پولیس آرڈر2002بل پر سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس

پولیس آرڈر2002بل پر سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیرزراعت محمد اسماعیل راہو کی صدارت میں پولیس آرڈر2002بل پر سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزراءامتیازاحمد شیخ،سعید غنی،مشیر اطلاعات مرتضی وہاب،اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی،خواجہ اظہارالحسن،شہریار مہر، شبیر بجارانی، قاسم سراج سومرو اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ پولیس سے اختیارات واپس لینے کے لیے مجوزہ مسودہ قانون پر سلیکٹ کمیٹی نے مشاورت کی، کمیٹی ممبران نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو آرڈر 2002کو بحال کیاجائے گا پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹو پولیس آرڈر 2002ملک بھر میں نافذ کیا تھا، پولیس کی ذمہ داریوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے، پولیس کو احتساب کے دائرے میں لانا ہے۔کنوینر محمد اسما عیل راہو نے کہا کہ پولیس کے کردار ذمہ داریوں اور ڈیوٹی کو از سر نو مرتب کرنا ضروری ہے،پولیس آرڈر 2002 کی بحالی کے بعد پولیس کے انتظامی اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوجائیںگے، سلیکٹ کمیٹی پولیس آڈر2002 بل پر سفارشات مرتب کرے گی اور سندھ اسمبلی میں پیش کرے گی۔اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ اسمبلی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس 8 مئی کو دوبارہ طلب کیا ہے، پولیس ایکٹ کا مسودہ تمام ارکان کو فراہم کردیاہے،تمام ارکان کی تجاویز کو نئے ایکٹ میں شامل کیاجائے گا،نیا پولیس ایکٹ اپوز یشن ارکان کی مشا ورت سے لایا جائے گا،پالیسی سندھ سرکار بنائے گی جس پر عمل پولیس کرے گی۔ اپوزیشن رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سندھ حکومت نے پولیس ایکٹ 1861 ختم کرنا چاہتی ہے، سندھ حکومت پولیس آڈر 2002 بل کی شکل میں لائی ہے، پولیس میں تقرر و تبادلے کا دائرہ اختیار مقرر ہونا چاہئے۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ مقامی پولسنگ کا نظام ہونا چاہئے،جن تھانوں میں جرائم کی شرح بڑھی ہے وہاں احستاب کا عمل ہونا چاہئے، معاشرے کے لوگوں بالخصوص سول سوسائٹی کی رائے بھی شامل ہونی چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -