ٍپاکستانی تاجر ملائیشیا کو آم اور سبزیاں بھی بر آمد کریں: قونصل جنرل 

ٍپاکستانی تاجر ملائیشیا کو آم اور سبزیاں بھی بر آمد کریں: قونصل جنرل 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ٍ کراچی(اے پی پی) ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنزران عبدالرحمان نے پاکستانی تاجروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملائیشیا کو روایتی اشیاء برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ آم،سبزیوں سمیت دیگر اشیاء برآمد کرنے پر بھی توجہ دیں،ملائیشین حکومت دونوں برادر ملکوں میں تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستانی تاجروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے،ملائیشیا اور پاکستان اچھے دوست اور اہم تجارتی شراکت دار ہیں جو مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں تعاون کررہے ہیں، پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے پاکستان ملائیشیا فرینڈشپ ایسوسی ایشن (پی ایم ایف اے)کی جانب سے منعقدہ پہلے”خراج تحسین ایوارڈ2019“کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،قونصل جنرل نے ملائیشیاکے ساتھ زیادہ تجارت کرنے والی کمپنیوں ای ڈاٹ کو پاکستان،سن لائٹ ووڈ،میپاک ایڈبیل آئلز،پروگریسیو ٹریڈرز،پیسیفک کموڈیٹیز،پاسپیڈا،اوسس ٹریول اور گرین لینڈ ٹریول و ٹوارز کو ایوارڈ دیا،وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر پیر نوراللہ،سینیٹر حسیب خان اورمعروف تاجر خالد تواب نے بھی تقریب سے خطاب کیا، ملائیشین قونصل جنرل نے پاکستان اور ملائیشیا کے مابین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے پی ایم ایف اے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ بلاشبہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی اہم بنیاد تجارت و سرمایہ کاری ہے،پاکستان ملائیشیا سے پام آئل اور پام مصنوعات درآمد کرنے وال چوتھا بڑا اورجنوب ایشیائی ممالک میں ملائیشیا کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے،انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت دستیاب مواقعوں کے لحاظ سے موجودہ تجارتی حجم کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی حکومت درآمدی اشیاء پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے پر غور ضرورکرے گی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر پیر نوراللہ نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں،انہوں نے پاکستانی تاجربرادری پر زور دیاکہ وہ ملائیشیا کی ترقی کرتی حلال مارکیٹ میں تجارت کی نئی راہیں تلاش کریں اور حلال گوشت، پولٹری مصنوعات میں سرمایہ کاری کریں جس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ پاکستان ملائیشیا فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر شاہد جاوید قریشی نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ پی ایم ایف اے2005ء سے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہی ہے جن میں تجارت، سیاحت، تعلیم و صحت کے شعبے قابل ذکر ہیں،ایوارڈز کے انعقاد کا مقصد ملائیشیا کے ساتھ باہمی تجارت کو  بڑھانے کے حوالے سے پی ایم ایف اے کی ممبرز کمپنیوں اور پاکستانی تاجروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے جو ملائیشیا کے ساتھ وسیع پیمانے پرکاروبار کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ای ڈاٹ کو نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں 130ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے.
 اور اگلے دوسالوں میں مزید250ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے جبکہ سیاحت کے شعبے پر توجہ دے کر تجارت کی نئی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں،انہوں نے اگلے سال مارچ میں دوسرے ”خراج تحسین ایوارڈ“ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا جس میں ملائیشیا کے ساتھ مزید شعبوں میں تجارت کرنے والی کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا جبکہ عید کے بعد ”پاکستان ملائیشیا آزاد تجارتی معاہدے“ پر ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا جائے گا کیونکہ پاکستانی تاجروں کی اکثریت آزاد تجارتی معاہدے کی اہمیت سے ناواقف ہے،سیمینار میں ایف ٹی اے کے فوائد اور مواقعوں کو اجاگر کیا جائے گا۔

مزید :

کامرس -