ٗٗٗہمدم دیرینہ: ڈاکٹر طاہر امین

ٗٗٗہمدم دیرینہ: ڈاکٹر طاہر امین
ٗٗٗہمدم دیرینہ: ڈاکٹر طاہر امین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

غالب نے اپنے بھتیجے کی موت پر جو مرثیہ لکھا تھا، اس میں کہا تھا: ”کیا تیرا بگڑتا تھا جو نہ مرتا کوئی دن اور“…… اس دن سے مَیں بھی کچھ ایسا ہی مسلسل سوچ رہا ہوں،جس دن صبح ہی صبح ہمدم دیرینہ ڈاکٹر طاہر امین کی وفات کی خبر مجھے ملی تھی۔ میرا اس کا ساتھ سنتالیس (47)برس سے تھا۔ لوگ کہتے ہیں اس کے بارے کچھ کہو، کچھ لکھو۔ سوچتا ہوں کیا کہوں اور کیا لکھوں۔

سنتالیس سال کی ساری یادیں، ساری باتیں اور ساری داستانیں وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ہم اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مسائل او ر بڑے بڑے دُکھ، جن کا کسی دوسرے سے اظہار نہیں ہو سکتا تھا آپس میں بانٹ لیتے تھے۔بہت سی باتیں صرف ہماری تھیں اور بس ہماری ہی رہیں گی۔

میرے جوانی کے خوبصورت ترین سال جو ہم نے اکٹھے گزارے وہ اپنے ساتھ منوں مٹی میں لے کر کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا۔ کئی دن مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ اس کا نام لے سکوں یا اس کا ذکر کر سکوں۔ اس کی مرگ پرتین دن اسلام آباد میں رہا۔کوشش کے باوجود اس کے بچوں اور بھابی سے افسوس نہیں کر پایا، بلکہ عجیب کیفیت تھی،جی چاہتا تھا کوئی مجھ سے افسوس کرے۔

مجھ سے گلے لگ کر میرا درد سمیٹ لے، مگر وہ جو درد کا درماں تھا بڑے سکون سے سو رہا تھا۔اسے مٹی کے سپرد کرتے میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ لوگ اس کی قبر پر پھول رکھ رہے تھے میرے پاس آنسو تھے جو میں اس پر نچھاور کر رہا تھا۔
1973ء میں ہم، ڈاکٹر طاہر امین، حفیظ اللہ نیازی اور مَیں،قائداعظم یونیورسٹی میں اکٹھے رہے۔ وہاں ہمارے تعلقات ایک جان تین قالب کی صورت تھے۔ کسی ایک کو تکلیف ہونی، تینوں نے محسوس کرنی۔وہ دور ہماری زندگی کا بہترین دور تھا۔ ہماری دوستی انمٹ اور لازوال تھی اورآج تک لازوال رہی اورلا زوال ہے۔ شاید اسی دوستی کا کمال تھاکہ ایک عرصے سے غم روزگار اور غم دوراں نے ہمیں جدا جدا کر رکھا ہے، مگر ہماری دوستی میں کبھی کوئی دراڑنہیں آئی۔

گو حفیظ اللہ نیازی اپنی کاروباری، سیاسی اور صحافتی مصروفیت کی بنا پر دوستوں کو اب کم وقت دیتا ہے، مگر اس کا حال ہمارے معاملے میں پروین شاکر کے لوٹے جیسا ہے کہ وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا۔طاہر امین ہمارا ہم عصر تھا، ہم مکتب تھا، ہم پیالہ تھا، ہم نوالہ تھا،ہم راز تھا، ہمدم تھا، ہم نوا تھا،ہم آواز تھااور کیا کیا تھا شاید وہ جذبات اور احساسات لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتے۔
وہ ایک بڑا آدمی تھا عظیم آدمی۔ اتنا عظیم کہ جیسے لوگ مہذب معاشروں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔پڑھے لکھے ماحول کا حسن ہوتے ہیں۔سراپا درویش اور انتہائی مخلص۔طالب علمی کے ہر دور کا پوزیشن ہولڈر۔ دُنیا کی بہترین درس گاہوں، چاہے وہ پاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی ہو، برطانیہ کی آکسفورڈ ہو یا امریکہ کی ایم آئی ٹی (جہاں سے اس نے ڈاکٹریٹ کی)کے ہونہار طلبا میں بھی صف اول اس کا طرہ امتیاز رہی۔سی ایس ایس کرنے کے باوجود جائن نہیں کیا، بلکہ تدریس کو پسند کیا۔

