنشاہؒ کو شکست دینے کی بار بار کو ششیں کر چکا تھا، لیکن صاحبِ تصرف اور کن فیکون کے مالک کے سامنے راجہ کی تمام چالیں ناکام ہوئیں، اب راجہ نے جب تکبر کے آسمان پر بیٹھ کر یہ بیان جاری کیا کہ مسلمان تین دن کے اندر ہندوستان اجمیر کی سرزمین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ جائیں اور درویشِ بے نظیر کے قریبی ساتھیوں کو جسمانی اذیتیں دینی شروع کیں تو شا ہِ چشت ؒ نے حالت جذب و سکر اور آتشِ جلال میں آ کر کہا دیکھتے ہیں تین دن میں کون یہاں سے جاتا ہے اور مَیں نے پرتھوی راج کو زندہ پکڑ کر لشکر اسلام کے حوالے کیا، پرتھوی راج نے سُن کر کہا مجھے گرفتار کر نے لشکرِ اسلام آسمان سے آئے گا، درویش کے منہ سے نکلی بات تقدیر بن چکی تھی۔

شہاب الدین غو ری راجہ پرتھوی کو شکست دینے کے لئے برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا، نگاہِ درویش کام کر گئی تھی، ایک بوڑھا سردار، جو پہلی جنگ میں شہاب الدین غوری کو میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگا تھا غوری کے پاس آیا اور کہا جناب آپ جن سرداروں سے ناراض ہیں وہ اپنی پچھلی غلطی پر بہت نادم ہیں اپنی شرمندگی اور شکست کا داغ دھونے کے لئے ایک بار پھر آپ کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں، اِس بار اپنی بہادری سے آپ کا دِل جیتنے میں کامیاب ہوں گے اور اپنے دامنوں پر لگے بزدلی کے داغ بھی دھونا چاہتے ہیں،شہاب الدین غوری نے سب معزول سرداروں کو معاف کیا اب یہ لشکر زیادہ جوش اور و لولے سے آگے بڑھنے لگا، پھر ملتان سے ہوتا ہوا لاہور قیام کیا اور پرتھوی راج کے پاس دعوتِ اسلام کا قاصد بھیجا، اہلِ ایمان کا پہلے دن سے یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ جب بھی کفرستان کا رُخ کرتے ہیں پہلے اُنہیں اللہ اور رسولؐ اللہ کا پیغام حق دیتے ہیں، قاصد نے جا کر پرتھوی راج کو دعوت اسلام دی کہ اگر تو دعوتِ اسلام قبول کر لے تو میرے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا باقی نہیں رہے گا۔

اور مَیں واپس چلا جاؤں گا پرتھوی راج دعوتِ اسلام سُن کر آگ بگولا ہو گیا، بھڑک اُٹھا اور بولا شہاب الدین غوری کو پچھلے سال والی شکست یاد نہیں،جب وہ بزدلوں کی طرح میدانِ جنگ چھو ڑ کر بھا گا تھا ہم راجپوت صرف تلوار کی زبان سے بات کرتے ہیں، میری تلوار تیرے خون کی پیاسی ہے راجہ جنگی کثرت پر نازاں تھا، لیکن وہ درویش کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کی بازیابی سے بے خبر تھا کہ آسمان پر اُس کی شکست لکھی جا چکی ہے، کیونکہ جب خالق کائنات کسی کے مقدر میں شکست لکھ دیں تو پھر کائنات کی تمام قوتیں جن و انس بھی اُس کو نہیں بچا سکتے،پھر ہندوستان کی تاریخ کا عظیم دن آ گیا جب مسلمانوں اور ہندوؤں کے لشکر ایک دوسرے کے سامنے آئے ایک خوفناک گھمسان کا رن پڑا راجپوت ہندوؤں کو اپنی کثرت طاقت پر بہت بھروسہ تھا، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا راجہ خدا کے لاڈلے ولی اللہ حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی دِل آزاری کر چکا تھا،جس کی جنبش چشم کے سامنے فتح کی تیار رہتی ہے درویش بے مثال پرتھوی راج کو شکست اور شہاب الدین غو ری کو فتح کی نوید سنا چکے تھے۔ جذبہ ایمانی سے سرشار لشکر قہر کی طرح ہندوؤں پر ٹوٹ پڑا،ہندو اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو روندتے ہوئے بھاگ رہے تھے۔

