القادر یونیورسٹی سوہاوہ

القادر یونیورسٹی سوہاوہ
القادر یونیورسٹی سوہاوہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پرسوں اتوار (5مئی 2019ء) کو وزیراعظم عمران خان نے سوہاوہ (ضلع جہلم) میں القادر یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے جو تقریر کی، میں اس کا آخری حصہ سن سکا۔انہوں نے اس یونیورسٹی کے بارے میں بعض ایسی باتیں بتائیں جو شائد میری طرح بہت سے قارئین کو پہلے معلوم نہ تھیں۔
ایک تو یونیورسٹی کی وجہ تسمیہ بتائی۔ پہلے میرا خیال تھا کہ یہ نام اس علاقے کی کسی عظیم صوفی بزرگ کا ہو گا لیکن تصوف کی جو تھوڑی بہت تاریخ میں نے پڑھ رکھی ہے اس میں اس علاقے میں کسی صاحبِ ولائت کا نام عبدالقادر یا قادر بخش یا قادر حسن نہیں تھا تو پھر یہ ”القادر“ یونیورسٹی کا نام کس کے نام پر رکھا گیا؟ وزیراعظم نے بتایا کہ یہ نام حضرت محی الدین، غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانی (1166ء۔1079ء) اپنے دور کے بہت بڑے صوفی تھے۔

ان کا مزار بغداد میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ ہمارے برصغیر میں ان کو گیارہویں والا پیر بھی کہا جاتا ہے اور آج بھی بہت سے لوگ ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو ان کے نام کی ’نیاز‘ دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات خودستائی کے ذیل میں شمار ہو گی لیکن ہمارا خاندان حضرت عبدالقادرؒ کے زہد و ریاضت علم و فضل اور تصوف و پارسائی کا از بس احترام کرتا آ رہا ہے۔ ہم پانچ بھائی تھے، ایک کا جواں عمری میں انتقال ہو گیا۔

میں ان میں عمر میں سب سے بڑا ہوں۔ والد محترم نے ہمارے پانچوں بھائیوں کے نام حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام پر رکھے جو بالترتیب غلام جیلانی خان، فضل جیلانی خان، عطا جیلانی خان، کرم جیلانی خان اور فیض جیلانی خان تھے۔

میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ والد مرحوم نے اپنی اولاد کے نام جس ہستی کے نام پر رکھے تھے اس کے لئے دعا مانگی تھی کہ ہم بھائیوں کو نیک راہ پر چلانا اور ان کو برائیوں سے دور رکھنا۔ میں سمجھتا ہوں ان کی دعا اس حد تک بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہوئی کہ ہم چار بھائیوں میں سے کسی کو برائی یا بدی کی راہ اختیار کرنے کی لَت نہیں پڑی۔
دوسری بات جس کا پتہ نہ تھا وہ یہ تھی کہ یہ یونیورسٹی حکومتی خرچے سے قائم نہیں کی جا رہی بلکہ یہ ایک فلاحی ادارہ ہے اور اس کی فنڈنگ مخیر حضرات کے چندے سے کی جا رہی ہے۔ سوہاوہ پوٹھوہار کا وہ علاقہ ہے جس نے پاکستان کی بیشتر فوج کو آفیسرز اور جوان دیئے ہیں۔ گجرات سے لے کر گوجر خان بلکہ راولپنڈی تک کے علاقے بنجر یا نیم بنجر اور نیم کوہستانی ہیں لیکن انہی صحرائی اور پہاڑی علاقوں نے پاکستان کے دفاع اور اس کی بقاء میں ایک بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔حضرت اقبال نے انہی علاقوں کی بنجر اور ریگستانی سرزمینوں کو اسلام کی شادابی کا منبع قرار دیا تھا اور کہا تھا:
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی، یا مردِ کہستانی
یہ علاقے دفاع پاکستان کی نرسریاں ہیں اور جس کسی نے بھی القادر یونیورسٹی کی سائٹ (Site) منتخب کی، وہ مبارک باد کا مستحق ہے کہ یہ صحرائی علاقہ، واقعی ریاستِ مدینہ کی صحرائی ٹیرین (Terrain) اور وہاں کی آب و ہوا کا مثیل اور مماثل ہے۔
تیسری اور سب سے اہم بات جو مجھے معلوم نہ تھی وہ اس یونیورسٹی کے قیام کی غرض و غائت تھی۔ آسان الفاظ میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ ہائر سٹڈیز کے اس تدریسی و تعلیمی ادارے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ روحانیت اور تصوف کی تعلیم بھی دی جائے گی اور موخر الذکر موضوع پر ریسرچ کا ڈول بھی ڈالا جائے گا۔

