رمضان المبارک کے بعد ملک بھر میں آٹا بحران ‘ مہنگائی کانیا طوفان تیار

رمضان المبارک کے بعد ملک بھر میں آٹا بحران ‘ مہنگائی کانیا طوفان تیار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)سرکار کو گندم فروخت کرنے کے رحجان مےں نمایاں کمی، جبکہ فلور ملز، سیڈ کمپنیاں، کاٹن فیکٹریز اور فیڈ ملز نے کسانوں سے گندم خرید کر سٹاک کرنا شروع کررکھی(بقیہ نمبر20صفحہ12پر )


 ہے، اوپن مارکیٹ مےں گندم کا ریٹ13سوروپے سے زائد فی من ہونے پر ضلع رحےم یارخان کے کسانوں نے گندم پنجاب حکومت کو فروخت کرنے سے انکارکردیااورپرائیوٹ خریداروں کو1315روپے فی من کے حساب سے فروخت کررہے ہےں، جس مےں کسانوں کو ناتو بوری، سلائی اور ٹرالی کا خرچہ اور ناہی لوڈنگ ان لوڈنگ کاخرچہ کرنا پڑرہاہے جبکہ سرکاری خریداری مراکز مےں دو دودن ٹریکٹرٹرالی اور مزدور لائنوں مےں لگنے سے بچ رہے ہےں جس کے باعث ضلع رحےم یارخان کے 20گندم خریداری مراکز تاحال مقررہ ٹارگٹ 1لاکھ 77ہزار 331میٹرک ٹن مےں سے 12ہزار280میٹرک ٹن خریداری کا ہدف مکمل کرسکی ہے جس کے مطابق ٹوٹل خریداری کاٹارگٹ6.92فیصد ہی حاصل کرنا ممکن ہوسکا ہے۔اگر محکمہ خوراک اپنا ٹارگٹ مکمل نہ کرسکاتو اس سال آٹے کابحران اورقیمت 2000روپے فی من تک پہنچنے کاخدشہ ہے جبکہ محکمہ خوراک پنجاب خواب خرگوش کے مزے لے رہاہے، رمضان کے دو ماہ بعد ملک بھر مےں آٹے کا بحران پیدا ہونے اور مہنگا ہونے کاخدشہ ہے، ذرائع کے مطابق رحیم یارخان میں گندم کے 20خریداری مراکز رحیم یارخان 531.70میٹرک ٹن، چک64این پی 1423.69میٹرک ٹن، اقبال آباد 372.70 میٹرک ٹن، کوٹ سمابہ 1079.30میٹرک ٹن، بنگلہ منٹھار 289.55میٹرک ٹن، چک46پی 790.05میٹرک ٹن، صادق آباد330میٹرک ٹن، واحد بخش لاڑ1012.70میٹرک ٹن، جمالدین والی289.80میٹرک ٹن، نواز آباد 272میٹرک ٹن،سنجر پور416.65میٹرک ٹن،چک264پی 720.70میٹرک ٹن، رحیم آباد 236.90میٹرک ٹن، لیاقت پور784.10میٹرک ٹن، چک89/A، 1036.50میٹرک ٹن، چانجنی500میٹرک ٹن، الہ آباد606.60میٹرک ٹن، حیات لاڑ 70اے 700میٹرک ٹن، ترنڈہ محمد پناہ 341.20میٹرک ٹن، ٹھل حمزہ 546میٹرک ٹن تک خرید کرچکی ہے جو کل ملاکر12لاکھ 280.14میٹرک ٹن بنتی ہے جو مقررہ ہدف سے کوسوں دور ہے ان گندم مراکز مےں گندم کی ٹرالیان دور دور تک نظر نہیں آتی اور سرکاری ملازم فارغ بیٹھے ہوئے ہےں، گذشتہ سال 4مئی تک 80فیصد ٹارگٹ مکمل ہوچکا تھا جبکہ موجود صورتحال مےں اب تک 6.92فیصد ٹارگٹ بمشکل حاصل کیاگیا،جن کسانوں نے باردانہ لیا وہ محکمہ خوراک کو گندم کی سپلائی نہےں کررہے جبکہ محکمہ کی طرف سے جن کسانوں کو باربار فون کئےے جارہے ہےں جنہوں نے باردانہ وصول کیا تھا مگر تاحال کسان کھیتوں مےں ہی گندم فروخت کررہے ہےں۔اس سال اگرچہ بارشوں کی وجہ سے گندم لیٹ ہوئی ہے تاہم اب کسان دن رات ایک کرکے گندم کی تھریشنگ کررہاہے اور اگلے چند دنوں تک کسان گندم سے فارغ ہوجائے گا، محکمہ خوراک کے اہلکار سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال90فیصد 5مئی تک مکمل کرلیا تھا اور15مئی تک خریداری بند کردی تھی۔سیاسی وسماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گندم خریداری مراکز مےں کسانوں کا رخ کرنے پر شدید تشویش لاحق ہے ، ان کا کہنا ہے کہ فلورملزمالکان کوپابند کیا جائے کہ وہ ایک حد تک گندم خرید کرسکیں جبکہ گندم خرید کرنیوالی کاٹن فیکٹریاں، سیڈکمپنیاں اورفیڈ ملز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ کئےے جائےں اور ان کے کاپاس موجود سٹاک کو سرکاری گودام مےں منتقل کیا جائے تاکہ آنیوالے وقت مےں بحران کاخدشہ پیدا نہ ہوسکے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اوپن مارکیٹ مےں گندم کے نرخ کو بھی مستحکم کیاجائے ۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ماجد علی خان نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک گندم خریداری ٹارگٹ مقررہ وقت میں مکمل کرلے گا جبکہ گزشتہ سال کی بھی4لاکھ میٹرک ٹن گندم سٹاک مےں موجود ہے۔
تیار