پرتھوی راج میدان جنگ سے بھاگ رہا تھا، لیکن درویش کے منہ سے نکلے الفاظ اُس کا پیچھا کر رہے تھے، راجہ دہلی کی طرف دوڑ رہا تھا تاکہ دوبارہ طاقت اکٹھی کر کے مقابلہ کر سکے، لیکن مسلمان فوجیوں کا ایک دستہ اُس کا پیچھا کر رہا تھا، آخر کار مسلمان دستے نے دریائے سرستی کے کنارے ہتھورا عرف پرتھوی راج فخر ہندوستان کو زندہ گرفتارکر لیا اور پھر اِس مغرور راجہ کو زنجیریں پہنا کر شہاب الدین غوری کے سامنے پیش کر دیا گیا،جب پرتھوی راج کو زنجیروں سمیت افغان سپہ سالار غوری کے سامنے لایا گیا تو غوری بولا بے شک زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ خدا کے لئے ہی ہے پھر غوری خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا،جس نے اُسے عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا، سجدے سے سر اٹھایا تو سپاہیوں نے بتایا کہ یہاں پر ایک درویش گوشہ نشین بھی ہے، جو اِس کوچ�ۂ کفر میں اذانِ حق دے رہا ہے فوری طور پر سپاہیوں سے کہا مجھے اُس درویش بے مثال کے پاس لے جاؤ اور جب فاتح ہند شہاب الدین غوری حقیقی شہنشاہِ ہند خواجہ معین الدین ؒ کے سامنے پیش ہوا تو آپ کا رُخِ روشن دیکھ کر اچھل پڑا، کیونکہ آپ ؒ کا پیکر نورانی وہ خواب میں پہلے دیکھ چکا تھا،بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے، آپ ہی تو وہی بزرگ ہیں، جنہوں نے مجھے خواب میں ہندوستان کی فتح کی بشارت دی تھی، پھر فاتح ہندوستان جوش عقیدت میں آگے بڑھا تاج سر سے اُتار کر شہنشاہِ ہند خواجہ معین الدین ؒ کے قدموں میں رکھ دیا اور بولا اِس فتح کے حقیقی وارث آپ ؒ ہیں مجھے یہ فتح آپ کے خواب سے ہی ملی ہے، مَیں غلام، آپ ؒ شہنشاہ، شہاب الدین غوری کا تاج کلاہ خسروی شاہ اجمیر ؒ کے قدموں میں پڑا تھا وہ تاج جس کو پانے کے لئے لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے درویش کے قدموں میں پڑا تھا بے نیاز حقیقی شہنشاہ نے تاج اُٹھایا اور شہاب الدین غوری کے سر پر رکھ دیا تمہارے مغرور دشمن طاقت ور تھے، لیکن حق تعالیٰ نے تمہیں فتح سے ہمکنار کیا بلاشبہ شکست و فتح اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔

انسانوں سے انصاف اور بھلائی کرو، محبوبِ خدا حق تعالیٰ کے پیغام کو عام کرو پھر شہاب الدین غوری شہنشاہِ ہند سے ڈھیروں دُعائیں لے کر رخصت ہوا، پرتھوی راج کو زنجیروں میں باندھ کر غزنی لے گیا، پرتھوی راج نے پہلی جنگ میں سازش کے طور پر شہاب الدین غوری کو شکست دی، جس کا غوری کو بہت زیادہ رنج تھا ،آج جب درویش کی دُعاؤں اور حق تعالیٰ کے خاص کرم سے پرتھوی راج زنجیروں میں جکڑا اُس کے سامنے لایا گیا تو شہاب الدین غوری کو روشن چہرے والے بزرگ یاد آ گئے، جنہوں نے خواب میں آ کر کہا تھا ہندوستان کا تخت تجھے دیا اور پھر جب پرتھوی راج کا سر تن سے جدا ہونے کے لئے تلوار اُس کی گردن کی طرف لپکی ہو گی تو یقیناًاُسے اپنی مرحومہ ماں کا فقرہ یاد آ رہا ہو گا کہ سرزمین اجمیر پر ایک درویش بے مثال آئے گا اُس سے چھیڑ خانی نہ کرنا ورنہ اپنی زندگی اور سلطنت سے ہاتھ دھو بیٹھو گے، لیکن اب موت قریب تھی اور وہ غلطی کر چکا تھا اور پھر انہی سوچوں میں غرق پرتھوی راج کی گردن تن سے جدا کر دی گئی اور شاہِ چشت کے الفاظ سچ ہوئے کہ مَیں نے پرتھوی راج کو زندہ لشکر اسلام کے حوالے کیا۔

مزید :

رائے -کالم -