وزیراعظم نے پیشگوئی کی کہ اسی علاقے اور نیز اسی یونیورسٹی سے پاکستانی مستقبل کی لیڈرشپ پیدا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے، آج تک پاکستان میں ایسا کوئی لیڈر نہیں پیدا ہوا جو قوم کی رہنمائی کرکے اسے اقبال اور جناح کی خوابوں کی تعبیر بناتا۔

چنانچہ پاکستان گزشتہ 70،72 برسوں سے قیادت کے بحران کا شکار ہے۔ اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جو صاحبانِ ذوق کی نظروں سے گزری ہوں گی…… ہم نے سیاستدان تو کئی پیدا کئے، لیکن ایک بھی سیاسی مدبر پیدا نہیں کیا۔
عمران خان آج کل جس قسم کی تقریریں کر رہے ہیں وہ بظاہر پاکستان کے فوری (Immediate) زمینی حقائق کے برعکس معلوم ہوتی ہیں۔ آج پاکستانی ریاست کے مسائل اور طرح کے ہیں اور عمران خان جس مدنی ریاست کو آنکھوں میں بسائے ہوئے ہیں اس کے شب و روز اور احوال و مقامات اور طرح کے تھے۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے، وزیراعظم آج کل کلامِ اقبال اور حیاتِ اقبال کے ایک سنجیدہ طالب علم معلوم ہوتے ہیں۔ایک روز پہلے انہوں نے رینالہ خورد میں ہاؤسنگ کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے بھی تقریباً وہی باتیں کہیں جو سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے کر رہے تھے۔

اس یونیورسٹی کے مستقبل کے پس منظر میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی جامعہ ہو گی جس میں جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم بھی دی جائے گی اور ساتھ ہی روحانیات اور تصوف کی تدریس کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ”روحانیات سُپر سائنس ہے“۔…… اور یہ وہی بات ہے جو اقبال کی شاعری کا لبِ لباب ہے۔ مغرب نے سپرسائنس تک تو رسائی حاصل کر لی ہے، خلاؤں سے دور نکل گیا ہے اور بلیک ہول کی تصاویر اتارنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔لیکن اقبال کے الفاظ میں انسان اپنی غرض و غائت نہیں پا سکا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کوگرفتار کیا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
نظر آ رہا ہے کہ القادر یونیورسٹی کا سلیبس جب تیار کیا جائے گا تو ایک طرف تو مغرب سے سپرسائنس کے اساتذہ بلوا کر ان سے اس جامعہ کے طلباء اور طالبات کی تدریسی رہنمائی کی جائے گی لیکن دوسری طرف روحانیات کے سُپرسائنس ہونے کے اثبات کی تعلیم دینے کے لئے بھی جن اساتذہ کی ضرورت ہو گی، وہ خال خال ملیں گے۔یہ اس القادر یونیورسٹی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہو گا…… اقبال جیسا شخص اب دوبارہ کہاں پیدا ہو گا۔ ان کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:
مرابنگر کہ در ہندوستاں دیگر نمی بینی
برہمن زادۂ رمز آشنائے روم و تبریزاست
]مجھے دیکھو کہ مجھ جیسا سارے ہندوستان میں کوئی دوسرا شخص ایسا نہیں ملے گا جو برہمنوں کی اولاد ہو کر مولانا روم اور شمس تبریز کی تعلیمات سے آشنا ہوگا[
اقبال کی زندگی پر نظر ڈالئے۔ انہوں نے مسجد کے مدر سے سے آغاز کیا، ایک طرف مولوی میر حسن جیسے عربی، فارسی کے اساتذہ میسر آئے تو دوسری طرف پروفیسر آرنلڈ جیسے فلاسفہ کے سامنے زانوئے تلمذطے کرنے کا موقع ملا۔ پھر عالمِ شباب میں برطانیہ چلے گئے۔ قانون کی ڈگری لی اور ساتھ ہی ایک جرمن یونیورسٹی سے جس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی وہ ”فلسفہ ء عجم“ تھا۔

متقدین، متوسطین اور متناخرین فلسفہ دانوں کو پڑھا۔ قرانِ حکیم کا مطالعہ تو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مسلمانانِ برصغیر کی سیاسی ابتلاؤں سے بھی واقف تھے اور پاکستان کا تصور انہی کے ذہن کی تخلیق تھا۔ اس موضوع کو قارئین مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، لیکن آخر وہ جس نتیجے پر پہنچے وہ یہ تھا:
گر تومی خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قراں زیستن
]اگر تو مسلمان بن کر جینا چاہتا ہے تو ایسا قران کے بغیر ممکن نہیں [
کہا جاتا ہے کہ جہاں سائنس کی حدود ختم ہوتی ہیں وہاں سے روحانیت کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔ اور اسی حوالے سے روحانیت، سپر سائنس ہے۔ سوہاوہ کی اس یونیورسٹی میں روحانیات کی تدریس کے لئے جن صاحبانِ علم تصوف کی خدمات حاصل کی جائیں گی ان کا انتخاب کرتے ہوئے ایک مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔ اقبال کا سرسری مطالعہ کرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے شائد روحانیت کو سائنس کے مقابلے میں ایک ارفع تر مقام دلواتے ہوئے، جدید سائنسی علوم و فنون کو کنڈم کیا ہے۔ اور فلسفی اور صوفی کے درمیان اگر مقابلہ کرنا پڑ جائے تو صوفی جیت جائے گا۔ سطورِ بالا میں اقبال کے جن اشعار کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں بھی ستاروں کی گزرگاہیں ڈھونڈنے والے عالم کو عابدِ شب زندہ دار کے مقابل ایک زیریں مقام دیا گیا ہے۔

