پرائیویٹ سیکٹر گندم خریداری میں سب سے آگے ‘ سرکاری ادارے فیل

پرائیویٹ سیکٹر گندم خریداری میں سب سے آگے ‘ سرکاری ادارے فیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بہاولپور ‘ نور پور نورنگا ‘ بوریوالا ‘ نواں شہر ( ڈسٹرکٹ رپورٹر ‘ نامہ نگار ‘ نمائندہ پاکستان ) پنجاب بھر کی طرح ضلع بھاولپور کے تمام مراکز گندم پر ہدف حاصل کرنا انتہائی دشوار ہوگیا،خریداری(بقیہ نمبر21صفحہ12پر )


10 روز لیٹ کرنے کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر نے%65گندم کی خریداری کرلی تھی،اس بارے میں اخبارات پہلے ہی اس حوالے سے اپنے خدشات خدشات کا اظہار کر چکےہیں ،کہ دیر سے خریداری کیئے جانے کے سبب ہدف کاحصول ناممکن ہوجائے گا پنجاب بھر کے تمام مراکز گندم پر گندم پہلے ہی انٹہائی کم آرہی ہے،بچی کچہی کسر فوڈ انسپکٹرز کے گندم کے سیمپل لیئے جانے اور اس پر بے جا اعتراض لگا کر ٹرالیاں واپس کیئے جانے سے پوری کی جارہی ہے،جس کی وجہ سے کاشتکار اپنی گندم مقامی بیو پاریوں کو بیچ رہیئے ہیں،جبکہ ہدف کے حصول کیلئے گندم متعلقہ اضلاع سے باہر لے جانے پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے، مبینہ طور پرایک جانب کاشتکاروں کو کہا جارہا ہے کہ باردانہ لے جائیں اور گندم پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کرنے کی بجائے سرکاری مراکز پر لے آئیں ،مگرمراکز پر گندم کوالٹی چیک کرنے کے نام پر کاشتکاروں کو پریشان کیا جارہا ہے،اور ان کی ٹرالیاں واپس کی جارہی ہیں،محکمہ خوراک کے اہلکاران کا کہنا ہے کہ ہمیں اوپر سے ہدایات ہیں کہ انتہائی اعلی کوالٹی کی گندم خرید کی جائے ،جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں گندم کا کاروبار کرنے والے افراد شکوہ کر رپیئے ہیں کہ اوپن مارکیٹ بھی 1300 روپے فی 40 کلو گرام پر پہچ چکی ہے،اب کوالٹی کے نام پر محکمہ خوراک نہ خود خریداری کر رہا ہے نہ ہی پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کرنے دیا جارہا ہے،رہی سہی کسر ضلع بندی پوری کرکے کی جارہی ہے،اور لائسنس ہونے کے باوجود ہمارے سٹاک پر چھاپے مارے جارہیئے ہیں،بیوپاریوں کا شکوہ اپنی جگہ،لیکن اگر یہی صورت حال باقی رہی تو ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے،کیونکہ ایک تو اس سال پیداوار انتہائی کم یعنی صرف 20 من فی ایکڑ کی رہی ہے اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کی خریدی گئی گندم جو پہلے ہی افغانستان نکل چکی ہے،بچی کچھی بھی ملک سے باہر نکل جائے گی۔صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری قبل از وقت نوٹس لے کر پنجاب میں بحرانی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں۔ بہاولپورڈویژن گندم اورکپاس کی پیدوار پنجاب کے مقابلے میں40 فیصد پیداکرتاہے لیکن امسال گندم کی پیدواراوسط20 من سے زائد نہ ہے جس کی وجہ سے محکمہ خوراک گندم خرید کرنے میں پریشان ہے گندم خریداری سنٹروں پررش کی بجائے الوبول رہے ہیں عام مارکیٹ میں گندم کانرخ بہترہونے سے کاشتکار اوپن مارکیٹ میں گندم فروخت کرنے کوترجیح دے رہے ہیں محکمہ خوراک کی طرف سے گندم خریداری کی اوپن پالیسی جاری کرنے کے باوجود کاشتکارمحکمہ خوراک کوگندم فروخت کرنے سے انکاری ہے اوراب توقع کی جارہی ہے کہ اگرمحکمہ خوراک کاٹارگٹ پورانہ ہواتووہ انتظامیہ کیساتھ کاشتکاروں کے گھروں اورذخیرہ اندوزوں کے گوداموں پرچھاپے مارکرگندم برآمدکرائیں گے۔سرکاری مراکز خرید پرگندم کی خرید میں گھپلے شروع، کم معیاری گندم خریدنے کیلئے فی ٹرالی پانچ تھیلے نذرانہ لیاجانے لگاسال رواں میں گندم کی فصل میں قدرتی طورپردانہ سوکھنے سے مراکز خریدگندم پرتعینات محکمہ خوراک کے عملہ نے کسانوں سے گندم خریدنے کیلئے شرائط عائدکردیں کاشتکاروں سے فی ٹرالی پانچ تھیلے گندم لینے کے بعدان سے گندم خریدی جاتی ہے اورجوکاشتکار ایسانہیں کرتااس کی گندم کوغیرمعیاری قراردے کرمسترد کردیاجاتاہے مرکزخریداری اسرانی سے ملحقہ کاشتکاروں میاں مرغوب، محمدشاہد نے بتایاکہ اس صورتحال سے کاشتکار بہت پریشان ہیںاوروہ ومجبورا آڑھتیوں یامل اونرز کواونے پونے اپنی گندم فروخت کرنے پرمجبورہیں انہوںنے صوبائی وزیر خوراک، کمشنر بہاولپوراورڈپٹی کمشنر سے صورتحال کانوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔ کبیروالا کے مراکز خریداری گندم پر تعینات فوڈ افسران نے سیزن کے آغاز سے کرپشن کے چھکے لگا نے شروع کر دیے پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے فوڈ ڈیپارٹمنٹ حالیہ بارشوں سے متاثرہ گندم کو FAQکے معیار پر پورا اترنے والی گندم خرید نہ کرنے کے حکم کے بعد کرپٹ فوڈ افسران نے معاشی طور پر بحران کا شکار کاشتکار وں کو ذلیل وخوار کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا سرکاری طور پر فی بوری وزن 101کلوگرام مقرر کیا گیا ہے لیکن تحصیل کبیروالا کے فوڈ سنٹروں پر 102کلوگرام فی بوری کے حساب سے گندم خرید کی جارہی ہے ذرائع کے مطابق سرکاری عملے نے ،،مک مکا،،کے پرائیویٹ ٹاﺅٹ رکھ لیے ہیں جو لائن میں لگی ہوئی ٹرالیوں پر جاکر گندم کو چیک کرتے ہیں اور فورا ہی اسے ناقص قرار دے کر فورا ٹرالی کو لائن سے نکال کر واپس لے جانے کا حکم دیا جاتا ہے مگر کمزور اور قدرتی آفات سے بے حال غریب کسانوں کی منت سماجت کے بعد ،،معاملات ،،طے ہونے پر ،،مال ،،وصول کرنے کے بعد اسی ٹرالی کو ان لوڈ کردیا جاتا ہے فوڈ سنٹر جودھ پور کے ملازمین دونوں ہاتھوں سے کسانوں کو لوٹ رہے ہیں۔جب مﺅقف جاننے اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا میڈم روبینہ کوثر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں فوڈ سنٹروں پر فوری طور پر وزٹ کرتی ہوں ذمہ دار فوڈ ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کروں گی ۔