نیا بلدیاتی نظام نافذ!

نیا بلدیاتی نظام نافذ!

پنجاب اسمبلی سے منظور نئے بلدیاتی قانون پر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے دستخط ہوئے اور قانون نافذ العمل ہو گیا۔ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی سابقہ بلدیاتی ادارے کالعدم ہوئے اور سب منتخب کونسلر اور میئرز، ڈپٹی میئرز اور چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین قصہ ماضی ہوئے پہلے سے تیار نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا جس کے تحت ان اداروں کے لئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیئے گئے جو درجہ بدرجہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر ہیں، پرانا بلدیاتی ڈھانچہ جوں کا توں ہے اور اب یہ نظام سرکاری افسر چلائیں گے۔ حتیٰ کہ صفائی اور پانی کے نظام کے لئے جو اختیارات منتخب نمائندوں کے تھے وہ بھی متعلقہ ایڈمنسٹریٹر استعمال کریں گے۔ یونین کونسلوں سے میئرز تک جو سیکرٹری حضرات سابق منتخب سربراہوں کے ایماء پر لگائے گئے تھے ان کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے اور جو ڈیپوٹیشن پر آئے وہ واپس اپنے محکموں کو چلے جائیں گے۔ خبر یہ بھی ہے کہ نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تجاوزات کے خلاف مہم پھر سے شروع کر دی جائے جو کسی امتیاز کے بغیر ہو، ماضی میں اگر سیاسی بنیادوں پر کہیں رکاوٹ آئی تو اب اسے بھی دور کیا جائے۔یہ اقدام کوئی غیر متوقع نہیں ہے۔ اس قانون کو خیبرپختونخوا میں نافذ قانون کے مطابق تشکیل دیا گیاہے اور یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ ایک سال کے اندر ووٹرز کی فہرستوں سے حلقہ بندیاں تک درست کرکے انتخابات کرا دیئے جائیں گے جو غیر جماعتی اور جماعتی بنیادوں پر ہوں گے ویلج کونسل اور یونین کونسل کے اراکین غیر جماعتی بنیادوں پر چنے جائیں گے اور اس سے اوپر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوں گے۔قانون کی منظوری جلدی میں لی گئی، قواعد معطل کرکے براہ راست منظور کیا گیا۔ نہ بحث ہوئی اور نہ ہی ترامیم پر غور ہوا، حالانکہ جمہوری عمل تو یہ ہے کہ بل کو قائمہ کمیٹی سے پڑتال کے بعد باقاعدہ پیش کیا جائے۔ اس پر بحث ہو اور اراکین کی ترامیم بھی زیر غور لائی جائیں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ایسا نہیں ہوا اور اپوزیشن کی طرف سے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو ہونا تھا ہو گیا اب آگے دیکھنا ہو گا اس کے لئے بہتر عمل یہ تھا کہ انتخابی عمل مکمل کیا جاتااور اس کے لئے کم سے کم وقت لیا جاتا ایک سال تک ایڈمنسٹریٹر رکھنے کے عمل پر تنقید اور اعتراض میں جان ہے پنجاب حکومت ہو یا دوسرے صوبوں اور وفاق کی حکومتیں سب کے لئے آئین، قانون اور قواعد پر مکمل عمل کے علاوہ جمہوری روایات کو بھی بروئے کار لانا ہی اچھا اقدام ہے اور بات افہام و تفہیم سے آگے بڑھنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