اور اقبال کے فارسی کلام کا مطالعہ کرنے والے کو تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اقبال نے مغربی تعلیم و تعلم کو یکسر ہیچ گردانا ہے۔ پیام مشرق کے آخری حصے میں ایک نظم کا عنوان ہے نقشِ فرنگ…… اس حصے میں اقبال کہتے ہیں: ”اے باد صبا! اگر تیرا گزر کبھی مغربی دنیا(یورپ اور امریکہ) میں ہو تو وہاں مغرب کے سائنس دانوں کو کہنا کہ ان کی عقل و دانش نے جتنے زیادہ پَر پُرزے نکالے ہیں، اتنی ہی زیادہ گرفتار ہوئی ہے۔ یہ بھی کہنا کہ ایک سائنس دان جس برق کو زیرِ دام لاتا ہے، روحانیت کا علمبردار اسے اپنے جگر پر سہتا ہے اس لئے عقل کا پیشہ جادوگری ہے اور عشق (روحانیت) کا پروفیشن اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور جگردار ہے۔

ظاہری آنکھ کو لالے کے پھول کا صرف رنگ ہی نظر آتا ہے جبکہ اس رنگ کو اگر چیر کر دیکھا جائے تو ایک مختلف دنیا نظر آئے گی۔ آج کی میڈیکل سائنس کا اعجاز تو یہ ہے کہ اس نے مسیحا پیدا کر دیئے ہیں جو موت کے منہ میں جانے والوں کو ایک نئی زندگی دے دیتے ہیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ آج کا مریض، کچھ زیادہ ہی مریض بن کر رہ گیا ہے۔ آہ! آج کے سائنس دان نے سائنس سیکھی اور دل جیسی پیش قیمت متاع کو ہاتھ سے گنوا دیا“۔
اور اس کے بعد تو اور بھی کھل کر سامنے آتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”سائنس اور فلسفہ ایک عظیم اور بے نظیر کام ضرور ہے لیکن اس کے مدرسے میں عشق و محبت کے تھپڑ نہیں پائے جاتے۔ یہ تھپڑ صرف تصوف کے طلباء کے نصیب میں ہوتے ہیں۔ آج کے سائنس دان اور فلسفی کو ایک راہزن کہنا زیادہ قرینِ قیاس ہو گا کہ اس کی آنکھوں میں ہزار فتنے پوشیدہ ہیں۔

سائنس دانوں کے علوم کی آگ آگ تو ہے مگر ٹھنڈی آگ ہے جس سے دلوں میں حرارت پیدا نہیں ہوتی۔ فلسفہ و سائنس کا عالم گویا ایک ایسا معشوق ہے جس کی پوشیدہ اداؤں اور غمزوں میں کوئی لذت نہیں۔ وہ صحراؤں کی خاک چھانتا پھرتا ہے لیکن کوئی ایک غزال (ہرن) بھی اس کے ہاتھ نہیں آتا۔

باغوں اور گلستانوں کے چکر لگاتا ہے لیکن اس کی جیب میں ایک پھول بھی نظر نہیں آتا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ روحانیت کا سہارا لیں، اسی کے آگے سجدے گزاریں اور اسی سے دل کی مرادیں مانگیں:
چارہ این است کہ از عشق کشادے طلبیم
پیشِ او سجدہ گزاریم و مرادے طلبیم
یہ ایک طویل نظم ہے اور اقبال نے اس میں ثابت کیا ہے کہ روحانیت واقعی ایک سُپر سائنس ہے۔ لیکن کلامِ اقبال کے طالب علم کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ یہ منزل عشق و محبت کی آخری منزل ہے اور اس کا حصول پہلی منزلوں کو طے کئے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے علامہ اقبال نے یہ بھی کہا ہے:
کھلے ہیں سب کے لئے غربیوں کے میخانے
علومِ تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
اگر القادر یونیورسٹی میں سائنس اور روحانیات کو شیر و شکر کرنا ہے تو پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی کے دروازوں پر دستک دینا ہو گی، روحانیت کے دروازے اس کے بعد ہی کھلیں گے……اور اسی لئے سپر سائنس کہلائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -