زکریا یونیورسٹی ‘ خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنیکا معاملہ ‘ دو رکنی کمیٹی تشکیل

زکریا یونیورسٹی ‘ خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنیکا معاملہ ‘ دو رکنی کمیٹی تشکیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان(سٹاف رپورٹر)گورنر پنجاب اور وفاقی محتسب کی طرف سے زکریا یونیورسٹی کی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر پر ظلم کرتے ہوئے انہیں دھمکیاں دینے اور نازیبا الفاظ سوشل میڈیا پر ڈالنے کا (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )


سخت نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کئے جانے پریونیورسٹی انتظامیہ نے دو رکنی کمیٹی بناکر 15روز میں رپورٹ مانگ لی،تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشن کی ڈاکٹر رفیدہ نواز نے زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، گورنرپنجاب اور خاتون وفاقی محتسب کو درخواست دی تھی کہ شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر فاروق زین نے آفیشنل واٹس ایپ گروپ میں ان کو دھمکیاں دیں اور نازیبا الفاظ میں ان کے بارے میں میسج کئے جس پر گورنر پنجاب اور وفاقی خاتون متحسب نے جواب طلب کرلیا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ جو پہلے تو خاموش تھی‘ گورنر اور خاتون محتسب کے نوٹس لینے پر خاتون اسسٹنٹ پروفیسر پر ظلم کی انکوائری کےلئے کمیٹی بنادی ہے ۔جاری مراسلے کے مطابق کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر شفقت اللہ، اور پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین شامل ہوں گے۔ کمیٹی 15 روز میں شکایات کا جائزہ لیکر رپورٹ جمع کرائے گی ۔ واضح رہے کہ شعبہ آئی آر کی اسسٹنٹ پروفیسر رفیدہ نواز نے گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وفاقی محتسب کشمالہ طارق کو درخواست دی اور وفاقی محتسب کی جیوری میں پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ انہیں ہراساں کیاجا رہا ہے ۔ امتیازی سلوک کیاجا رہا ہے ۔ ان کو ورک لوڈ نہیں دیاجا رہا اور الٹا پارٹ ٹائم اساتذہ کے ذریعے کلاسز پڑھائی جا رہی ہیں ۔ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور نازیبا الفاظ سوشل میڈیا پر ڈالے جار ہے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں وائس چانسلر اور رجسٹرار کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے ‘لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو سکی ۔ نا انصافی پر وہ وفاقی محتسب کے فورم سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئی ہیں ۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ پروفیسر رفیدہ نواز وفاقی محتسب کی جیوری کے روبرو پیش ہوئیں اور ہیئرنگ بھی ہوئی ۔ وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے ایکشن لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے 8مئی کو جواب طلب کرلیا کہ ہراسمنٹ اور امتیازی سلوک کے بارے میں آگا ہ کرنے کے باوجود وی سی اور رجسٹرار نے کیوں نوٹس نہیں لیا اور ایکشن کیوں نہیں لیا۔ دریں اثنا تعلیمی حلقوں نے خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کو دھمکیا ں دینے اور ہراساں کرنے اور نازیبا الفاظ سوشل میڈیا پر ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے ذمہ داروںکو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیاہے۔
ہراساںَ