تجدید ایمان اور رمضان

تجدید ایمان اور رمضان
تجدید ایمان اور رمضان

  

سچے مسلمانوں کے ایمان کا لیول رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بام عروج پر پہنچ جاتا ہے اور وہ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ نیکیوں کی دوڑ میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ صالحین کا وطیرہ ہے کہ وہ رمضان کی آمد سے قبل ہی دعائیں شروع کر دیتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں توفیق دے تا کہ ہم رمضان کو خیریت سے گزار سکیں اور بلاشبہ مومن کا ہتھیار دعا ہے زبان نہیں۔رمضان المبارک کی پر نور فضاء میں ایمان کی تجدید ہوتی ہے۔ایمان کا مطلب صرف زبان سے کلمہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ ایمان کے معنوں میں آتا ہے کہ زبان سے کلمہ پڑھنا نہیں،دل اس کی تصدیق کرے اور ہمارے جسم کے اعضاء اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کریں۔

تقوٰی اور ایمان کا گہرا تعلق ہے، ایمان یقین کا نام بھی ہے جس میں سب سے پہلے ایمان بانصیب جس میں ایمان،توکل،اللہ سے محبت،تقدیر پر ایمان، اچھے اور برے حالات میں شکر کی بجا آوری ایک مومن کا خاصہ ہے۔ایمان کی مثال ایک بیج کی سی ہے۔جس کے بونے سے درخت پروان چڑھتا ہے بلکل ایسے ہی ایمان کا لیول جس حد تک بلند ہو گا اتنا ہی تناور درخت یعنی سچا مومن،بنے گا،نیکیاں اس درخت کی ٹہنیاں ہوں گی۔ایسے ہی اللہ والوں کی زندگی میں نیکیوں کی فراوانی شامل ہوتی ہے جو کہ سال بھر جاری رہنے کے باوجود رمضان المبارک میں عروج پر ہوتی ہے جس میں احساس کا جذبہ سر فہرست ہوتا ہے۔اللہ سے محبت کرنے والے اللہ کی مخلوق کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔جبکہ انسان کاایمان اعلیٰ درجے کا نا ہونے پر اس کے اندر موجود کم درجے کے ایمان کی بدولت اس کی نیکیوں کو سفر بھی زیادہ طویل نہیں ہو گا۔اس کی زندگی زیادہ تر اپنی ذات تک ہی محدود رہتی ہے۔کھایا،پیا،روزہ رکھا اور پھر کھول لیا۔ایمان کے ساتھ ہی نیک اعمال قبول ہوں گے۔اس لیے اس رمضان میں زبان،دل اور جسمانی اعضاء کو درست رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

اگر کسی انسان کا نیکی کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے ایمان کا لیول گر رہا ہے۔نیکی کرنے میں سست کا مظاہرہ کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ایمان اعلیٰ درجے کا نہیں رہا بلکہ اس کا لیول کم ہو رہا ہے۔اللہ کی قربت کے حصول میں سب سے اہم چیز اس کی کائنات میں غور و فکر کرنے اور سجدوں کی فراوانی ممکن ہے۔اس لیے ماہ مبارک میں فرض نمازوں کے علاوہ دیگر عبادت کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ایمان دلوں کو خوبصورت کر دیتا ہے سچے مومن کی حرمت اللہ کے ہاں بہت زیادہ عزیز ہے۔اگر رمضان المبارک میں ہم سب اپنی ذات کا محاسبہ کر کے اللہ کی قربت کے متمنی ہیں تو ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا ہو گا۔جس سے ہمیں مندرجہ ذیل فوائد نصیب ہوں گے۔ایمان والا اللہ کا مقرب بن جاتا ہے۔اس کی بدولے جنت میں داخلہ ہو گا۔ایمان ہی کی وجہ سے ہدائت ملتی ہے۔ ایمان کی وجہ سے ایک خاص روشنی ملتی ہے۔ ایمان والوں کو حیات طیبہ ملتی ہے۔ ایمان کی وجہ سے دوہری کامیابی ملتی ہے اور موت کے وقت فرشتے ہاتھ میں خوبصورت رومال لے کر آئیں گے اور خوشخبری دیں گے نفس مطمئنہ کی۔قبر میں سوال و جواب کے وقت ایمان والوں اللہ جوابات دینے کی استقامت نصیب کریں گے،ایمان والوں کے لیے ہی دنیا و آخرت میں خوشخبریاں ہیں اور ایمان والوں کو بلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔اکٹھے ہو کر کسی محفل میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو فرشتے اس محفل کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ایمان کو بنک بیلنس سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے جو وقتاً فوقتاً بڑھایا جا سکتا ہے۔

نا دولت سے نا دنیا سے نا گھر آباد کرنے سے

سکون قلب ملتا ہے خدا کو یاد کرنے سے

نظروں کے غلط استعمال سے ایمان کم ہوتا ہے حسد کرنے سے،لوگوں کے عیب تلاش کرنے سے،ذیادہ کھانے سے،جھوٹ بولنے سے،گناہ کا ہر کام بوجھ ہے،دنیاوی باتیں ذیادہ کرنے سے ایمان کم ہوتا ہے ایمان کی تجدید کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔اللہ ہمیں زندگی و موت ایمان والی نصیب کرے۔آمین ثمہ آمین

مزید : تجزیہ /رائے