کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیزہے…… !

کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیزہے…… !
کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیزہے…… !

  



ٰٓایران اورپاکستان صرف پڑوسی ہی نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کی آبادی کاایک کثیر حصہ مذہبی نسبت کی وجہ سے ایران کے ساتھ حساس سطح پروابستہ ہے۔ جدیدآئی آر (I.R) میں کسی بھی ملک کے دوسرے ملک، خصوصاً پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات بڑی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ایران اور سعودی عرب کی پراکسی وار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

ایک طرف ایران سعودی تعلقات، دوسری طرف پاک سعودی تعلقات، تیسری طرف پاک ایران تعلقات، چوتھی طرف ایران انڈیا تعلقات اور اس پر مستزاد پاک بھارت دشمنی……ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان داغ دیا کہ ایران کو دہشت گردی کا سامنا ہے اوریہ دہشت گرد گروپ پاکستان سے آپریٹ ہوتے رہے ہیں۔

ان کا یہ بیان سامنے رکھیں، پھر عالمی منظر نامہ دیکھیں کہ پاکستان کئی سالوں سے یہ کوشش کررہا ہے کہ دنیاکویہ باور کرائے کہ پاکستان دہشت گردی کا شہسوار نہیں،بلکہ خود اس ناسور کا شکار ہے۔انڈیا، اسرائیل اور امریکا جیسے ممالک کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست ڈیکلیئر کرائے۔ عمران خان نے دشمن کے منہ کی بات دنیابھر کے میڈیا کے سامنے کرکے ان کا کام آسان کردیا ہے۔

دشمنوں کو یہ کام کرنے میں بہت عرصہ لگناتھا، لیکن اب ان کا کام سالوں کی بجائے بغیر کسی کوشش کے گھنٹوں میں ہوگیا ہے، کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے،ترقی پذیر ممالک کو انفراسٹرکچر اوردوسری مدات میں مختلف سطح پر دوسرے ممالک کا تعاون درکار ہوتا ہے۔یہ تعاون حاصل کرنے کے لیے ان ممالک کی نظر میں ریاست کا وقار بنانا پڑتا ہے اور انہیں اعتماد میں لاکرانوسٹمنٹ کے لیے تیار کرناپڑتا ہے، دشمن ممالک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح دوسرے ممالک کو اس تعاون سے روکا جائے، اس مقصد کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوشش کی جاتی ہے اور میڈیا میں بھی مہم چلائی جاتی ہے۔ آپ عمران خان کے کسی بھی ملک کے دورے کا ریکارڈ چیک کریں تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ سرکاری وفود ہوں یا پرائیویٹ ادارے، انہوں نے ہر جگہ یہ بات تسلسل کے ساتھ دہرائی ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی لوگ آئے تھے، وہ سارے کرپٹ تھے۔چلو یہاں تک تو ان کی بات ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کے طورپر ٹھیک تھی، لیکن کیاانہیں اس بات کاادراک نہیں تھا کہ گندے پوتڑے چوک پر نہیں،بلکہ گھرکے اندر ہی دھوئے جاتے ہیں۔

انہوں نے اسی پر اکتفانہیں کیا، بلکہ دنیا کو یہ تأثر بھی دیاکہ پاکستان کا نظام اوپر سے نیچے تک کرپشن کی دلدل میں دھنس چکا ہے، ان کے اس طرح کے بیانات کا یہ نقصان ہوا کہ سرمایہ کاروں اورحکومتوں کا اعتماد مجروح ہوا۔

پوری دنیا کو حکومت پاکستان کے سربراہ کی طرف سے یہ پیغام پہنچا کہ پاکستان ہر گز اعتماد کے قابل نہیں ہے،یوں ڈالر نے پاکستان سے اڑان بھرنا شروع کی، سرمایہ کار بھی بھاگنے لگے اور جو یہاں کام کررہے تھے وہ بوریا بستر سمیٹنے لگے، جس کے پاکستانی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے، جو کام دشمن پچھلی چھ دہائیوں میں نہیں کر سکے تھے،وہ آٹھ ماہ میں ہو گیا، کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔

