تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ظلم ہے،بزنس مینل پینل

تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ظلم ہے،بزنس مینل پینل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت میں مزید اضافہ عوام اور کاروباری برادری پر ظلم ہے۔اس سے مہنگائی بے روزگاری اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو جائے گا جبکہ پیداوار اور برآمدات متاثر ہونگی۔ عوام میں یہ بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں اسلئے وزیر اعظم عمران خان سابقہ قیمتیں بحال کریں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں عوام پر کھربوں روپے کا اضافی بوجھ لاد دیا گیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے اور اب ان میں مزید قربانیاں دینے کی سکت نہیں ہے۔ کرنسی کی قدر میں بار بار کمی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے غربت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، ملک مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہا ہے جبکہ عوام ہراساں ہو گئی ہے اس لئے اس سلسلہ کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے صنعتکاری کا عمل بھی بری طرح متاثر ہو گا۔ اس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف شہروں میں عوام نے احتجاج شروع کر دیا ہے جو رمضان المبارک کے دوران بھی جاری رہ سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں کے تعین کا نظام شفاف نہیں ہے۔
اور اسکے لئے جواز ہمیشہ لولے لنگڑے ہوتے ہیں جو عوام کی تسلی کے بجائے بے چینی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2013-14 میں پٹرول کی قیمت اُس وقت سو روپے فی لیٹر سے بڑھی تھی جب بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی تھی۔ اس وقت بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً68 ڈالر فی بیرل ہے اسلئے قیمت میں یہ اضافہ بلا جواز ہے جسکی اجازت نہ دی جائے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ رمضان میں منافع خور ثواب کے بجائے مال سمیٹتے رہیں گے جبکہ یہ مہینہ عبادت کے بجائے پریشانی اور احتجاج میں گزار دینگے جس کا سارا کریڈٹ حکومت کو جائے گا۔پٹرولیم کی قیمتوں میں اچانک اضافہ سے عوام بوکھلا گئی ہے جبکہ کم آمدنی والے طبقات کا جینا حرام ہو گیاہے۔انھوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 9روپے 42پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 4روپے 89پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 7روپے 46پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اب پٹرول کی نئی قیمت 108روپے 31پیسے، مٹی کے تیل کی 96روپے 77پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 122روپے 32پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ایف بی آر نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے عوام کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے اس لئے اس فیصلے پر فوری نظر الثانی کی جائے۔

مزید :

کامرس -