ایک نامور استاد، ایک محقق، ایک شفیق انسان، یہی اس کی پہچان تھی۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ قوم کو ایسے نایاب لوگوں کی قدر نہیں۔ ایسے لوگوں کا جانا ایک قومی نقصان ہے، مگر ملک میں کسی کو احساس زیاں ہی نہیں۔اس کا تحقیقی کام اس قدر شاندار ہے کہ مر کر بھی وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی شاندار کارکردگی کو کوئی موت سے آشنا نہیں کر سکتا۔ایسے لوگ دلوں میں زندہ رہتے ہیں، ذہنوں میں زندہ ریتے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر امین نے زندگی بھر چیزوں کا انتخاب بڑے سلیقے سے کیا،مگر پہلی دفعہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی وائس چانسلری کا غلط انتخاب اس کولے ڈوبا۔اس عہدے نے اس کی صحت کو برباد کیا۔ وہ مسلسل دباؤ کا شکار رہا،کیونکہ وہ ایڈمنسٹریشن کا آدمی نہیں تھا۔وہ تخلیقی انسان تھا، تحقیقی شخص تھا۔ مَیں نے اسے بارہا کہا کہ اس عہدے پر لعنت بھیجو۔

صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، مگر وہ اپنے اس غلط انتخاب میں پھنس چکا تھا جسے چھوڑنے میں اسے بہت وقت لگا۔اسے یہ عہدہ بہت پہلے چھوڑ دینا چاہئے تھا۔ اس کی فیملی اسلا م آباد میں تھی، اور وہ ملتان میں اکیلا۔ ایک،سیاسی آلودگی کے حساب سے آج پاکستان کی بد ترین یونیورسٹی،بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، کے معاملات، دوسرا گھر سے دوری کے سبب فیملی کا دباؤ اور اس طرح کے بہت سے معاملات نے اس کی صحت پر برا اثر ڈالا۔

اس کی نیند چھین لی۔چین چھین لیا۔وہ چار سال کے لئے وائس چانسلر تھا، مگر تقریباً ایک سال قبل اس نے اپنے معاملات بہتر کرنے کے لئے وائس چانسلری چھوڑ دی، مگر جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ اسلام آباد واپس آنے کے بعد اس کی دونوں ڈاکٹر بیٹیاں اس کی خدمت پر پوری طرح مامور رہیں۔ اس کا بہت خیال رکھا گیا، مگر اسے جانے کس بات کی جلدی تھی جو سب کو روتا چھوڑ کراپنی آخری منزل کو عازم سفر ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی احباب کلب کی تقریب میں اس کے ذکر پر میں نے ہر شخص کوسوگوار پایا۔ بہت سے ساتھیوں نے اسے خراج عقیدت پیش کیا۔ مجھے بھی کچھ کہنے کا کہا گیا۔

اس کا ذکر میرے بس کی بات نہ تھی،مَیں نے فقط اتنا کہا کہ ایک پروفیسر سے کسی نے پوچھا زندگی میں انسان کی سب سے قیمتی چیز کونسی ہے۔پروفیسر صاحب نے ہنس کر ایک شیشے کا جار سامنے رکھا اور اسے ٹینس کے گیندوں سے بھر دیا۔ پھر ڈھیر ساری کنکریاں جار کی خالی جگہ پر بھر دیں۔ آخر میں بہت ساری ریت اس میں ڈال دی اور کہا کہ یہ تین چیزیں جو مَیں نے اس جار میں ڈالی ہیں انہوں نے جار کو پوری طرح بھر دیاہے۔جار میں موجود ان تین چیزوں میں سب سے غیر اہم ریت کے ذرے ہیں۔

مٹھی بھر ریت بھی نکال لیں جار کی سطح کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پھر کنکر ہیں وہ جتنے بھی نکل جائیں، کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جار کو ذرہ سا ہلائیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کوئی چیز کم ہوئی ہے، لیکن اگر ایک گیند جار میں سے نکل جائے تو ایک ایسا بڑا خلا آ جاتا ہے۔وہ خلا قائم رہتا ہے جار کو جتنا مرضی ہلائیں سطح نیچے ہو جائے گی، مگر خلا پر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

انسانی زندگی بھی اسی جار کی مانند ہے۔ ریت کے ذرے آپ کی ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مانند ہیں چاہے جتنے ذرے کم ہو جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کنکر آپ کا گھر، آپ کی گاڑی جیسی تھو ڑی بڑی چیزیں ہیں۔ یہ بھی آنی جانی چیزیں ہیں۔ان سے بھی کچھ نہیں بگڑتا۔ ٹینس کے گیند کی حیثیت انسان کے لئے اس کے پیاروں کی مانند ہے۔

ایک گیند کا نکلنا، ایک پیارے کا بچھڑنا ہے جو زندگی میں ایک بڑا خلا پیدا کر جاتا ہے جو کچھ ہو جائے کبھی بھر نہیں سکتا۔ ڈاکٹر طاہر امین میری زندگی میں اس گیند کی مانند تھا،جس کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ایک ایسی کمی جو ختم نہیں ہو سکتی،کبھی نہیں۔کسی صورت بھی نہیں۔جانے والا بہت سی بہاروں کو ساتھ لے کر چلا گیا۔

مزید :

رائے -کالم -