ایران میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے تجارت کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ جاپان اور جرمنی نے جنگ میں ایک دوسرے کے سینکڑوں شہری مارڈالے، لیکن پھر انہوں نے بارڈر پر صنعتیں لگا کر دشمنی کی آگ بجھائی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے اتحادی تھے اور یہ پڑوسی بھی نہیں، بلکہ ان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔

جاپان اور جرمنی کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے اور ان سے ایک دوسرے کے شہریوں کو مروانے کے لئے ماضی میں جانا پڑتا، نہ تو گزرا وقت کبھی لوٹ کے آتا ہے اورنہ ہی اب تک وہ ٹائم مشین ایجاد ہوئی ہے، جو انسان کو ماضی میں لے جائے۔اسی طرح جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملانے کے لئے بھی پوری دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا پڑتا، لیکن ہمارے وزیراعظم نے محض ایک بیان سے نہ صرف تاریخ کا دھارا موڑ دیا، بلکہ عالمی نقشہ تک بدل کر رکھ دیا۔ صدیوں میں نہ ہونے والا کام محض ایک منٹ میں کردیا، کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔

سانحہ ساہیوال ہی لے لیں، معصوم بچوں کے سامنے ان کے نہتے ماں باپ کو گولیوں سے بھون دیا گیا، حکومت سنبھالنے کے بعد عمران خان کا یہ پہلاامتحان تھا، یہی وجہ تھی کہ شہریارآفریدی نے اس واقعہ کو ٹیسٹ کیس قراردیا، خوشخبری سنائی گئی کہ اب نیا پاکستان ہے اور نئے پاکستان میں عدل کے معیار بھی نئے ہوں گے، حدود متعلقہ کے افسران کوبرطرف کردیا گیا،لیکن تین چار ماہ بعد انہیں دوبارہ بحال کردیا گیا، کسی بھی باضمیرحکومت کو یہ کام کرنے میں دوتین سال ضرورلگتے، لیکن یہاں یہ کام دوتین سال کی بجائے تین چار ماہ میں ہوگیا ہے، کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔

ڈالر کو اتنی بلندی پر جانے، اشیائے خوردنوش،سٹاک مارکیٹ کو نیچے آنے اور ڈیزل و پٹرول مہنگا ہونے کے لیے کم از کم ایک سال درکار تھا۔بجلی کی قیمتیں دیکھیں تو کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں، گیس کا بھی یہی حال ہے، یہ سلسلہ رکا نہیں، بلکہ ایک سو بیس ارب کا مزید بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا،اس آٹھ ماہ کی حکومت کا پچھلی حکومتوں کے آٹھ ماہ سے موازنہ کیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔

چلیں آپ ہی بتائیں کہ حفیظ شیخ کے پاکستان کی بدحالی کا ذمہ دار ہونے سے پاکستان خوشحالی کا شہسواربننے،پرویز الٰہی کو ڈاکو سے پارسا بننے، فردوس عاشق اعوان کو اپنے اوپرقائم مقدمات سے دامن صاف کرنے، بابراعوان کو جھوٹے سے سچا بننے، شیخ رشید کو چپڑاسی سے وزیر بننے،اعظم سواتی کو دوبارہ کابینہ میں آنے، عارف علوی کو بینچ پر لیٹ کر تصویر بنوانے سے شاہانہ پروٹوکول لینے، خسروپرویز کو نیب انکوائریوں سے جان چھڑانے اور بچت کے نام پر2800000 کی بھینسیں بیچ کر 3600000 کا مشاعرہ کرانے میں کتنا عرصہ لگتا اور کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے؟…… لیکن کرشمہ تو دیکھیے ”ہینگ لگی نہ پھٹکڑی بس ذرا آنکھ جھپکی اور سب ہو گیا“کیونکہ تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔ ”جہانگیرترین“کے بعد تبدیلی کی رفتاربھی ”تیزترین“ ہوچکی ہے۔

مزید : رائے /کالم